اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ جنگ لندن ۲۲ جون ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین جناب محمد میاں سومرو نے اسلامی نظریاتی کونسل کی ۱۹۹۷ء کے بعد تیار ہونے والی رپورٹوں کو قومی اسمبلی اور سینٹ کی لائبریری میں رکھوانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ممبران پارلیمنٹ اس کا مطالعہ کر سکیں۔ انہوں نے یہ رولنگ متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک استحقاق نمٹاتے ہوئے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۵ء

اعتدال پسندی اور روشن خیالی کا ایجنڈا

۱۲ ربیع الاول کو حسب سابق اسلام آباد میں وفاقی وزارت مذہبی امور کے زیرا ہتمام قومی سیرت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم جناب شوکت عزیز اور وفاقی وزراء سمیت متعدد راہنماؤں اور دانشوروں نے اظہار خیال کیا، راقم الحروف کو بھی وفاقی وزارت مذہبی امور کی طرف سے شرکت کی دعوت موصول ہوئی مگر جمعتہ المبارک اور پہلے سے طے شدہ دیگر مصروفیات کے باعث شرکت سے معذرت کر دی۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے مختلف علماء کرام نے موجودہ حالات کے تناظر میں سیرت نبوی علٰی صاحبہا التحیۃ والسلام کے بہت سے پہلوؤں کو اجاگر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۵ء

خیر و برکت کے اصول

قرآن کریم میں شرک اور جاہلانہ رسوم کی مذمت و مخالفت کے ساتھ ساتھ حلال و حرام کے ان ضابطوں کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے جو دور جاہلیت میں مختلف قبائل اور علاقوں کے لوگوں نے از خود طے کر لیے تھے اور جن پر وہ صدیوں سے عمل پیرا تھے۔ مطلق اباحیت اور فری اکانومی کا یہ تصور قدیم سے موجود چلا آرہا ہے کہ ہم اپنے اموال میں تصرف کے حوالہ سے خودمختار ہیں اور کسی کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۶ء

گوجرانوالہ کی میراتھن ریس اور ردعمل

گوجرانوالہ میں میراتھن ریس کے موقع پر دینی مدارس کے طلبہ اور متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں نے مولانا قاضی حمید اللہ خان ایم این اے کی قیادت میں جس جرأت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی صدائے بازگشت پورے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر محسوس کی جا رہی ہے اور ملک بھر کے دینی حلقوں کو نئے سرے سے یہ حوصلہ ملا ہے کہ وہ اگر معاشرہ میں منکرات کی روک تھام کے لیے منظم منصوبہ بندی کے ساتھ جرأت مندانہ موقف اور کردار کا مظاہرہ کریں تو یہ راستہ کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۵ء

الجزائر میں تعلیمی نصاب کا مسئلہ / آغا خان تعلیمی بورڈ کے خلاف مہم

روزنامہ اسلام لاہور ۲۵ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق الجزائر کی دینی جماعتوں نے وزارت تعلیم کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے جس کے تحت کالجوں کے سیکنڈ ایئر کے نصاب سے اسلامیات کا مضمون خارج کر دیا گیا ہے۔ دینی جماعتوں کا کہنا ہے کہ نصاب سے اسلامیات کے مضمون کا اخراج ملک کو سیکولر بنانے کے ایجنڈے کا حصہ ہے اور الجزائر کے عوام کی اکثریت کے جذبات کے منافی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

وفاقی شرعی عدالت کو ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۴ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ جج جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اسے ختم کر دینا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نافذ قوانین کا اسلامی تعلیمات سے کوئی ٹکراؤ نہیں اس لیے وفاقی شرعی عدالت جیسے اداروں کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘

دینی مدارس کی ملک گیر تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ۱۶ مئی کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں بھرپور ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ منعقد کرکے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ پاکستان بھر کے دینی مدارس معاشرے میں دینی تعلیمات کے فروغ اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے اپنے مشن پر آج بھی کاربند ہیں اور وہ اپنے کردار اور جدوجہد کا پوری طرح شعور رکھتے ہوئے اپنے عظیم اسلام کی جدوجہد کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

تحریک آزادیٔ کشمیر اور آزادکشمیر کا عدالتی نظام

۲۱ ستمبر کو تراڑکھل آزاد کشمیر جانے کا اتفاق ہوا جہاں علماء کرام کے علاقائی فورم تنظیم اہل السنۃ والجماعۃ کا سالانہ اجتماع تھا جس کے لیے مولانا شبیر احمد ایک سال سے میرے تعاقب میں تھے۔ اس علاقہ میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فضلاء کی خاصی تعداد ہے جس کی مناسبت سے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سال میں ایک دو بار وہاں ضروری حاضر دوں اور یہ ان کا حق بھی ہے۔ اس سفر میں عزیزم حافظ محمد حذیفہ خان سواتی فاضل نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بھی ساتھ تھا جو میرا نواسہ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا پوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ ستمبر ۲۰۱۶ء

قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات

گوانتاناموبے میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کا دائرہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی حکومتیں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔ قرآن کریم کی بے حرمتی کا یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے دیگر واقعات بھی سامنے آرہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان اور گوانتاناموبے میں مسلم قیدیوں کے سامنے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور قرآن مقدس کی بے حرمتی کے واقعات امریکی فوجیوں کا معمول بن گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

تبلیغی حلقوں میں اختلاف اور ہمارا طرز عمل

تبلیغی جماعت دعوتِ اسلام کی عالمی تحریک ہے جو دنیا بھر میں دینی تعلیمات و روایات کی طرف مسلمانوں کی واپسی کے لیے ہر سطح پر محنت کر رہی ہے اور اس کی کاوش و برکت سے بحمد اللہ تعالٰی ہر جگہ دینی معمولات اور ماحول کے مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں۔ مگر جوں جوں اس محنت میں توسیع اور پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اسی حساب سے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں جو فطری امر ہے اور کسی بھی تحریک کے اس درجہ وسعت اختیار کرنے کی صورت میں عموماً ایسے ہو جایا کرتا ہے، البتہ اس سلسلہ میں حد درجہ احتیاط اور مثبت رویہ کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۱۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter