جنوبی افریقہ میں چند دن کی حاضری

نومبر کے آغاز میں مجھے چند روز کے لیے جنوبی افریقہ جانے کا موقع ملا۔۳۱ اکتوبر اور یکم و نومبر کو کیپ ٹاؤن میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ نے جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشل کونسل کے تعاون سے بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کر رکھا تھا اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سر براہ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی نے مجھے بطور خاص اس میں شرکت کی دعوت دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

اقوام متحدہ میں ’’بین المذاہب کانفرنس ‘‘

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’’بین المذاہب کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جو دو روز جاری رہی اور اس میں کم و بیش ۷۰ ممالک کے سربراہوں، وزرائے خارجہ، سفیروں اور دیگر حکام نے شرکت کی جن میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش، پاکستانی صدر آصف علی زرداری، برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، اسرائیلی صدر شمعون پیریز، افغان صدر حامد کرزئی، اردن کے شاہ عبد اللہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ یہ کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبد اللہ کی تحریک پر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

امریکہ سے پاکستانیوں کی نفرت کے اسباب

روزنامہ امت کراچی ۵ نومبر ۲۰۰۸ء کی خبر کے مطابق لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے پرنسپل آفیسر جناب برائن ڈرہنٹ نے رحیم یار خان میں مسلم لیگی راہنما چوہدری جعفر اقبال سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ بھارت کی نسبت پاکستان کو عوامی فلاح اور تعمیر و ترقی کے لیے منصوبوں کے لیے کئی گنا زیادہ امداد دیتی ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستانی امریکہ سے نفرت کیوں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

وفاقی وزیر مذہبی امور کی وضاحت کا خیر مقدم

روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۸ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی نے قومی اسمبلی میں مولانا عطاء الرحمن اور صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراض پر کہا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف ملک میں کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، اور اسلامی نظریاتی کونسل نے حال ہی میں نکاح و طلاق کے قوانین میں جن ترامیم کی سفارش کی ہے انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی تکمیل کے بعد کونسل میں ہی نظرثانی کے لیے دوبارہ پیش کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کی عدالت کا افسوسناک فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ جو ن ۲۰۰۸ء کے مطابق ڈنمارک کی اپیل کورٹ نے ڈنیش اخبار ’’جیلینڈر پوسٹن‘‘ میں جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ کارٹونوں کی اشاعت کے حوالہ سے مسلمانوں کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے، جس میں ایک ماتحت عدالت کے اس فیصلے کے خلاف رٹ دائر کی گئی تھی کہ نبی کریمؐ کے ۱۲ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کوئی قابل اعتراض (نعوذ باللہ) عمل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

سزائے موت کے قیدیوں کو عمر قید کی سزا

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس سلسلہ میں سمری صدر کو بھجوائی جا رہی ہے۔ اس پر ایک طرف سزائے موت کے قیدیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن دوسری طرف ان مقتولین کے گھروں میں ایک بار پھر صفِ ماتم بچھ گئی ہے جن کے جگر گوشوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت کے ان قیدیوں کو مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں اور انڈونیشیا کی حکومت کا فیصلہ

مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کو ایک سو سال مکمل ہونے پر جہاں قادیانی جماعت دنیا بھر میں صد سالہ تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے وہاں پاکستان میں اس کی سر گرمیوں میں اضافے کی خبریں بھی منظر عام پر آ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں قادیانی اسٹوڈنٹس کی ایسی سر گرمیوں کا نوٹس لیا گیا ہے جو طلبہ اور طالبات میں قادیانیت کے پر چار کے لیے کی جا رہی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی کا قیام اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری

اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام نے لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے سانحہ کے سلسلہ میں رائے عامہ کو منظم و بیدار کرنے کے لیے ’’لال مسجدعلماء ایکشن کمیٹی ‘‘ کے نام سے فورم قائم کر کے ۶ جولائی کو لال مسجد میں جلسہ کرنے اور وہاں سے احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ’’لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی‘‘ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کا فیصلہ

پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالہ سے متعلقہ اداروں کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ اور اس پر بحث و مباحثہ کے بعد جو قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے اس میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ ترمیم بھی شامل کر لی گئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لے کر قومی سلامتی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی، نیز عسکریت اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات پہلی ترجیح ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۸ء

سید ابوالحسن علی ندویؒ اکیڈمی اور الاقتصاد اسلامک سوسائٹی کی تقریبات میں شرکت

جنوری کو دو اہم تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ہال میں سید ابوالحسن علی ندویؒ اکیڈمی کے زیر اہتمام مضمون نویسی کے ایک بین الاقوامی مقابلہ کی تکمیل پر انعامات کی تقسیم کے لیے سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کی اور اس سے دیگر ممتاز اصحاب فکر و دانش کے علاوہ معروف اسکالر جناب احمد جاوید نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۱۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter