’’حسبہ بل‘‘ کی راہ میں رکاوٹیں

سرحد کی صوبائی اسمبلی کی طرف سے ’’حسبہ بل‘‘ کی دوبارہ منظوری کے بعد اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور عدالت عظمیٰ نے اس پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے گورنر سرحد کو اس وقت تک اس بل پر دستخط کرنے سے روک دیا ہے جب تک اس کے بارے میں عدالت عظمیٰ کوئی فیصلہ نہیں کر دیتی۔ دوسری طرف سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب محمد اکرم درانی نے کہا ہے کہ یہ بل سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق از سر نو ترتیب دیا گیا تھا اور اس میں اپوزیشن کی ترامیم کو بھی شامل کیا گیا ہے اس لیے اس پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷

ایک نئے ’’حقوق نسواں بل‘‘ کی تیاریاں

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ پارلیمنٹ کی منظوری اور صدر کے دستخط کے بعد اب ایکٹ کی صورت اختیار کر چکا ہے اور قانون کے طور پر ملک میں نافذ ہوگیا ہے۔ مگر حکمران طبقے اس ’’دھکا شاہی‘‘ میں کامیاب ہوجانے کے بعد بھی اندر سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کے ضمیر کی ملامت ان بیانات کی صورت میں مسلسل سامنے آرہی ہے جو وہ حدود شرعیہ اور دینی حلقوں کے بارے میں دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

پنجاب یونیورسٹی کا ’’عذر لنگ‘‘

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن آف پاکستان نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی شہادۃ العالمیہ کی سند کو ایم اے عربی و اسلامیات کے برابر تسلیم کر رکھا ہے اور اس کی بنیاد پر ملک کی متعدد یونیورسٹیاں وفاق المدارس کے فضلاء کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سہولت دے رہی ہیں۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی شہادۃ العالمیہ کی بنیاد پر ایک سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے کہ اس سند کے حامل کو تعلیمی مقاصد کے لیے ایم اے اسلامیات و عربی کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں اور لاہور ہائیکورٹ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مارچ ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس تصدق حسین گیلانی نے فیصل آباد کے ایک نو عمر جوڑے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لو میرج کیسوں میں عدالتوں کی ہمدردیاں والدین کے ساتھ ہوتی ہیں مگر قانون گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کا ساتھ دیتا ہے، ایسی صورتحال میں عدالتیں معاشرے میں شرمناک سمجھے جانے والے اس فعل کو روک سکتی ہیں اور نہ ایسے جوڑوں سے کوئی زبردستی کر سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

مدارس اور مغربی حکومتیں

دینی مدارس کے بارے میں مغربی ممالک کی دلچسپی اور سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک کے سفارت کار، این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے دینی اداروں کے ساتھ روابط اور ان کے حوالہ سے معلومات حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مالی تعاون اور فنی امداد کی پیشکشیں ہو رہی ہیں، اصلاحات کی باتیں ہو رہی ہیں، مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، انہیں اجتماعی دھارے میں لانے کے عزائم ظاہر کیے جا رہے ہیں اور انہیں معاشرہ کا ’’کارآمد حصہ‘‘ بنانے کی نوید سنائی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

غربت اور دہشت گردی

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ مارچ ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کبیر والا کے دورہ کے موقع پر استقبال کے لیے آنے والوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی دیوار دہشت گرد ہیں اور غربت کے خاتمہ سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا تعلق ہے ہمیں صدر جنرل پرویز مشرف کے جذبہ سے اتفاق ہے لیکن ان کا تجزیہ ہمارے نزدیک بہرحال محل نظر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

تعلیمی اداروں میں ہوش ربا فیسیں

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ نے ۱۵ مارچ ۲۰۰۷ء کو ایک خبر شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ہوش ربا فیسوں کو طلبہ اور والدین کے لیے بوجھ قرار دیتے ہوئے وفاقی وزارت تعلیم سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مانیٹرنگ کا مؤثر نظام وضع کرے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی نے سردار عاشق گوپانگ کی زیر صدارت ایک اجلاس میں سرکاری کالجوں میں بھی طلبہ سے کالج فنڈ کی وصولی کو ٹیکس قرار دیا ہے اور اسے بند کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

تھائی لینڈ میں شراب پر پابندی کے اقدامات

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۵ مارچ ۲۰۰۷ء کو اے پی پی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ تھائی لینڈ کی حکومت نے شراب اور الکوحل کے اشتہارات پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ خبر کے مطابق وزیر صحت مونگ کول نا نے بتایا ہے کہ حکومت کی طرف سے اس قانون کو بہت جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سکولوں، مندروں اور حکومتی دفاتر کے قریب شراب فروخت کرنے پر پابندی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

ملک کا عدالتی بحران اور حکومت کی ذمہ داری

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب محمد جسٹس افتخار چودھری کو غیر فعال کرنے کے بعد جبری رخصت پر بھیجے دینے کی کاروائی سے ملک میں جو بحران پیدا ہوا ہے اس کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔ پورے ملک کی وکلاء برادری اس پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور انہیں اس سلسلہ میں اپوزیشن کی سیاسی و دینی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جسٹس محمد افتخار چودھری جب سے ملک کی عدالت عظمیٰ کے سربراہ بنے ہیں تب سے قومی اور عوامی نوعیت کے مقدمات میں ان کی دلچسپی نمایاں رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا مسئلہ

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) نے بھی حکومت سے سفارش کر دی ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ دوبارہ بحال کیا جائے اور اس سلسلہ میں دینی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش کو ختم کیا جائے۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ اب سے ربع صدی قبل اس وقت کیا گیا تھا جب قادیانیوں کو ملک کے دستور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اور یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ قادیانی گروہ اپنے بارے میں عالم اسلام کے دینی مراکز اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter