سردار عبد القیوم خان سے ملاقات

سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ میری علیک سلیک اس دور سے ہے جب وہ ممتاز کشمیری لیڈر چودھری غلام عباس خان مرحوم کے رفیق کار کی حیثیت سے کشمیری سیاست میں آگے بڑھ رہے تھے۔ میری جماعتی زندگی (جمعیۃ علماء اسلام) کا ابتدائی دور تھا اور ان کا عنفوان شباب تھا۔ گوجرانوالہ میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے سرگرم راہ نما مولانا عبد العزیز راجوروی مرحوم ہمارے ساتھ دینی تحریکات میں متحرک رہتے تھے۔ میں نے ان کے ساتھ اکٹھے جیل بھی گزاری ہے، بڑے زندہ دل اور دلیر سیاسی راہ نما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۲۰۰۵ء

مولانا محمد شریف جالندھریؒ

ملتان کے معروف دینی ادارہ خیر المدارس کے مہتمم اور برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے فرزند حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حج بیت اللہ شریف کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں تھے کہ وہاں سے اچانک خبر آئی کہ مولانا موصوف کا مکہ میں انتقال ہوگیا ہے اور انہیں جنت المعلاۃ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

مولانا سید امین الحقؒ

مولانا سید امین الحقؒ اپنے گاؤں طورو ضلع مردان میں طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ امام المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مولانا مرحوم حضرت اقدس مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلفاء میں سے تھے اور حضرت لاہوریؒ اور ان کے خانوادہ کے ساتھ مرحوم کا والہانہ تعلق آخر دم تک قائم رہا ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

اشتیاق احمد مرحوم

اشتیاق احمد مرحوم کے ساتھ زیادہ ملاقاتیں نہیں رہیں، دو تین بار کی ملاقات یاد ہے اور چند مضامین بھی نظر سے گزرے ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر بچوں کے لیے لکھا ہے اور جب ان کی تصانیف اور مضامین کی شہرت ہوئی میں بچپن کی حدود سے بہت آگے جا چکا تھا۔ البتہ ان کے فن کی اہمیت و ضرورت سے ضرور آشنا رہا اور اسی وجہ سے ان سے محبت و انس کا تعلق رہا۔ وہ بنیادی طور پر جاسوسی ادب کے دائرے کے ادیب تھے اور جاسوسی ادب سے ایک دور میں میرا بہت زیادہ رشتہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۱۵ء

ارباب سکندر خان خلیل شہید

صوبہ سرحد کے سابق گورنر اور ملک کے معروف سیاسی رہنما ارباب سکندر خان خلیل گزشتہ روز صبح کے وقت جبکہ وہ معمول کے مطابق سیر کر رہے تھے، قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ارباب صاحب مرحوم کا شمار بااصول، معتدل مزاج اور ایثار پیشہ راہنماؤں میں ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۱۹۸۲ء

شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود شہید

۲۵ مارچ ۱۹۷۵ء کو اخبارات میں ڈاکٹر ہنری کسنجر وزیرخارجہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا یہ بیان جلی سرخیوں میں شائع ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں ان کا امن مشن اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے باعث ناکام ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ صدر انور سادات کا یہ نعرۂ حق بھی منظرِ عام پر آیا کہ اسرائیل نے ہٹ دھرمی ترک نہ کی تو جہاد شروع کیا جائے گا، اور عرب وزراء خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیے جانے کی خبر بھی اخبارات کی زینت بنی۔ یہ خبریں اس امر کا احساس دلانے کو کافی تھیں کہ مشرق میں ’’کچھ‘‘ ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۱۹۷۵ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ؔ

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ بھی طویل علالت کے بعد چل بسے اور وہاں کا رختِ سفر باندھا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ مفتی صاحبؒ کم و بیش دس برس سے فالج، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض تھے اور علالت کے طویل دور سے گزرتے ہوئے گزشتہ ہفتہ کو جناح میموریل ہسپتال گوجرانوالہ میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۱۹۸۳ء

اہل حدیث یوتھ فورس کے جلسہ میں دلخراش سانحہ

گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

الحاج مولانا عبد الشکور دین پوریؒ

۱۴ اگست ۱۹۸۷ء کو جب پوری قوم یوم آزادی منا رہی تھی، بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں ملک کے معروف خطیب و مقرر، جید عالم دین، اسلامی مشن بہاولپور کے سربراہ جمعیۃ علماء اہل سنت کے امیر اور جمعیۃ علماء اسلام کے معروف راہنما الحاج مولانا عبد الشکور دین پوری راہیٔ ملک عدم ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۱۹۸۷ء

شاہ خالد مرحوم

گزشتہ دنوں اسلامی کانفرنس کے سربراہ اور سعودی عرب کے فرمانروا جلالۃ الملک شاہ خالد بن عبد العزیز آل سعود انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شاہ خالد چند سال قبل اپنے مرحوم بھائی شاہ فیصل کی شہادت پر ان کے جانشین بنے تھے اور علالت کے باوجود پوری استقامت کے ساتھ اپنے شہیدؒ بھائی کے نقش قدم پر چلتے رہے اور ان کی پالیسیوں پر گامزن رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۱۹۸۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter