مشرقِ وسطٰی کی معروضی صورتحال اور چند تجاویز

تعطیلات کی وجہ سے گزشتہ تین دن سے کراچی میں ہوں اور حسب سابق جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن میں تخصص کی کلاسوں میں انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ اس دفعہ کراچی میں ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے کہ عرب ممالک کے موجودہ حالات بالخصوص بحرین کی شورش میں سعودی عرب کی مداخلت کے حوالے سے کراچی کی سڑکوں پر سعودی حکمرانوں کے خلاف بینرز آویزاں دیکھے جا رہے ہیں جن میں بحرین میں مداخلت پر سعودی عرب کے حکمران خاندان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

قادیانی مسئلہ ۔ چند شبہات کا ازالہ

قادیانیت کے حوالے سے چار سوالات اس وقت بڑے اہم ہیں۔ ایک سوال یہ کہ کسی شخص کو نبی کہہ دینے سے آخر کیا فرق پڑ جاتا ہے؟ ہم بھی تو اپنے بزرگوں کو بھاری بھر کم القابات سے نوازتے رہتے ہیں جو بسا اوقات خوفناک حد تک بھاری بھر کم ہو جاتے ہیں۔ اس سوال کا ایک جواب تو وہ ہے جو علماء کرام علمی حوالوں سے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں ایک صدی سے دیتے آرہے ہیں اور بڑے بڑے اہل علم نے اس کے لیے محنت کی ہے۔ یہ علمی اور تحقیقی جوابات اپنی جگہ درست اور ضروری ہیں لیکن ایک جواب علامہ محمد اقبالؒ نے دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۲۰۱۱ء

افغان تنازعہ کا تاریخی پس منظر اور اس کا نیا راؤنڈ

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورۂ افغانستان کے بعد افغان تنازعہ ایک نئے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی میز بچھانے کے لیے ازسرنو کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس مرحلہ میں نئی تجاویز اور امکانات کا جائزہ لینے سے قبل اب تک کی مجموعی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈال لینا ضروری محسوس ہوتا ہے اس لیے ہم اپنے ایک طویل تجزیاتی مضمون کے کچھ متعلقہ حصے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۱۸ء

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی یادیں

گزشتہ روز ایک دوست نے فون پر ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بارے میں میرے تاثرات دریافت کیے اور کہا کہ انہیں ریکارڈ پر آنا چاہیے۔ ۱۹۵۳ء میں میری عمر پانچ برس تھی کہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء میری تاریخ پیدائش ہے مگر اس کی چند جھلکیاں ابھی تک ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہی ہیں۔ ہم چھوٹے چھوٹے گلیوں میں ٹولیوں کی شکل میں نعرے لگایا کرتے تھے اور ٹھیٹھ پنجابی کے نعرے ہوتے تھے جن کا ذکر مضمون میں کرنا اب مناسب بھی معلوم نہیں ہوتا مگر ان نعروں میں پنجاب کے دیہاتی کلچر کا بھرپور اظہار ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۲۰۱۱ء

فرانسیسی صدر کی طرف سے اسلام کے کردار پر عمومی بحث کی تجویز

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے تجویز پیش کی ہے کہ فرانسیسی معاشرے میں اسلام کے کردار پر ۵ اپریل سے عمومی بحث کا آغاز کیا جائے، ان کا خیال ہے کہ ’’فرانسیسی سوسائٹی میں اسلام کا رول کیا ہے؟‘‘ اس موضوع پر بحث کا اہتمام ہونا چاہیے۔ چنانچہ ان کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس بحث کا فوکس صرف اسلام ہوگا اور اگر اس کا مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے تو میں اس کی مخالفت کروں گا۔ سہ روزہ دعوت دہلی کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس میں اس وقت مسلمانوں کے حوالے سے جن مسائل پر گفتگو ہو رہی ہے ان میں مسلم خواتین کا حجاب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۱۱ء

مولانا فضل الرحمان پر حملے ، استعمار کی سازش!

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان کو نشانہ بنانے کے لیے مسلسل دو خودکش حملے ملک بھر کے دینی کارکنوں اور محب وطن عناصر کے لیے باعث تشویش و اضطراب ہیں اور ان حملوں میں دو درجن کے لگ بھگ افراد کی المناک شہادت پر سینے میں دل رکھنے والا ہر شخص غمزدہ ہے۔ ابھی تھوڑی دیر قبل فون پر میں نے مولانا موصوف سے اس سانحہ پر تعزیت کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی ہے اور شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان کی حفاظت کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا کی ہے، اللہ تعالٰی قبول فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اپریل ۲۰۱۱ء

انسانی حقوق کے نام پر شریعت مخالف سیکولر مہم

لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے آسٹریلیا مسجد اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ اس کی تعمیر کے بعد خطابت کا آغاز خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے فرمایا تھا اور کچھ عرصہ جمعۃ المبارک کے خطبات ارشاد فرمانے کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنے خصوصی شاگرد حضرت مولانا عبدا لحنان ہزارویؒ کو خطیب مقرر کر دیا تھا جو طویل عرصے تک خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اب کم و بیش ربع صدی سے ہمارے محترم دوست مولانا عبد الرؤف ملک اس مسجد کے خطیب ہیں جو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاء میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۱۱ء

حمید اختر صاحب! حقائق کو تو مسخ نہ کریں

کوئی دانشور حالات کی ترتیب اور معروضی حقائق سے اس قدر بھی بے خبر ہو سکتا ہے، روزنامہ ایکسپریس میں ۸ فروری کو محترم جناب حمید اختر صاحب کا ’’پرسش احوال‘‘ کے عنوان سے کالم پڑھنے سے قبل مجھے اس بات کا اندازہ نہ تھا۔ حمید اختر صاحب پرانے دانشوروں سے ہیں، ان کا تعلق لیفٹ سے ہے اور وہ بائیں بازو کے پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن اس کالم میں انہوں نے حالات سے باخبر ہونے کے حوالے سے بہت مایوس کیا ہے۔ پہلے ان کا ارشاد ملاحظہ فرما لیجئے پھر اس پر ہم کچھ گزارشات پیش کریں گے، وہ لکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۲۰۱۱ء

مسلمانوں کا قرآن و سنت سے تعلق اور مغرب کا مطالبہ

دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا میں کافی عرصے کے بعد حاضری کا اتفاق ہوا، حضرت مولانا منظور الحق صاحبؒ اور حضرت مولانا عبد الخالق صاحبؒ کی زیارت تو مجھے یاد نہیں البتہ حضرت مولانا علی محمدؒ کی خدمت میں حاضری اور دعاؤں کی سعادت حاصل ہوتی رہی ہے۔ مولانا محمد انورؒ میرے دوستوں اور بے تکلف ساتھیوں میں سے تھے، جماعتی اور تحریکی زندگی میں ان کے ساتھ ایک عرصہ رفاقت رہی ہے۔ حضرت مولانا ارشاد احمد زید مجدہم میرے دعاگو بزرگوں میں سے ہیں، ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں اور دعاؤں سے نوازتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۱۱ء

تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں مجوزہ ترامیم ۔ آل پارٹیز کانفرنس لاہور کے مطالبات

لاہور میں کل جماعتی کانفرنس اور عوامی ریلی کے بعد تحریک تحفظ ناموس رسالت کے راہنما اب شاید پشاور کا رخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور فروری کے تیسرے ہفتہ کے دوران پشاور میں کل جماعتی کانفرنس اور عوامی ریلی کا پروگرام تشکیل پا رہا ہے۔ منصورہ لاہور میں ۲۹ جنوری کو منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں پاکستان شریعت کونسل کے دیگر راہنماؤں مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور حافظ ذکاء الرحمان اختر کے ہمراہ مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور مختلف جماعتوں کے قائدین کے ساتھ ملاقات کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter