اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع
اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں گزشتہ جون کے آخر میں منعقد ہونے والے ہم جنس پرستوں کے اجتماع پر پاکستان کے دینی و عوامی حلقوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اسے ایک غیر ملکی سفارت خانے کی طرف سے ملک کے دستور و قانون کے منافی سرگرمیوں کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ اس تہذیبی و ثقافتی کشمکش کا حصہ ہے جس کے تحت مغربی دنیا عالم اسلام میں آسمانی تعلیمات کی پابندی سے آزاد تہذیب و ثقافت کو مسلط کرنے کے لیے دباؤ، لابنگ، میڈیا، خوف اور لالچ کے تمام حربے استعمال کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظِ ختمِ نبوت سیمینار
پاکستان پیپلز پارٹی گکھڑ نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے اس سال بھی ’’تحفظ ختم نبوت سیمینار‘‘ کا اہتمام کیا جو ۲۸ ستمبر کو ایک شادی ہال میں منعقد ہوا اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، پیپلز پارٹی کی ضلعی و مقامی قیادت، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار حضرات اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجھے بطور مہمان خصوصی اس میں شرکت کا اعزاز بخشا گیا اور میں اپنے ذوق و مزاج کے خلاف ساڑھے تین چار گھنٹے تک مسلسل اس مسند پر براجمان رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا مجاہد الحسینی کی تصنیف ’’قرآنی معاشیات”
معیشت انسانی سماج کی اہم ترین ضرورت اور علم و فکر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے جس کے بارے میں انسانی معاشرت کی راہ نمائی اور ہدایت کے لیے بارگاہ ایزدی سے نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات میں مسلسل راہ نمائی کی گئی ہے اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ارشادات و فرمودات کا یہ اہم حصہ رہا ہے۔ قرآن کریم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ارشادات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کو توحید اور بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ہدایت فرمائی کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ختم بخاری شریف کی تقریبات میں غیر ضروری تکلفات کا رواج
حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے دورانِ گفتگو فرمایا کہ ختم بخاری شریف کی تقریبات میں خرابیاں بڑھتی جا رہی ہیں اس لیے ہم نے جامعہ فاروقیہ کراچی میں اس کا سلسلہ موقوف کر دیا ہے اور طے کیا ہے کہ بخاری شریف کا آخری سبق بھی معمول کے عام اسباق کی طرح ہوا کرے گا اور اس کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں میری رائے دریافت کی تو میں نے عرض کیا کہ ہم نے تو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں یہ سلسلہ کئی سال پہلے ختم کر دیا تھا اور اب ہمارے ہاں اس کے لیے کوئی خاص تقریب نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات
۱۰ جون کو عشاء کے بعد میں نے جامعہ عثمانیہ شورکوٹ کے سالانہ جلسے میں حاضری دی جو ہمارے پرانے دوست، جماعتی ساتھی اور تحریکی رفیق کار حضرت مولانا بشیر احمد خاکیؒ کی یادگار اور صدقہ جاریہ ہے۔ جبکہ ۱۱ جون کو عشاء کے بعد بیرون بوہڑ گیٹ ملتان میں حضرت مولانا غلام فرید صاحبؒ کے قائم کردہ مدرسہ مدینۃ العلم میں معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منعقد ہونے والے جلسے میں مجھے شریک ہونا تھا۔ درمیان کا دن میں نے خانیوال اور کبیر والا میں احباب سے ملاقاتوں اور آرام کے لیے رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کی افادیت کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت
مدارس کے اردگرد رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہمارے تعلقات و روابط کا عمومی ماحول قابل اطمینان نہیں ہوتا۔ مدرسہ میں آنے جانے والوں کے ساتھ گفتگو اور ضروری معاملات میں ان کی راہنمائی کے حوالہ سے بھی عمومی طور پر ہمارے طلبہ کا طرز عمل ’’آئیڈیل‘‘ نہیں ہوتا اور کسی مدرسہ میں جانے والا اجنبی شخص وہاں چند لمحے گزارنے کے بعد کسی خوشگوار موڈ میں وہاں سے واپس نہیں جاتا۔ بعض مدارس کا ماحول یقیناً اس سے مختلف ہوگا لیکن جب مدارس کے عمومی ماحول کی بات کی جائے گی تو تاثر کم و بیش وہی ہوگا جس کا ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قراء کرام اور نظم خواں حضرات کی خدمت میں!
۸ جون کو جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ اور ۹ جون کو جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی جبکہ ۹ جون کو جامعہ فتحیہ چنیوٹ میں ختم مشکٰوۃ شریف کے حوالے سے حاضری ہوئی۔ چنیوٹ اور فیصل آباد دونوں مقامات پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی زیارت اور ان کے درس حدیث میں شرکت کی سعادت حاصل کی اور اجتماعات میں دینی مدارس کی خدمات اور مقاصد کے حوالے سے گفتگو کا موقع بھی ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیخ الہندؒ اکادمی
جب سے ہم نے اپنے اکابر سے نئی نسل کو متعارف کرانا بلکہ خود ان کی زندگیوں، جدوجہد اور دائرہ کار سے واقفیت حاصل کرنا چھوڑ رکھا ہے ’’اکابر‘‘ کا مفہوم ہی بدلتا جا رہا ہے۔ ہم نے دیوبندیت کے اپنے اپنے دائرے قائم کر رکھے ہیں اور ہر دائرے کے اکابر الگ ہیں۔ پرانے اکابر جو ہمارے اصل اکابر ہیں ان کا مصرف ہمارے ہاں صرف یہ رہ گیا ہے کہ اپنے اپنے طے کردہ دیوبندیت کے دائروں میں ان کا کوئی ارشاد یا عمل ہمیں اپنے مطلب کا مل جاتا ہے تو اپنی ترجیحات کی تائید میں اسے استعمال کر لیا جائے، اس سے زیادہ اکابر کا مفہوم اور مصرف اور کوئی دکھائی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا اعزاز
جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میرے لیے مادر علمی کی حیثیت رکھتا ہے اور میری تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ میں نے ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۹ء تک یہاں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ہے اور دورۂ حدیث کے ساتھ رسمی تعلیم سے فراغت بھی یہیں سے پائی ہے۔ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے ۱۹۵۲ء میں اس درسگاہ کا آغاز کیا، پھر ایک دو سال کے بعد والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی شریک کار ہوگئے اور تعلیمی نظام کی سربراہی انہوں نے سنبھال لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہماری نسبت اور اس کے تقاضے
گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی پاکستان تشریف لائے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ مولانا موصوف حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے فرزند و جانشین ہیں۔ ۱۹۸۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے بعد، جسے جشن صد سالہ سے بھی تعبیر کیا گیا تھا، دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں اختلافات پیدا ہوگئے جس کے بعد دارالعلوم دیوبند سے الگ ہونے والے علماء کرام نے دارالعلوم دیوبند (وقف) کے نام سے ایک نیا دینی تعلیمی ادارہ دیوبند میں ہی قائم کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 231
- 232
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »