دینی مدارس کے لیے امریکی امداد

روزنامہ پاکستان لاہور یکم دسمبر ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کے سفیر محترم کرسٹوف برومر نے پشاور کے معروف دینی ادارے دار العلوم سرحد کا دورہ کیا اور مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے دینی مدارس کے نصاب کو جدید بنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا کہ امریکہ پاکستان کے دینی مدارس کی مدد کرنا چاہتا ہے، اس کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

عازمین عمرہ کی پریشانی

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق عمرہ کے لیے حجاز مقدس جانے والے ہزاروں پاکستانی واپسی کی سیٹیں کنفرم نہ ہونے کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے عمرہ پر جانے والے ہزاروں افراد تاحال جدہ ایئرپورٹ اور پی آئی اے کے دفتر کے باہر بے یار و مددگار بیٹھے ہیں جن کے لیے نہ تو جہاز میں واپسی کی سیٹ ہے اور نہ ہی انہیں بکنگ کے لیے پی آئی اے کے جدہ آفس میں داخل ہونے دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

فلسطینی ریاست کا قیام

روزنامہ اسلام لاہور نے ۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء کی اشاعت میں اے این این کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ترج رؤٹد لارسن نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ ۲۰۰۸ء سے قبل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے سب سے اہم چیز فلسطینی ریاست کا قیام ہے، چاہے یہ ۲۰۰۵ء میں قائم ہو یا ۲۰۰۸ء میں وجود میں آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

کیا دنیا صدام حسین کے بعد محفوظ ہوگئی ہے؟

امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے اگلے چار سال کی مدت کے لیے صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد کہا تھا کہ دنیا عراقی صدر صدام حسین کی اقتدار سے محرومی کے بعد زیادہ محفوظ ہوگئی ہے، یہ کہہ کر وہ عراق پر امریکی حملے کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن فرانس کے صدر یاک شیراک نے ان کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ عراق کی صورتحال نے دہشت گردی کو مزید ہوا دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

عورت کو طلاق کا حق دینے کی تجویز

روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق متحدہ مجلس عمل کی خواتین ارکان اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کی مشیر نیلو بختیار کی سربراہی میں قائم قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے عورت کو طلاق کا حق دینے کی جو تجویز پیش کی ہے وہ قابل قبول نہیں ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہے اس لیے وہ اسے مسترد کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

غربت ختم کرنے کے لیے سفارشات

روزنامہ جنگ لاہور ۱۰ جولائی ۲۰۰۴ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے وزیر نجکاری ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا ہے کہ غربت کے خاتمے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے قائم کردہ وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔ وزیر موصوف نے ان سفارشات کی تفصیل نہیں بتائی البتہ ان کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ملک میں غربت کے خاتمہ میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس کے لیے وزیر اعظم نے ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی جس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

مغربی کنارے کی متنازعہ باڑ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی

ہیگ کی عالمی عدالت انصاف کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر تعمیر کی جانے والی متنازعہ باڑ کے خلاف بھاری اکثریت سے قرار داد منظور کر لی ہے۔ اس سے قبل عالمی عدالت انصاف کے ۱۵ میں سے ۱۴ ججوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اسرائیل فلسطینی علاقے میں جو دیوار تعمیر کر رہا ہے وہ غیر قانونی ہے اس لیے اسے گروایا جائے۔ عدالت کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ دیوار کی تعمیر کو فوراً روک دیا جائے اور تعمیر شدہ باڑ کو مسمار کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

مغربی تہذیب کے عروج کی ایک تصویر

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس کے غلبہ کے موجودہ دور میں انسانی تمدن اپنے عروج تک پہنچ گیا ہے اور اس کی تہذیب و ثقافت اعلیٰ انسانی اقدار و روایات کی حامل ہونے کی وجہ سے ترقی یافتہ اور کامل تہذیب کہلانے کی حق دار ہے۔ انسانی حقوق، احترام انسانیت اور اخلاق و شرافت کا ورد کرتے ہوئے دانشوروں کی زبانیں نہیں تھکتیں لیکن گوانتا موبے کے عقوبت خانوں اور بغداد کی ابو غریب جیل میں امریکی اہل کاروں نے اپنے قیدیوں کے ساتھ جو شرمناک سلوک روا رکھا ہے اس نے مغربی تہذیب کے چہرے سے اخلاق و شرافت اور انسانی اقدار کے تمام نقاب نوچ کر ایک طرف رکھ دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۴ء

اسلام کی صحیح شناخت کا معاملہ

مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس گزشتہ ہفتہ ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی شرکت کی۔ روزنامہ جنگ لاہور ۱۶ جون ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق جناب خورشید محمود قصوری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی سربراہ کانفرنس پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی تسلط کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد کے لیے آواز اٹھائے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اسلامی کانفرنس کو مؤثر اور متحرک بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۴ء

حدود آرڈیننس اور توہین رسالتؐ کا قانون

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں انسانی حقوق کے حوالہ سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حدود آرڈیننس اور توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون پر نظرثانی کے حق میں ہیں اور اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کا ایک قومی کمیشن قائم کیا جا رہا ہے جو پاکستان میں انسانی حقوق پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لے گا اور بہتری کے لیے اقدامات تجویز کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter