دنیا میں مسلمانوں کی تعداد اور ہماری مجموعی صورتحال
روزنامہ پاکستان لاہور کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے ہر چار میں سے ایک شخص مسلمان ہے اور ان کی مجموعی تعداد ایک ارب ستاون کروڑ ہے جس میں ساٹھ فیصد ایشیائی ملکوں میں رہتے ہیں۔ ’’فورم آف ریلیجین اینڈ پبلک لائف‘‘ کی رپورٹ تیار کرنے میں تین سال صرف ہوئے، اس میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی کل تعداد میں سے بیس فیصد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہتے ہیں، جرمنی میں لبنان سے زیادہ مسلمان ہیں جبکہ روس میں ان کی تعداد لیبیا اور اردن کے مسلمانوں سے زیادہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کرنے کی تجویز
روزنامہ جناح لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ آئین میں ترامیم تجویز کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اے این پی نے یہ تجویز دی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کر کے عوامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا جائے اور ایم کیو ایم بھی اس تجویز کی حمایت کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی دستوری اصلاحات کمیٹی اس وقت دستور میں ضروری ترامیم تجویز کرنے پر کام کر رہی ہے اور اس کے سامنے سیکولر حلقوں کی طرف سے اس قسم کی تجاویز بھی آرہی ہیں کہ ملک کا نام تبدیل کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فوجوں کے ذریعے دل جیتنے کا فارمولا
روزنامہ پاکستان لاہور ۱۶ نومبر ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق افغانستان میں برطانیہ کے سینئر کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نک پارکر نے، جو افغانستان میں نیٹو افواج کے ڈپٹی کمانڈر بھی ہیں، ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کے لیے بہتر جنگی ساز و سامان کی نہیں بلکہ لوگوں کے دل اور ذہن کو جیتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں جنگ جیتنے کے لیے مزید اور جدید ہتھیاروں کی ضرورت نہیں بلکہ نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دیوبندی جماعتوں کی خصوصی توجہ کے لیے
۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کو لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام (س) پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی کی دعوت پر دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی ایک درجن سے زائد جماعتوں کی صوبائی قیادتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد موجودہ ملکی صورتحال اور اس کے تناظر میں علماء دیوبند کے خلاف پروپیگنڈے میں مسلسل اضافے کا جائزہ لینا اور کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اجلاس میں طے پایا کہ صوبائی سطح پر ایک مجلس مشاورت قائم کی جائے جو باہمی مشاورت اور اشتراک عمل میں اضافہ کے لیے محنت کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اربعین ولی اللّٰہی کا درس
دارالہدٰی (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہر سال حدیث نبویؐ کے کسی نہ کسی موضوع پر درس ہوتا ہے اور اصحابِ ذوق اس میں اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔اس سال جولائی کے آخری ہفتہ کے دوران کئی روز تک حضرت امام ولی اللہ دہلوی کی روایت کردہ درج ذیل اربعین کے درس کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علی ذٰلک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرضوں کی معافی کو غیر قانونی قرار دینے کا تاریخی فیصلہ
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۰۹ء میں شائع شدہ خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے بینکوں سے حاصل کی گئی رقوم کی معافی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو حکم دیا ہے کہ وہ ۱۹۷۱ء سے اب تک بینکوں سے معاف کرائے جانے والے قرضوں کی فہرست پیش کرے اور ان کی واپسی کے لیے نظام کار وضع کیا جائے۔ چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے، جس میں جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس خلجی عارف حسین شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
این آر او کا خاتمہ اور مسئلہ کا اصل حل
عدالت عظمیٰ نے ’’قومی مفاہمت آرڈیننس‘‘ (NRO) کو دستور پاکستان سے متصادم قرار دے کر ختم کرنے کا جو تاریخی اعلان کیا ہے اس پر ہر محبت وطن شہری خوش ہے اور اب کسی حد تک یہ توقع نظر آنے لگی ہے کہ قومی سیاست میں کرپشن، بددیانتی اور ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے افسوسناک رجحانات میں کمی آئے گی اور ملک میں صحت مند سیاست کا آغاز ہو سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خودکش حملے اور حکومتی پالیسیاں
ان دنوں خودکش حملوں کے خلاف علماء کرام کے اجتماعی فتویٰ کے لیے سر کاری حلقوں کی طرف سے کوششیں جاری ہیں، وفاقی وزیر داخلہ کراچی کا دورہ کر چکے ہیں اور وفاقی وزارت مذہبی امور نے اسلام آباد میں سر کردہ علماء کرام کا ایک اجلاس منعقد کیا ہے مگر مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ ۱۳ دسمبر ۲۰۰۹ء کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب محمد شہباز شریف نے صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی اجلاس لاہور میں طلب کیا تھا جو دراصل محرم الحرام کے دوران امن و امان سے متعلقہ مسائل و امور کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا فضل الرحمان کیا کر رہے ہیں؟
ان دنوں جہاں بھی جا رہا ہوں ایک سوال کا کم و بیش ہر جگہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کیا کر رہے ہیں اور ان کا رخ کدھر ہے؟ میرا جواب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ رخ تو ان کا صحیح سمت ہی ہے البتہ رفتار اور لہجے کے بارے میں کبھی کبھی سوچنے لگ جاتا ہوں کہ کیا وہ ضرورت سے زائد تو نہیں ہے؟ ہماری مقتدر قوتوں اور میڈیا دونوں کی یہ مجبوری چلی آرہی ہے کہ ہر الیکشن سے پہلے وہ اس بات کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ قومی سیاست میں دینی حلقوں کے تناسب کو کم سے کم کرنے کا ماحول پیدا کیا جائے، مکمل تحریر
حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا مشن
حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود ان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور جامعہ اشرفیہ لاہور میں دورۂ حدیث شریف کے طلبہ کو بخاری شریف کے اسباق پڑھانے کے علاوہ مختلف علماء کرام سے ملاقاتوں اور دینی و قومی معاملات میں گفتگو اور راہنمائی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ شب مولانا عبد الرؤف فاروقی، قاری محمد عثمان رمضان اور اپنے دو پوتوں ہلال خان اور ابدال خان کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ حاضر ہوا تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 200
- 201
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »