حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ
۵ مئی کو حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا انتقال ہوا تھا۔ وہ دونوں دار العلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھاکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں موسیٰ زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے حضرت مولانا احمد خانؒ نے خلافت پائی جو خانقاہ سراجیہ کے بانی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ
حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب بھی انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شاید فضلائے دیوبند میں سے ہمارے علاقے میں آخری بزرگ تھے۔ ابھی چند ماہ قبل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سابق ناظم اور محکمہ اوقاف کے سابق ڈسٹرکٹ خطیب مولانا لالہ عبد العزیز سرگودھوی کا انتقال ہوا تو ان کے بعد ہم کہا کرتے تھے کہ اب دیوبند کی آخری نشانی ہمارے پاس حضرت مولانا محمد فیروز خان رہ گئے ہیں، وہ بھی ۹ مارچ کو ہم سے رخصت ہو گئے۔ان کا تعلق آزاد کشمیر کی وادی نیلم سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر محمد دین مرحوم
بدھ (۹ اپریل ۲۰۰۸ء) کے روز میرے خسر بزرگوار ڈاکٹر محمد دین بھی طویل علالت کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق کھاریاں سے کوٹلہ جانے والے روڈ پر واقع قصبہ گلیانہ سے تھا اور انتہائی نیک دل اور ذاکر وشاغل بزرگ تھے۔ طب و علاج کے شعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں ڈاکٹر کہا جاتا تھا ورنہ وہ ڈسپنسر تھے، اسی حیثیت سے انہوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر تک سرکاری ملازمت کی اور مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قاری محمد عبد اللہؒ
گزشتہ دنوں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے سابق صدر مدرس قاری محمد عبد اللہ صاحب طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے ساتھی اور رفیق کار تھے، ان کا تعلق منڈیالہ تیگہ کے قریب بستی کوٹلی ناگرہ سے تھا۔ ان کے والد محترم حاجی عبد الکریم جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم حضرات میں سے تھے اور مفتیٔ شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اعظمؒ
مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم تعلیمات مولانا محمد اعظمؒ کی اچانک وفات پر بے حد صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے شہر کے بزرگ علماءکرام میں سے تھے اور دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ معتدل اور متوازن مزاج کے بزرگ تھے اور انہیں شہر کے تمام مکاتب فکر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد طاسینؒ
حضرت مولانا محمد طاسینؒ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ پاکستان کی علمی دنیا کی معروف شخصیت تھے، حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز کے داماد اور مجلس علمی کے سربراہ تھے۔ متبحر اور محقق عالم دین تھے، اسلامی معاشیات پر ان کی گہری نظر تھی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر ان کے گراں قدر مقالات مختلف دینی و علمی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اہم علمی مجالس میں انہیں اہتمام کے ساتھ بلایا جاتا اور ان کے مطالعہ و تحقیق سے استفادہ کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃؒ کے ساتھ ملاقات
شام کے بزرگ عالم دین الاستاذ عبد الفتاح ابوغدۃ حفظہ اللہ تعالیٰ کا نام کافی عرصہ سے سن رکھا تھا اور محدث کبیر حضرت الشیخ زاہد الکوثری الحنفیؒ کے مایہ ناز شاگرد اور علمی جانشین کے طور پر ان کا غائبانہ تعارف ذہن میں محفوظ تھا۔ خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے حوالہ سے علامہ کوثریؒ اور الشیخ ابو غدۃ مدظلہ کا تذکرہ ایک مدت سے علمی مجالس میں سننے میں آرہا تھا اور ملاقات کا اشتیاق تھا۔ کئی بار خواہش ہوئی کہ لندن کا سفر براستہ دمشق ہوجائے تو شاید ملاقات و زیارت کی کوئی صورت نکل آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیت ۔ الطاف حسین کے مغالطے
قادیانیوں کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ جناب الطاف حسین کے ایک انٹرویو کے بارے میں اخبارات میں اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف دینی حلقوں کی طرف سے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف وجوہ کی بنا پر قادیانیت کا مسئلہ پاکستان کے دینی حلقوں کے ہاں بہت زیادہ حساس مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک کے عوام اور دینی جماعتوں کے نزدیک اس حوالہ سے کسی بھی طرف سے لچک کا اظہار عام طور پر قابل قبول نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ
حضر ت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے میرا تعلق مختلف نسبتوں اور حوالوں سے ہے اور میں خود کو ان خوش قسمت افراد میں سمجھتا ہوں جنہیں حضرت مرحوم سے مسلسل استفادہ کا موقع ملا۔ زندگی کے کسی مرحلہ میں موقف اور پالیسی کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہو جانا ایک الگ امر ہے جو انسانی فطرت کا لازمی حصہ ہے، لیکن آج بھی اپنے دل کو ٹٹولتا ہوں تو بحمد اللہ تعالیٰ زندگی کے کسی لمحہ میں کوئی ایسا واضح جھول محسوس نہیں ہوتا جو حضر ت مولانا ہزارویؒ کے ساتھ عقیدت ومحبت اور ان کی دیانت وللہیت پر اعتماد کے حوالے سے خدا نخواستہ پیدا ہو گیا ہو، الحمد للہ علیٰ ذالک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حافظ بشیر احمد مصری مرحوم
روزنامہ جنگ لندن نے ۱۴ جولائی ۱۹۹۲ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ہے کہ شاہ جہاں مسجد ووکنگ (لندن) کے سابق امام حافظ بشیر احمد مصری گزشتہ روز ۷۸ برس کی عمر میں لندن کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خبر میں حافظ صاحب مرحوم کا تعارف ماحولیات اور تحفظ حیوانات کے ایک مسلم ماہر کی حیثیت سے کرایا گیا ہے جنہوں نے اس شعبہ میں نمایاں تحقیقی خدمات سرانجام دی ہیں اور اسلام میں حیوانات کے ساتھ برتاؤ کے موضوع پر ان کے مقالہ کو بین الاقوامی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 296
- 297
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »