ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم
ارشد میر ایڈووکیٹ پانچ اور چھ اکتوبر کی درمیانی شب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ خاصے عرصے سے ذیابیطیس کے مریض تھے اور سانس کی تکلیف بھی تھی لیکن ان کی وفات اتنی اچانک ہوئی کہ خبر سنتے ہی سناٹے کی سی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا ۔ میر صاحب مرحوم میرے گنتی کے چند مخلص دوستوں میں سے تھے، تعلقانہ کی نوعیت دوستانہ سے بڑھ کر برادرا نہ تھی، وہ میرے پڑوسی بھی تھے اور مقتدی بھی، مجھ پر قائم ہونے والے بیشتر مقدمات میں وکیل صفائی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ۔ مردِ درویش کی چند قلندرانہ باتیں
اس سال لندن آتے ہوئے کراچی میں چند روزہ قیام کے دوران حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اﷲدرخواستی قدس اﷲ سرہ العزیز کے منجھلے فرزند مولانا حاجی مطیع الرحمان درخواستی کے ساتھ بھی کچھ روز کی سفری رفاقت رہی اور اسی موقع پر ان سے حضرت درخواستیؒ کی وہ تاریخی تقریر آڈیو کیسٹ کے ذریعے سننے کا موقع ملا جو انہوں نے امام العلماء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی وفات پر ۱۹۶۲ء میں رمضان المبارک کے آخری جمعۃ المبارک کے اجتماع میں خانپور کی عید گاہ میں کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد اسحاق قادریؒ
گذشتہ دنوں باغبانپورہ لاہور کے بزرگ عالم دین حضر ت مولانا محمد اسحاق قریشی فاضل دیوبند طویل علالت کے بعد رحلت فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مرحوم قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خصوصی تربیت یافتہ حضرات میں سے تھے اور انہوں نے تمام عمر اپنے شیخ کی طرز پر قرآن کریم کی تعلیمات اور اللہ اللہ کا ورد عام کرنے میں بسر کر دی۔ ان کی نماز جنازہ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی مدظلہ نے پڑھائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سید ذو الکفل بخاریؒ
امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے اس ہونہار نواسے کی اچانک اور حادثاتی موت نے تو کچھ لمحات کے لیے ذہن پر سکتہ طاری کر دیا۔ وہ مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے اور کئی برسوں سے سعودیہ میں مقیم تھے۔ اس سال اپریل کے دوران مکہ مکرمہ میں حاضری کے دوران میری خواہش رہی کہ ان سے ملاقات ہو جائے مگر میرے میزبان کا ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ اور اب پیر کے روز میں میرپور آزاد کشمیر کے ایک دینی مدرسہ کے اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہا تھا کہ برادرم عبد اللطیف خالد چیمہ نے ٹیلی فون پر گلوگیر لہجے میں یہ خبر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کا فقہی ذوق
میرے مخدوم و محترم بزرگ استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ پرانے اور بزرگ علماء کرام میں سے تھے، گوجرانوالہ کی قدیم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ کے خطیب اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم تھے۔ والد بزرگوار حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ گرامی تھے اور میں نے والد محترمؒ کو ان کا بے حد احترام کرتے ہوئے اور ان سے مختلف امور میں ہمیشہ راہنمائی حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ مجھے بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۹ء سے ۱۹۸۲ء تک مسلسل تیرہ سال مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی خطابت میں ان کی نیابت و خدمت کا شرف حاصل رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایمل کانسی مرحوم
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے میر ایمل کانسی شہید کے گھر جا کر اور اس کے خاندان سے تعزیت کرکے پورے ملک کے علماء کرام اور دینی حلقوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے، ورنہ یہ ملک کے ہر عالم دین اور دینی کارکن کے ذمے تھا کہ وہ میر ایمل کانسی شہید کے گھر جاکر اس خاندان سے تعزیت کرتا اور ایمل کانسی شہید کے بھائیوں کو یقین دلاتا کہ ان کے دلیر اور جرأت مند بھائی نے جس حوصلے اور استقامت کے ساتھ قومی خود مختاری اور ملک کی آبرو کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذاہب اور ان کے عبادت خانے
سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین سینیٹر حافظ حمد اللہ نے گزشتہ روز سینیٹر پروفیسر ساجد میر، سینیٹر ایم حمزہ اور دیگر سینیٹرز کے ایک وفد کے ہمراہ ننکانہ صاحب میں سکھوں کے گوردوارے کا دورہ کیا اور سکھ راہنماؤں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تبادلۂ خیالات کیا۔ سینٹ کی مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کی تو دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں رہنے والے تمام غیر مسلموں کے معاملات کی دیکھ بھال کرے، ان سے رابطہ رکھے اور متعلقہ امور میں ان سے مشاورت کا اہتمام کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایک تبلیغی دورے کی سرگزشت
تبلیغی جماعت کی برکت سے مجھے عید الاضحی کے بعد دو دن ماڈل ٹاؤ ن لاہور کے علاقے میں گزارنے کا موقع ملا۔کبھی کبھی میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ لگایا کرتا ہوں جس کا ایک مقصد تو اس کارِ خیر کے ساتھ نسبت اور تعلق قائم رکھنا ہوتا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ بہت سے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور دینی جدوجہد کے نئے رجحانات سے آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ پروگرام کے مطابق مجھے عیدالاضحی کے بعد جمعہ کے روز شام کو گوجرانوالہ سے علمائے کرام کی ایک بڑ ی جماعت کے ساتھ لاہور پہنچنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
روسی وزیر دفاع کا دورۂ بھارت
روسی وزیردفاع مارشل استینوف تیس رکنی وفد کے ہمراہ ان دنوں بھارت کے دورہ پر ہیں اور انہوں نے بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ایک گھنٹہ کی علیحدہ ملاقات کے علاوہ بھارتی رہنماؤں سے باقاعدہ مذاکرات کیے اور بھارت کی دفاعی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہا کہ بھارت کو دفاعی طور پر خودکفیل بنانے کے لیے روس اس کی امداد جاری رکھے گا اور بھارت کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ روس اور بھارت کے درمیان دوستی کا معاہدہ اور دفاع میں تعاون کے عنوان سے بھارت کو بھاری اسلحہ کی فراہمی کا یہ سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی گروہ اور امریکہ کی ریموٹ کنٹرول غلامی کا شکنجہ
پاکستان کے قیام کے بعد جب معروف قادیانی راہنما چودھری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ کا منصب سونپا گیا تو دینی حلقوں میں اضطراب اور تشویش پیدا ہوئی کہ اس انتخاب کا فائدہ ان عالمی طاقتوں کے سوا کسی کو نہیں ہوگا جن کی نمائندگی قادیانی جماعت کرتی ہے اور ملک کے اندر بھی قادیانی جماعت کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوگا جو دینی حوالوں سے پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ۱۹۵۲ء تک اس کے نتائج اس حد تک سامنے آچکے تھے کہ بیرون ملک پاکستان کے بہت سے سفارت خانے قادیانی مذہب کے فروغ اور ان کے اثر و نفوذ میں اضافے کا ذریعہ بن چکے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 297
- 298
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »