ہانگ کانگ میں مسلمانوں کی سرگرمیاں
ربیع الاول کے وسطی عشرہ میں مجھے چار پانچ روز کے لیے ہانگ کانگ جانے کا موقع ملا ۔ ہانگ کانگ مشرق بعید کا ایک اہم جزیرہ ہے جو کم و بیش ایک صدی تک برطانیہ کے زیرنگیں رہا اور ۱۹۹۷ء میں عوامی جمہوریہ چین نے اسے برطانیہ سے واپس لیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں جب پوری دنیا میں برطانیہ کا طوطی بولتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ برطانیہ عظمٰی کی سلطنت اس قدر وسیع ہے کہ اس میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلمان ممالک کا اسرائیل کو دہشت گرد قرار دینے پر اتفاق
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ فروری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں گزشتہ دنوں بچوں کے بارے میں منعقد ہونے والی مسلمان ملکوں کی دوسری سالانہ بین الاقوامی کانفرنس میں ۳۶ مسلمان ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے اسے دنیا میں مسلمانوں کے اجتماعی فورم کی طرف سے دہشت گرد ملک کے طور پر متعارف کرانے کی مہم چلائی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالم اسلام کے خیالات اور امریکہ
روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ کی وزیر خارجہ محترمہ ہیلری کلنٹن گزشتہ روز جب انڈونیشیا کے دورے پر پہنچیں تو انڈونیشیا کے کئی شہروں میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی صورت میں عوام نے امریکہ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا، بلکہ انڈونیشیا کی ایک بڑی مسلمان تنظیم محمدیہ کے سر براہ جناب شمس الدین نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ دعوت میں شرکت کی دعوت مسترد کر کے امریکہ کو انڈونیشیا عوام کے جذبات سے باخبر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوات میں نفاذ شریعت اور سیکولر حلقوں کی جھنجھلاہٹ
مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے معاہدہ نے دنیا بھر کے سیکولر حلقوں میں بے چینی کی لہر پیدا کر دی ہے اور ہر سطح پر اس پر جھنجھلاہٹ کا اظہار مسلسل جاری ہے۔ حالانکہ یہ سادہ سی بات ہے کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کا ایک مدت سے مطالبہ تھا کہ انہیں شرعی عدالتوں کا نظام فراہم کیا جائے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق سے قبل وہاں شرعی عدالتوں کا جو نظام موجود تھا اس میں انہیں جلد اور سستے انصاف کی سہولت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سانحۂ ساہیوال اور ریاستی نظامِ امن و عدل
سانحۂ ساہیوال نے پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور اس کا ارتعاش قومی زندگی میں ہر سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ جس طرح ایک پر امن فیملی کو جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے گولیوں سے بھون کر رکھ دیا گیا اس نے امن و امان اور عدل و انصاف کے نظام پر ایک عرصہ سے چلے آنے والے سوالیہ نشان کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ قوم کی اعلیٰ ترین سطح پر اس کی ایک جھلک آج کے قومی اخبارات میں شائع ہونے والی درج ذیل خبروں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نواستعماری عزائم اور ایجنڈے پر دو اہم کتابیں
بہت سے احباب کو بعض معاملات میں مجھ سے شکایت رہتی ہے مگر ان دوستوں کے تمام تر خلوص و محبت کے باوجود ایسی شکایات کا ازالہ میرے بس میں نہیں ہوتا۔ مثلاً وقتاً فوقتاً مختلف مقامات میں دینی و علمی تقریبات میں شریک ہوتا ہوں تو وہاں کے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس تقریب کے حوالہ سے کالم لکھوں اور اس میں کی جانے والی گفتگو بھی ریکارڈ میں لاؤں، جو کہ اس لیے ناقابل عمل ہو جاتا ہے کہ یہ کالم پھر اسی کام کے لیے مخصوص ہو جائے گا اور باقی اہم موضوعات نظرانداز ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اقوام متحدہ یا پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت؟
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب حسین عبد اللہ ہارون نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں جمہوریت نہیں بلکہ پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت ہے۔ روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء کے مطابق ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے میزبان جاوید چوہدری سے بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے ان تاثرات کا اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کی کاروائی
روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن پروفیسر محمد ابراہیم نے قومی اسمبلی کی اسپیکر محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے نام ایک خط میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے پہلے پارلیمنٹ میں مسلسل کئی روز تک اس مسئلہ پر جو مباحثہ ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت کا درجہ دینے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بلوچستان میں شرعی عدالتوں کی بحالی
روزنامہ پاکستان لاہور کی خبر کے مطابق بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتیں بحال کر دی گئی ہیں، اور بلوچستان کی پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر جناب لشکری رئیسانی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام دیوانی کیسوں کے متعلق جلد اقدامات اٹھانے کے خواہاں ہیں اس لیے عوام کی خواہش پر بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتوں کو بحال کیا گیا ہے۔ خبر میں اس سے زیادہ کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان شرعی عدالتوں کی ہیئت اور طریق کار کیا ہے اس کے بارے میں سرِ دست کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فلسطینی عوام کی مظلومیت اور مسلم حکمرانوں کی خاموشی
روزنامہ پاکستان ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی ربی موردافے الیاہو نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ فلسطینی عورتوں اور بچوں کا قتل عام جائز ہے اور ایسا اقدام کرنے والوں کو مجرم تصور نہ کیا جائے بلکہ اگر دس لاکھ فلسطینی بھی قتل ہو جائیں تو پرواہ نہ کی جائے۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو کاروائی ہو رہی ہے وہ یہودی ربی کے بقول یہودیوں کی ان تعلیمات کے مطابق ہے جن میں کہا گیا ہے کہ دشمنوں کو اجتماعی سزا دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 200
- 201
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »