مشترکہ ملی و قومی جدوجہد کی ضرورت اور جناب آیت اللہ خامنہ ای کا فتوٰی

برف دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے اور دینی حلقوں میں باہمی رابطہ و مفاہمت کے ساتھ مشترکہ ملی و دینی مقاصد کے لیے متفقہ موقف اور جدوجہد کی ضرورت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ میں گزشتہ دنوں کراچی میں تھا اور متعدد احباب سے اس سلسلہ میں ملاقاتیں ہوئیں۔ جمعیۃ علماء پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی طلب کردہ کل جماعتی کانفرنس، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں ہونے والا اجتماع اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا اسد اللہ بھٹو کے طلب کردہ سیمینار میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ دسمبر ۲۰۱۰ء

گلوبل ہیومن سوسائٹی کا مستقبل اور قرآن کریم

میں نے آپ حضرات کے سامنے قرآن کریم کی دو آیات پڑھی ہیں جو بیسویں پارے کی آخری آیات ہیں اور ان میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم ہی کے بارے میں ایک بات ارشاد فرمائی ہے۔ مشرکین مکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلسل نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، حالانکہ بیسیوں کھلے معجزات کا انہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رکھا تھا مگر اس کے باوجود ان کا معجزات اور نشانیوں کے لیے مطالبہ جاری رہتا تھا اور وہ اپنی طرف سے طے کر کے کہا کرتے تھے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں وہ دکھائی جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۱۰ء

شہدائے بالاکوٹ اور تحریکِ آزادی میں ان کا کردار

ہم جب برصغیر کی تحریک آزادی کے عنوان سے بات کرتے ہیں تو اس سے مراد برصغیر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور برما وغیرہ پر برطانوی استعمار کے تسلط کے بعد وطن کی آزادی کے لیے بپا کی جانے والی تحریکات ہوتی ہیں۔ ان میں ایک دور مسلح تحریکات کا ہے اور دوسرا دور پر اَمن سیاسی تحریکات کا ہے، ان دونوں قسم کی تحریکات میں اپنے اپنے وقت میں ہمارے اکابر نے خدمات سرانجام دی ہیں اور جدوجہد کی ہے۔ شہدائے بالاکوٹ کی جدوجہد بھی اسی کا ایک باب ہے لیکن اس کے تذکرہ سے پہلے تحریک آزادی کا مختصر پس منظر پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۲۰۱۰ء

دستوری ترامیم: دینی حلقوں کی کامیاب جدوجہد

ہم پاکستان میں نفاذِ اسلام، عقیدۂ ختم نبوت، ناموس رسالتؐ اور دیگر حوالوں سے شروع سے ہی بین الاقوامی سازشوں اور دباؤ کا شکار ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہتا نظر آتا ہے لیکن اس عالمی دباؤ کی ایک لہر سے ہم ابھی سرخرو نکلے ہیں اور میں اس پر سب حضرات کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ گزشتہ دو سال سے دستور پاکستان میں ضروری ترامیم کے حوالہ سے پارلیمنٹ کی کمیٹی کام کر رہی ہے اور اس کے سامنے ملکی اور بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے بہت سے ایسے مطالبات پیش کیے جاتے رہے ہیں جن پر ہمیں تشویش تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۱۰ء

دینی مدارس سرکاری مداخلت کیوں نہیں قبول کرتے؟

پہلا سبب یہ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام کے آغاز ہی پر سب سے پہلے قائم ہونے والے دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے بنیادی اصول میں بانیٔ دارالعلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس بات کی ہدایت کر دی تھی کہ مدرسہ کا نظام عام لوگوں کے چندے اور تعاون کے ذریعے چلایا جائے اور کسی حکومت یا ریاست کی طرف سے مستقل امداد قبول نہ کی جائے۔ یہ بات دارالعلوم دیوبند کے اصول ہشت گانہ میں درج ہے اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد قائم ہونے والے دینی مدارس کے آزادانہ نظام کے لیے راہنما اصول کا درجہ رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۲۰۱۰ء

انسدادِ توہینِ رسالت کا قانون اور مسیحی راہنماؤں کا نقطۂ نظر

سلمان تاثیر کے قتل پر ملک بھر میں جس ردعمل کا اظہار ہوا ہے اس سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلم امہ اور خاص طور پر پاکستان کے غیور مسلمان خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو کسی قسم کی لچک اور نرمی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور اس مسئلہ پر مسلمانوں کا جذباتی ہونا جو مغرب کے نزدیک قابل اعتراض بات ہے مسلمانوں کی ایمانی جرأت اور دینی حمیت کے اظہار کی علامت بن گیا ہے۔ مغرب کا المیہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی ہر قوم کو اور ہر بات کو اپنے ماحول اور ذہنی دائروں میں پرکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۱۱ء

بائبل کی پکار ۔ من چہ گویم و طنبورہ من چہ سراید

پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے ایک بار پھر حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ توہینِ رسالت کے قانون کو ختم کر دیا جائے کیونکہ یہ ان کے بقول اقلیتوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے اور بطور خاص مسیحی اقلیت اس کا نشانہ بن رہی ہے۔ ہم اس کالم میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ اول تو اس قانون کے غلط استعمال کی بات اس حوالہ سے محل نظر ہے کہ غلط استعمال کی بات صرف اس قانون کے حوالہ سے کیوں کی جا رہی ہے؟ ملک میں دیگر بہت سے قوانین کا بھی تو غلط استعمال ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۱۱ء

ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے قوم کا عزم

ستمبر کو یومِ دفاعِ پاکستان اور ۷ ستمبر کو یومِ ختم نبوت تھا، بحمد اللہ تعالٰی دونوں دن خاصی مصروف رہی۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ہمارے قومی فرائض میں سے ہے اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع بھی اہم ترین ملی تقاضا ہے چنانچہ ملک بھر میں دونوں حوالوں سے بھرپور جوش و خروش کا اظہار کیا گیا جس میں تھوڑا بہت ہمارا حصہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۱۸ء

وزیر اعظم سے مجوزہ ملاقات۔ ایک ضروری وضاحت

وزیراعظم جناب عمران خان کے ساتھ مجوزہ ملاقات اور ہماری معذرت کے بارے میں مختلف تبصرے مسلسل سامنے آرہے ہیں، بہت سے دوست اس معذرت سے اتفاق کر رہے ہیں اور اختلاف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں جن کا کہنا ہے کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ دونوں طرف مخلصین ہیں جو پورے اخلاص کے ساتھ اپنی بات کہہ رہے ہیں اور دلائل و قرائن بھی کسی کے کمزور نہیں ہیں مگر چونکہ سوالات کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو صورتحال رونما ہوئی وہ قارئین کے سامنے رکھ دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ ستمبر ۲۰۱۸ء

مولانا جلال الدین حقانیؒ

مولانا جلال الدین حقانیؒ کی وفات کی خبر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی گہرے صدمہ کا باعث بنی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اور اس کے ساتھ ہی جہادِ افغانستان کے مختلف مراحل نگاہوں کے سامنے گھوم گئے ہیں۔ مولانا جلال الدین حقانیؒ جہاد افغانستان کے ان معماروں میں سے تھے جنہوں نے انتہائی صبر و حوصلہ اور عزم و استقامت کے ساتھ نہ صرف افغان قوم کو سوویت یونین کی مسلح جارحیت کے خلاف صف آرا کیا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں سے افغان جہاد میں شرکت کے لیے آنے والے نوجوانوں اور مجاہدین کی سرپرستی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۱۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter