حضرت مولانا سید محمد میاںؒ

گزشتہ روز ڈاک میں حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے مقالات کا ایک مجموعہ ’’مقالاتِ حامدیہ‘‘ کے نام سے موصول ہوا تو ماضی کی بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہوتی چلی گئیں۔ اس بات پر خوشی ہوئی کہ مولانا سید محمود میاں اور ان کے رفقاء حضرتؒ کے فرمودات و افادات کو حفاظت کے ساتھ اگلی نسل تک منتقل کرنے کی ’’سعیٔ محمود‘‘ میں مسلسل سرگرم ہیں اور ۹۰ کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتابچہ بھی اس کا ایک حصہ ہے جس میں قرآن کریم کے بارے میں حضرت مولانا حامد میاںؒ کے مضامین و خطبات کو جمع کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اگست ۲۰۱۲ء

مولانا عبد السلامؒ اور دیگر مرحومین

عید الفطر کے بعد بدھ اور جمعرات کے دو روز تعزیتوں میں گزرے۔ پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد کے امیر اور جی الیون کی جامع مسجد صدیق اکبرؓ کے خطیب مولانا مفتی سیف الدین گلگتی گزشتہ دنوں تہرے صدمہ سے دوچار ہوئے، پہلے ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا، پھر کچھ دنوں کے بعد ان کے بہنوئی فوت ہوئے اور ۲۴ رمضان المبارک کو مفتی صاحب کے والد گرامی حاجی محمد نذیر صاحب انتقال کر گئے۔ میں بدھ کو اسلام آباد پہنچا، مفتی صاحب ابھی گلگت سے واپس نہیں آئے تھے، ٹیلی فون پر ان سے تعزیت کی اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۲۰۱۲ء

جامعہ دارالعلوم کراچی پر چھاپہ

جامعہ دارالعلوم کراچی پر رینجرز اور پولیس کے چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی خبر سن کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے خطاب کے لیے منبر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ چلتے چلتے ایک دوست نے خبر دی کہ دارالعلوم کراچی اس وقت رینجرز کے محاصرہ میں ہے اور کچھ پتا نہیں چل رہا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ ذہن اچانک سناٹے کی زد میں آگیا اور جذبات کے سمندر میں تلاطم انگڑائیاں لینے لگا مگر کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۲۰۱۲ء

برما کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے!

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ میانمار (برما) کے صوبہ اراکان میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، ہنگامی حالت کے باوجود بودھ راہبوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری ملکی سکیورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہے۔ رواں سال مئی کے آخر میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا برادری کو اپنے ملک کا شہری تسلیم کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۲ء

علماء کرام کی شہادت، استعمار کی سازش!

گزشتہ دو روز سے مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی المناک شہادتؒ پر تعزیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ نصرۃ العلوم میں طلبہ کے اجتماع میں راقم الحروف نے مولانا شہیدؒ کی دینی و تعلیمی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا، انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی ہوئی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ ۱۵ مئی کو دارالعلوم گجرات میں جمعیۃ علماء اہل السنۃ کے زیر اہتمام ایک تعزیتی نشست ہوئی جس میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۱۲ء

جناب ایس ایم ظفر کی قانونی موشگافی

ایس ایم ظفر ملک کے نامور قانون دان ہیں، وفاقی وزیر قانون رہے ہیں، ممتاز ماہرین دستور و قانون میں ان کا شمار ہوتا ہے اور دستوری و قانونی معاملات میں ان کی رائے کو وقعت اور اہمیت دی جاتی ہے۔ پاکستان قومی اتحاد میں ان کے ساتھ میری رفاقت رہی ہے اور آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کی دستوری کمیٹی اور منشور میں مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ سنجیدہ اور باوقار شخصیت ہیں اور جچی تلی بات کرنے کے عادی ہیں مگر گزشتہ روز ایک دوست نے ان کے ایک حالیہ بیان کی طرف توجہ دلائی تو تعجب سا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۱۲ء

فتنوں سے آگاہی کا میدان اور علماء حق

گزشتہ دنوں چنیوٹ کے دورے کے موقع پر استاذ محترم حضرت مولانا محمد نافع دامت برکاتہم کی زیارت و مجلس نصیب ہوگئی۔ چند سال قبل مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے ہمراہ حضرت شیخ مدظلہ کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی، اس موقع پر بخاری شریف کی ایک روایت کی قراءت کے بعد انہوں نے اپنی سند کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت دی تھی اور ان سے شرفِ تلمذ حاصل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد متعدد بار ان کے پاس حاضر ہو کر دعائیں اور شفقتیں سمیٹ چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۱۲ء

تین خوشیاں اور ایک تمنا!

آج میں خوش ہوں اور اس خوشی میں اپنے قارئین کو بھی شریک کرنا چاہتا ہوں۔ آج کے اخبارات اس وقت میرے سامنے ہیں اور میری نظریں تین خبروں کا مسلسل طواف کر رہی ہیں۔ ایک خبر بہاولپور میں جمعیۃ علماء اسلام کے عظیم الشان جلسہ عام سے مولانا فضل الرحمان کے خطاب کی ہے، دوسری خبر کوئٹہ میں دفاع پاکستان کونسل کی طرف سے منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے بارے میں مولانا سمیع الحق کی پریس کانفرنس کے حوالے سے ہے، اور تیسری خبر ایوان اقبال لاہور میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی پچاسویں سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ فروری ۲۰۱۲ء

اسٹریٹ پاور ۔ موجودہ دور کا مؤثر ہتھیار

دفاع پاکستان کونسل کے بارے میں امریکی بیانات پر سینٹ آف پاکستان میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبد الغفور حیدری کا ردعمل خوش آئند ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ الگ الگ عوامی جلسے کرنے کے باوجود جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑوں کی قیادتیں امریکہ کی مسلسل مداخلت اور جارحیت کے خلاف موقف اور پالیسی کے حوالے سے پوری طرح متفق ہیں جو بہرحال باعث اطمینان ہے۔ مولانا حیدری کا یہ حوصلہ افزا بیان آج ہی اخبارات میں نظر سے گزرا ہے کہ وہ دفاع پاکستان کونسل کے بارے میں امریکی بیان کی مذمت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ فروری ۲۰۱۲ء

’’مکاتیب رئیس الاحرار‘‘

رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کی اپنے معاصرین کے ساتھ خط و کتابت کا مجموعہ ’’مکاتیب رئیس الاحرار‘‘ آج کل میرے مطالعہ میں ہے۔ یہ خط و کتابت ان کے پوتے مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی آف فیصل آباد نے خاصی تگ و دو کے بعد جمع کی ہے اور اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے اس کا مسودہ مجھے بھجوایا جو میں نے کراچی کے سفر میں ساتھ رکھ لیا۔ آج جامعہ اسلامیہ کلفٹن میں بیٹھا یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں اور رئیس الاحرار کے زریں خیالات سے فیضیاب ہو رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۲۰۱۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter