امریکہ کے خلاف عالمگیر مظاہرے

گزشتہ ہفتے دنیا کے سینکڑوں مختلف شہروں میں عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملہ کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے اور متعدد ممالک کے مجموعی طور پر کروڑوں افراد نے سڑکوں پر آکر امریکی عزائم کے خلاف جذبات کا اظہار کیا، مظاہرین نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ تیل کے چشموں پر قبضہ کرنے کے لیے عراقی عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا چاہتا ہے اور بے گناہ عوام کے خون سے اس کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد کی گلوکاراؤں کا احتجاج

روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۷ فروری ۲۰۰۳ء کو اے ایف پی کے حوالہ سے پشاور سے خبر دی ہے کہ مختلف رقاصاؤں اور گلوکاراؤں نے صوبہ سرحد میں گانے اور ڈانس پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پابندی سے جسم فروشی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ ۳۰ سالہ گلوکارہ مہ جبین نے کہا کہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس پابندی نے اسے بارہ سال کے بعد دوبارہ جسم فروشی پر مجبور کردیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

مفتی اعظم سعودی عرب کا کلمۂ حق

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۵ فروری ۲۰۰۳ء کے مطابق اس سال حج کے موقع پر منٰی کے میدان میں خطبہ حج ارشاد فرماتے ہوئے سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کیا ہے اور عالم اسلام کو اس طرف ان الفاظ کے ساتھ توجہ دلائی ہے کہ ’’اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو اقتصادی طور پر اپنا غلام رکھنا چاہتی ہیں، یہ قوتیں اسلامی ممالک کی منڈیوں پر اپنا تصرف اور قبضہ چاہتی ہیں، وہ چاہتی ہیں کہ مسلمان مجبور رہیں اور اپنی اقتصادی ضرورتوں کے لیے صرف انہی کی طرف دیکھتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ

عالم اسلام کے ممتاز محقق، دانش ور اور مؤرخ ڈاکٹر محمد حمید اللہ گزشتہ دنوں فلوریڈا (امریکہ) میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن سے تھا اور وہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ کے معتمد تلامذہ اور رفقاء میں شمار ہوتے تھے، انہوں نے سیرت نبویؐ کے سیاسی پہلوؤں اور اسلام کے اجتماعی نظام کے حوالہ سے نمایاں علمی خدمات سرانجام دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

سوسائٹی اور دینی مدارس کے درمیان ربط کی ضرورت

دینی مدارس اس وقت جس جدوجہد میں مصروف ہیں اور ان کو جس طرح کی مخالفتوں، رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے بنیادی اسباب و عوامل کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کے اس نظام نے اب سے ڈیڑھ سو برس قبل ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی تھی جو مغل حکومت کے خاتمہ اور برطانوی حکومت کے استعماری تسلط کے نتیجے میں ہمارے معاشرتی و تعلیمی ماحول میں پیدا ہوگیا تھا۔ درس نظامی کا پرانا نظام مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا، دینی مدارس بند ہو گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۱۶ء

’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘

عراق پر امریکی حملے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، عراق نے اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو معائنہ کے لیے عراق آنے کی اجازت دے دی ہے اور انسپکٹروں نے تفصیلی معائنہ کے بعد رپورٹ دی ہے کہ انہیں ممنوعہ اسلحہ کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن اس کے باوجود امریکہ اور برطانیہ مصر ہیں کہ عراق پر حملہ ہو کر رہے گا۔ ادھر خلیج عرب کے ممالک کی تعاون کونسل نے دوحہ میں ایک اجلاس میں قطر اور دیگر عرب ملکوں سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو عراق پر حملہ کے لیے اڈے فراہم نہ کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

اسلامی تحریکات اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا خوف

’’آن لائن‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے قومی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسلامی تحریکات کو ایک بار پھر ہدف تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ وہ مختلف ممالک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ صدر پیوٹن نے اپنے انٹرویو میں اس خدشہ کا اظہار بھی کیا ہے کہ اسلامی شدت پسند دنیا میں اسلامی خلافت لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوگئی ہے، جمعیۃ علماء اسلام کے اکرم خان درانی نے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے، اکرم خان درانی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ تحریک آزادی کے نامور عسکری راہنما فقیر ایپیؒ کے دست راست حاجی گل نوازؒ کے پوتے ہیں جن کی جائیداد ضبط کرکے ان کے مکانات کو اس جرم میں فرنگی حکومت نے بموں سے اڑا دیا تھا کہ وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے ہتھیار بکف تھے اور فرنگیوں سے اپنا وطن آزاد کرانے کی جدوجہد میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

فرانس میں اسکارف کا مسئلہ

فرانس میں ان دنوں اسکارف کا مسئلہ قومی مسائل میں سرفہرست حیثیت اختیار کر چکا ہے اور فرانس کے صدر اور وزیر اعظم کے اعلانات کے مطابق اس مقصد کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جا رہی ہے کہ فرانس میں مسلم خواتین کے لیے سر پر اسکارف لینے کو قانوناً ممنوع قرار دے دیا جائے۔ دوسری طرف سینکڑوں مسلم خواتین نے پیرس میں گزشتہ روز مظاہرہ کیا ہے جس میں اسکارف پر مجوزہ پابندی کے خلاف نعرے لگائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

مصری وزیر خارجہ کی مسجد اقصیٰ میں پٹائی

روزنامہ جنگ لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ احمد ماہر گزشتہ روز مسجد اقصیٰ کے صحن میں نماز ادا کرنے کے لیے آئے تو فلسطینی نوجوانوں نے ان کی پٹائی کر دی اور اس قدر مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ مصر ایک دور میں فلسطین کی آزادی، فلسطین کی وحدت اور فلسطینی عوام کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter