دہشت گردی کے بعد رجعت پسندی کے خلاف جنگ

ایک مقتدر شخصیت کا یہ بیان پڑھ کر ذہن میں ایک نیا مخمصہ ابھر آیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کے بعد اب رجعت پسندی سے جنگ ہوگی۔ خدا جانے ان کے سامنے رجعت پسندی کا کونسا نقشہ ہے مگر یہ بات بہرحال فکر و نظر کو متوجہ کرنے لگی ہے کہ دہشت گردی کا تو ابھی تک کوئی واضح مفہوم طے نہیں پا سکا اور عالمی، علاقائی یا قومی دائروں میں یہ فیصلہ بہرحال ارباب حل و عقد کے ہاتھ میں ہی ہے کہ وہ جسے چاہیں دہشت گرد قرار دے کر قابل گردن زدنی ٹھہرا دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ دسمبر ۲۰۱۸ء

جامعہ حفصہ للبنات اسلام آباد کو گرانے کا نوٹس

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جنوری ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق دینی مدارس کے وفاقوں کے اتحاد نے وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق کے ساتھ مذاکرات سے معذرت کر لی ہے اور اس امر پر احتجاج کیا ہے کہ حکومت ایک طرف تو دینی مدارس کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہی ہے اور دوسری طرف دینی مدارس پر دباؤ اور ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے سختی کے ساتھ اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

میڈیا اور ٹی وی کی تباہ کاریاں

عید الفطر کے موقع پر عراق کے سابق صدر صدام حسین کو جس انداز سے پھانسی دی گئی اور اس کی جس بھونڈے انداز میں تشہیر کی گئی اسے دیکھ کر بعض اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک پاکستان، سعودی عرب اور امریکہ سمیت مختلف مقامات پر سات بچے اس پھانسی کی نقل اتارتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پاکستان میں رحیم یار خان کے مقام پر ایک بچے نے صدام حسین کی پھانسی کی فلم دیکھ کر اپنے گلے میں رسی ڈال لی اور لٹک کر جان بحق ہوگیا اور اسی طرح کے واقعات دوسرے مقامات میں بھی ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

غیر فطری نظام کا منطقی نتیجہ

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق امریکہ میں خاوند کے بغیر رہنے والی خواتین اب اکثریت اختیار حاصل کر گئی ہیں۔ خبر کے مطابق نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۰۰ء میں بغیر خاوند کے رہنے والی خواتین کا تناسب ۴۹ فیصد تھا جو ۲۰۰۵ء میں بڑھ کر ۵۱ فیصد ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ طلاق یا بیوہ ہونے کی صورت میں عورتیں دوسری شادی سے گریز کرنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

بیرونی ممالک میں فضلائے نصرۃ العلوم کی سرگرمیاں

عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران مجھے آٹھ دس روز کے لیے برطانیہ جانے کا موقع ملا اور مختلف شہروں میں علمائے کرام اور دینی احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم، ابراہیم کمیونٹی کالج لندن اور مدینہ مسجد آکسفورڈ میں اجتماعات سے خطاب کے علاوہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے بعض فضلاء کے ہاں جانے اور ان کی سرگرمیوں سے آگاہی کا بھی اتفاق ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

گوجرانوالہ میں خاتون صوبائی وزیر کا قتل

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون صوبائی وزیر مسز ظل ہما عثمان کو کھلی کچہری کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ قاتل گوجرانوالہ کا شہری ہے جو اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو بدکاری کے الزام کے حوالہ سے قتل کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے خاتون صوبائی وزیر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قتل کیا ہے کیونکہ وہ بے پردہ پھرتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عورت کی حکمرانی کو بھی شرعاً جائز نہیں سمجھتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ پر پابندی

حکومت نے الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کو خلاف قانون قرار دے کر ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے اور ملک بھر میں ان کے دفاتر سربہ مہر کر دیے ہیں۔ اس اقدام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کی رو سے یہ ضروری ہوگیا تھا اس لیے یہ کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ ہمارے ملک کی دو بڑی دینی شخصیات حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اور حضرت مولانا حکیم محمد اخترؒ کے قائم کردہ رفاہی ادارے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

حسبہ بل اور سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرحد اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ’’حسبہ بل‘‘ کی بعض شقوں کو خلاف دستور قرار دے دیا ہے اور بعض خبروں کے مطابق صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل (MMA) کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حسبہ بل کو از سر نو مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ حسبہ بل کا مقصد صوبہ میں اسلامی احکام و شعائر کی پابندی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک سرکاری نظام قائم کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

سپریم کورٹ کا شریعت ایپلٹ بینچ اور یورپی یونین کا جی ایس پی پلس تجارتی معاہدہ

ہمارے جیسے کچھ لوگ ملک میں فکری، معاشرتی اور دینی و قومی مسائل کا جو واویلا کرتے رہتے ہیں اس کا دائرہ کار کوئی عوامی تحریک نہیں بلکہ ’’توجہ دلاؤ تحریک‘‘ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ کسی عوامی تحریک کا اس کے سوا کوئی امکان باقی نہیں رہا کہ بڑی دینی اور نظریاتی جماعتوں کی قیادت مل بیٹھے اور ملک کو درپیش سنگین مسائل کا احساس و ادراک کرتے ہوئے رائے عامہ کو منظم و متحرک کرنے کا کوئی راستہ نکالے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۲۰۱۵ء

اسلام کے جدید یورپی برانڈ کی تیاریاں

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۵ء کی اشاعت میں ’’نیوزویک‘‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یورپ کی حکومتیں معتدل مسلمانوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اکثر بیرون ملک سے آنے والے مسلمان امام اسلام کا (ان کے بقول) غلط مطلب نکال کر مسلمانوں کے کان بھر رہے ہیں۔ نیوزویک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سویٹزرلینڈ کے بشپ سے لے کر ڈینش وزراء تک سبھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یورپ اپنے برانڈ کا جدید ترین اور یورپی رنگ میں رنگا ہوا اسلام ایجاد کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter