ڈاکٹر عبدالقدیر کی کردارکشی کی افسوسناک مہم
ڈاکٹر عبدالقدیر ہمارے ملک کے محترم سائنس دان ہیں جو اس حوالہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے محسن ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی اس عظیم محنت کے نتیجے میں آج ہمارے حکمران پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر عالمی دباؤ پر ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تصوف اور روشن خیالی
گزشتہ دنوں پاکستان میں تصوف کے فروغ کے لیے قومی سطح پر ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے جس کا سرپرست اعلیٰ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو چنا گیا ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اس کے چیئرمین ہوں گے۔ اس کونسل کے اغراض و مقاصد میں بتایا گیا ہے کہ رواداری، انسان دوستی اور اعتدال پسندی کو عام کرنے میں ’’صوفی اسلام‘‘ نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج ان باتوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاپائے روم کا انتہائی افسوسناک بیان
کیتھولک مسیحیوں کے عالمی راہنما اور پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے گزشتہ دنوں جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک پرانے بازنطینی مسیحی بادشاہ عمانوتیل دوم کا یہ جملہ اپنی تائید کے ساتھ دہرا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو اضطراب کی کیفیت سے دو چار کر دیا ہے کہ حضرت محمدؐ نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ مذہب اسلام کو تلوار کی زور سے دنیا میں پھیلائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فرقہ وارانہ کتابوں کی ضبطی کا معاملہ
ان دنوں اخبارات میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ کتابوں کی ایک فہرست کے بارے میں مختلف حلقوں کے بیانات شائع ہو رہے ہیں۔ اس فہرست کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ کم و بیش ساٹھ کتابوں پر مشتمل ہے اور یہ ان کتابوں کی فہرست ہے جنہیں فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بننے والی کتابیں قرار دے کر انہیں ضبط کرتے ہوئے دوبارہ ان کی اشاعت کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کتابوں میں حضرت شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ کی تصنیف ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے فتاویٰ کا مجموعہ ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدود آرڈیننس میں ترامیم کی بحث
حدود آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے حوالہ سے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اعلیٰ سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں راقم الحروف کو بھی شریک ہونے کا موقع ملا، اس کی تھوڑی سی تفصیل قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں معاشرتی جرائم کی شرعی سزاؤں یعنی حدود شرعیہ کا ’’حدود آرڈیننس‘‘ کے نام سے ایک قانونی پیکج نافذ کیا گیا تھا جو سیکولر حلقوں کے اعتراض و تنقید کا مسلسل ہدف بنا ہوا ہے اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسے منسوخ کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات اور حکومت کی خاموشی
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد منعقد یکم فروری ۲۰۱۷ء نے حکومت کے سامنے چھ نکاتی مطالبہ پیش کر کے اسے ایک ماہ کے اندر منظور کرنے کے لیے کہا تھا اور قبول نہ کیے جانے کی صورت میں عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک کے متعدد شہروں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی نگرانی میں مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے علمائے کرام اور دینی کارکنوں کے مشترکہ اجتماعات ہو رہے ہیں اور ان اجتماعات کے ساتھ ساتھ خطبات جمعۃ المبارک میں بھی یہ مطالبات مسلسل دہرائے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلمان ممالک میں ارتدادی سرگرمیوں کی روک تھام
روزنامہ پاکستان ۲۴ اگست ۲۰۰۶ء کے مطابق ملائیشیا کے وزیر اعظم عبداللہ احمد بداوی نے اپنے ملک کی ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے قوانین لاگو کریں جن کے ذریعہ مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے پرچار کی ممانعت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جن ریاستوں میں ایسے قوانین نہیں ہیں وہ اپنے ہاں مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے پرچار کے امتناع کے قوانین وضع کرکے لاگو کریں اور اس سلسلہ میں جو بھی قدم ضروری ہو اٹھایا جائے۔ خبر کے مطابق ملائشیا کی دو کروڑ ساٹھ لاکھ آبادی میں ساٹھ فی صد مسلمان ہیں اور ملائیشیا کا سرکاری مذہب اسلام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسرائیل کی پسپائی اور ٹونی بلیئر کی دھمکی
لبنان پر فوج کشی سے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکنے اور عالمی برادری کے دباؤ پر اسرائیل نے پسپائی اختیار کر لی ہے اور خود اسرائیل کے اندر اسے اسرائیل کی شکست قرار دیتے ہوئے اس کے اسباب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ بظاہر اسرائیل کا مقصد اپنے دو فوجیوں کی رہائی اور جنوبی لبنان پر تسلط حاصل کرنا تھا لیکن ان میں سے کوئی مقصد بھی پورا نہیں ہوا اور اسرائیل کو اپنی سرحدوں کے اندر واپس جانا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدود آرڈیننس میں ترامیم کا نیا بل
قومی اسمبلی میں ’’تحفظ خواتین بل‘‘ کے نام سے حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل پیش کیا گیا ہے اور متحدہ مجلس عمل نے اسے مسترد کرتے ہوئے ایوان کے اندر اور باہر اس کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ حدود آرڈیننس میں ترامیم کا عندیہ ایک عرصہ سے دیا جا رہا تھا اور بعض ملکی اور بین الاقوامی حلقوں کے مطالبہ پر ان ترامیم کی تیاری پر مسلسل کام ہو رہا تھا جس کا نتیجہ تحفظ خواتین بل کی صورت میں سامنے آیا ہے اور اس سے ملک میں حدود شرعیہ کے نفاذ و بقا کا مسئلہ بحث و مباحثہ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی اسمبلی میں نماز کا وقفہ ختم کرنے کی تجویز
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق قومی اسمبلی کی قواعد و ضوابط کمیٹی نے جناب نصر اللہ دریشک کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نماز کا وقفہ ختم کر دینے کی تجویز پیش کی ہے جس پر متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے شدید نکتہ چینی کی ہے اور اسے اشتعال انگیز قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 210
- 211
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »