اسلامی تعلیم کے نصاب میں تبدیلی کے اقدامات

ان دنوں پھر اعلیٰ سطح پر ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے اسلامی تعلیمات کے نصاب میں تبدیلی کی باتیں گردش کر رہی ہیں اور صدر پرویز مشرف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ نصاب فرقہ واریت کا باعث بن رہا ہے اس لیے اس کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ دراصل مغرب کے دباؤ کے باعث ہمارے حکمران طبقے ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہیں کہ ملک کے سرکاری نصاب تعلیم میں اسلامی تعلیمات کا جتنا کچھ مواد موجود ہے اسے اگر ختم نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

دوپٹہ اختیاری نہیں دینی فریضہ ہے

گزشتہ روز اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر میں طلبہ و طالبات کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ عورت کی مرضی ہے کہ وہ دوپٹہ لے یا نہ لے ، کسی پر اس سلسلہ میں جبر نہیں کیا جا سکتا۔ صدر جنرل پرویز مشرف اس قسم کے خیالات کا اظہار اس سے قبل بھی کئی بار کر چکے ہیں لیکن ایسا کہتے ہوئے وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

حضرت مولانا عزیر گلؒ

۱۳ اپریل ۲۰۰۶ء کو شیر گڑھ مردان میں تحریک آزادی کے عظیم راہنما حضرت مولانا عزیر گل ؒ کی یاد میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں متحدہ مجلس عمل کے راہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کے علاوہ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم درانی اور دیگر اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں حضرت مولانا عزیر گل ؒ کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور تحریک آزادی میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

پاکستان کے دینی مدارس میں غیر ملکی طلبہ

روزنامہ جنگ کراچی ۲۴ جولائی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق کراچی کے بڑے مدارس کے سرکردہ حضرات نے حکومت کی یہ ہدایت مسترد کر دی ہے کہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ان کے ملکوں میں واپس بھجوا دیا جائے۔ خبر کے مطابق حکومت نے چار غیر ملکی طلبہ کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی کو خط لکھا ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے تین اور جامعہ بنوریہ کے ایک طالب علم کو فوری طور پر فارغ کرکے ان کے وطن واپس بھیجا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

درسی کتب سے مذہبی مواد حذف کرنے کی کاروائی

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ جولائی ۲۰۰۶ء کی خبر کے مطابق سعودی عرب نے درسی کتب میں مذہبی عقائد سے متعلق کٹر خیالات کو حذف کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے درسی کتابوں سے کٹر عقائد اور خیالات کو حذف کرکے اصلاحات کے مخلصانہ رویے کا ثبوت دیا ہے اسی لیے اس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی سفیر جان یان فورڈ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ اور ان کی حکومت نے اصلاحات پر عملدرآمد کا جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

لبنان کی صورتحال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر پورے علاقہ کے لیے جنگی صورتحال پیدا کر دی ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے نئی عالمگیر جنگ کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے لیکن عالم اسلام ابھی تک خواب خرگوش میں ہے اور مسلم دارالحکومتوں پر ’’سکوت مرگ‘‘ طاری ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر چڑھ دوڑنے کے لیے اسی طرح کا بہانہ تراشا ہے جس طرح کا بہانہ افغانستان اور عراق پر فوج کشی کے لیے امریکہ نے تراشا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

برطانیہ میں دینی تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

گزشتہ ماہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران مجھے دو ہفتے کے لیے برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا، کم و بیش ہر سال ان دنوں برطانیہ جاتا ہوں اور متعدد دینی مراکز اور تعلیمی مدارس کے پروگراموں میں شرکت ہوتی ہے، اس سال ابراہیم کمیونٹی کالج لندن، جامعۃ الہدیٰ شیفیلڈ، مدرسہ قاسم العلوم برمنگھم، مدینہ مسجد آکسفورڈ اور ابوبکر اسلامک سنٹر ساؤتھ آل لندن کے پروگراموں میں شرکت کے علاوہ بریڈ فورڈ، نوٹنگھم، برنلی، کراؤلی، رچڑیل اور ویکفیلڈ میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۶ء

بائبل اور ہم جنس پرستی

روزنامہ جنگ لاہور ۳۰ مئی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق آکسفورڈ (برطانیہ) کے بشپ رچڑد نے دعویٰ کیا ہے کہ بائبل ہم جنس تعلقات کی (نعوذ باللہ) حمایت کرتی ہے، انہوں نے سنڈے ٹیلیگراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بائبل کے عقیدے کے مطابق ہم جنس پرستی پر کوئی ممانعت نہیں ہے، انہوں نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو نئے زاویے سے دیکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۶ء

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فلم

بین الاقوامی میڈیا میں ان دنوں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بننے والی فلم ’’ڈونچی کوڈ‘‘ کا خاصا چرچا ہے جس میں حضرت عیسٰیؑ کی حیات طیبہ کے مختلف حصے پیش کیے گئے ہیں اور مبینہ طور پر اس میں اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر کے بارے میں توہین آمیز انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس فلم کے ریلیز ہونے پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی حلقوں کی طرف سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے اور غالباً پاکستان میں اس پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۶ء

پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کا مطالبہ

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جون ۲۰۰۶ء کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر نے ایک انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ مذہب کو چھوڑ کر پاکستان کو سیکولر ریاست بنایا جائے، انہوں نے حدود آرڈیننس پر سخت تنقید کی اور اس کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ملاّ‘‘ مسلمانوں کا سب سے بڑا ’’مجرم‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter