مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی

ہفت روزہ وزارت گوجرانوالہ نے ۲۴ اپریل ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں ’’آن لائن‘‘ کے حوالہ سے یہ خبر دی ہے کہ ممبئی بھائی ہائیکورٹ نے مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی کو جائز قرار دے دیا ہے۔ خبر کے مطابق مسلمان لڑکے عمر اور ہندو لڑکی پرانیکا کی شادی کو پرانیکا کے خاندان والوں نے قبول نہیں کیا اور اس شادی کے خلاف ہندو تنظیموں بجرل دل اور آر ایس ایس نے ممبئی ہائیکورٹ میں مقدمہ درج کرا دیا، جس میں ان کا موقف یہ تھا کہ عمر نے پرانیکا کو اغوا کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

مسئلہ فلسطین اور برطانوی وزیر خارجہ بالفور کا موقف

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ اپریل ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کے قتل کو جائز قرار دے دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ۹ نومبر ۲۰۰۵ء کو اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی کو راہ چلتے شہید کر دیا تھا جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب ممالک نے صدائے احتجاج بلند کی، اسرائیلی سپریم کورٹ نے اس احتجاج کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فلسطینیوں کو قتل کرنا جائز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

حدود آرڈیننس کے خلاف خواتین کا مظاہرہ

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تیس کے قریب این جی اوز کی خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا اور حدود آرڈیننس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے بارے میں تمام امتیازی قوانین کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس سے قبل جسٹس ماجدہ رضوی کی سربراہی میں خواتین کمیشن کی طرف سے حدود آرڈیننس کی منسوخی کی سفارش سامنے آچکی ہے جس کی حمایت میں اس مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۳ء

مسلم حکمرانوں کو مہاتیر محمد کی تلقین

روزنامہ اسلام لاہور سے ۱۷ ستمبر ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور میں نوجوان مسلمان راہنماؤں کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مہارت اور ٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مغربی ترقی تک پہنچنا ہوگا تاکہ انہیں اسلام کی تضحیک اور تمسخر اڑانے سے روکا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۳ء

کیا خلافت کا نظام ناقابل عمل ہے؟

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں کمال اتاترک جیسی اصلاحات نافذ نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی خلافت کا نظام قابل عمل ہے ۔جہاں تک مصطفی کمال اتاترک جیسی اصلاحات کے نفاذ کا تعلق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا نفاذ کسی بھی مسلمان ملک میں ممکن نہیں رہا، اس لیے کہ وہ اصطلاحات خود ترکی میں کامیابی کی منزل حاصل نہیں کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۳ء

مسیحی جوڑے کا نکاح اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

ماہنامہ نصرت العلوم کے ستمبر کے شمارے میں ہم نے لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر کیا تھا جس میں ایک مسیحی جوڑے کے نکاح کے حوالہ سے کہا گیا تھا کہ چونکہ اقوام متحدہ کے منشور میں بالغ لڑکے اور لڑکی کو باہمی رضا مندی سے شادی کرنے کا حق دیا گیا ہے، اس لیے اگر وہ خود کو کورٹ میں میاں بیوی کے طور پر رجسٹرڈ کرا لیں تو ان کے لیے نکاح کے حوالہ سے مذہبی قوانین اور اور طریق کار کی پابندی ضروری نہیں رہتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۳ء

کرائے کے شوہر

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ نے ۹ اکتوبر تا ۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں سی این این کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ ماسکو میں کرائے پر شوہر فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ سروس کا آغاز ہوگیا ہے۔ نینا راکمانین نامی خاتون نے بے شوہر خواتین کے لیے ایک سروس شروع کی ہے جس کے تحت مذکورہ خواتین گھنٹوں، دنوں یا مہینوں کے حساب سے شوہر کرائے پر حاصل کرکے ان سے گھر کے ضروری کام کاج کرا سکیں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۳ء

امریکہ میں دینی مصروفیات

میں ۱۹ ستمبر ۲۰۰۳ء سے امریکہ ہوں اور رمضان المبارک کے دوسرے ہفتہ کے دوران واپسی کا ارادہ ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی قریب ریاست ورجینیا کے علاقہ اسپرنگ فیلڈ میں دارالہدیٰ کے نام سے ایک دینی مرکز قائم ہے جس میں مسجد کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تعلیم کا مکتب اور طالبات کے لیے اسکول بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے بانی و منتظم مولانا الحمید اصغر نقشبندی کا تعلق بہاولپور سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۳ء

حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی قبر کی بے حرمتی

اخبارات میں ان دنوں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کی قبر کی بے حرمتی کے حوالہ سے احتجاج کی خبریں اور بیانات شائع ہو رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ تھانہ بھون (انڈیا) میں حضرت تھانویؒ کی قبر کی کچھ انتہا پسند ہندوؤں نے بے حرمتی کی ہے جس پر احتجاج کیا جا رہا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعہ کا سرکاری طور پر نوٹس لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

قرآن کریم کے چالیس پارے

سینٹ میں متحدہ حزب اختلاف نے وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف کے اس بیان کے خلاف تحریک التوا جمع کرا دی ہے جس میں انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیسری جماعت سے آٹھویں جماعت تک بچوں کو چالیس پارے پڑھائے جائیں گے تاکہ انہیں مدرسہ جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ تحریک التوا میں ارکان سینٹ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم کے اس بیان سے پاکستانی قوم کو شدید دکھ ہوا ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter