مولانا محمد اعظم طارق کی نظر بندی
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے مولانا محمد اعظم طارق کی ضمانت منظور ہوجانے کے باوجود انہیں حکومت پنجاب نے مزید تین ماہ کے لیے نظربندی کے عنوان سے زیرحراست رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مولانا محمد اعظم طارق کو حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی ہے کہ اگر وہ جلاوطنی قبول کر لیں تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے ورنہ حکومت اس بات پر مجبور ہے کہ انہیں مسلسل زیرحراست رکھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مولانا موصوف نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اعظم طارق کی بھوک ہڑتال
عربی ادب کی کتابوں میں کہاوت بیان کی جاتی ہے کہ ایک لڑکا نہر میں ڈبکیاں کھا رہا تھا اور مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہا تھا کہ کوئی اسے آکر ڈوبنے سے بچا لے۔ ایک شخص نے نہر کے کنارے سے گزرتے ہوئے اسے دیکھا اور وہیں کھڑے ہو کر اسے ملامت کرنے لگا کہ اگر تجھے تیرنا نہیں آتا تھا تو نہر میں چھلانگ کیوں لگائی تھی؟ یہ بے وقوفی تم نے کیوں کی؟ نہر میں اترتے ہوئے تم نے کیوں نہ سوچا کہ یہ کتنی گہری ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ربوہ کا نیا نام: صدیق آباد، نواں قادیان یا چناب نگر؟
گزشتہ روز فلیٹیز لاہور میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی طرف سے ربوہ کا نام تبدیل ہونے کی خوشی میں پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے محرک مولانا منظور احمد چنیوٹی اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب حسن اختر موکل کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی اور ربوہ کا نام تبدیل کرنے کی قرارداد منظور کرنے پر پنجاب اسمبلی کے ارکان، حکومت، اپوزیشن اور محرک کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یہودی لابی کا اسلام
لاہور کے روزنامہ ’’آوازِ خلق‘‘ نے ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں مغربی جرمنی کے ایک جریدہ کے لیے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے تفصیلی انٹرویو کا ترجمہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی پالیسیوں کا دوٹوک انداز میں اظہار کیا ہے۔ اس انٹرویو کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو نے چور کا ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کی سزاؤں کے بارے میں کہا ہے کہ ظالمانہ اور وحشیانہ قوانین کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مدرسہ تعلیمی بورڈ کا قیام اور مدارس کی رجسٹریشن کا حکومتی فیصلہ
دینی مدارس کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پانچوں وفاقوں نے ان حکومتی اقدامات کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے جن کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے اور جن کے تحت دینی مدارس کو چھ ماہ کے اندر رجسٹریشن کا پابند کرتے ہوئے سرکاری سطح پر ’’مدرسہ تعلیمی بورڈ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن نہ کرانے والے مدارس کو بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دینی مدارس کو بیرون ملک سے ملنے والی امداد کو مدرسہ تعلیمی بورڈ کی کلیئرنس کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لندن بم دھماکے۔ انجام کیا ہوگا؟
اِدھر اسامہ بن لادن کی تلاش میں خفیہ ادارے منگلا ڈیم کے کنارے جا پہنچے ہیں اور اُدھر لندن میں خوفناک بم دھماکوں نے چار درجن سے زائد انسانوں کی جانیں لے کر مغرب کو خوف و ہراس کی ایک نئی فضا سے دوچار کر دیا ہے۔ میرپور آزادکشمیر میں منگلا ڈیم کے کنارے سیاکھ نامی بستی میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے علی الصبح ایک دینی مدرسہ کو اچانک آپریشن کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں فراہم کی گئی معلومات کے مطابق سیاکھ کے دینی مدرسہ جامعہ ابراہیمیہ میں اسامہ بن لادن چھپے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لندن بم دھماکے اور مشرق وسطیٰ میں نوے سالہ برطانوی تاریخ
برطانیہ میں خودکش بم دھماکوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد لندن کی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن اور آپریشن شروع ہو چکا ہے جس میں چھ ہزار کے قریب سپاہی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ آپریشن دہشت گردوں کی تلاش، ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا جا رہا ہے جو حفاظتی نقطۂ نظر سے انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسانی حقوق کا چارٹر اور مسلمانوں کے تحفظات
دو ہفتے قبل جب میں لندن پہنچا تو مولانا مفتی عبد المنتقم سلہٹی سے بنگلہ دیش میں دینی حلقوں کی اس احتجاجی مہم کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں جو عبوری حکومت کی طرف سے منظور کیے جانے والے ایک مسودہ قانون کے خلاف جاری ہے اور ایمرجنسی کے باوجود ہزاروں لوگ علماء کرام کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ مسودہ قانون عبوری حکومت نے ملک میں نفاذ کے لیے منظور کیا ہے لیکن ابھی نافذ نہیں ہوا، اس میں وراثت کے قانون میں ترمیم کر کے باپ کی وراثت میں لڑکی اور لڑکے کو برابر حصے کا حقدار قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بلوچستان کا ’’تاریخی میزانیہ‘‘
گورنر بلوچستان جناب نواب محمد اکبر خان بگٹی اپنے تمام تر دعاوی کے باوجود صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بلانے کی ہمت نہیں کر سکے اور گورنر کو براہ راست بجٹ کی منظوری کا اختیار دینے کے لیے صدر محترم کو عبوری آئین میں ترمیم کرنا پڑی۔ اس طرح نواب صاحب نے ’’خود کوزہ خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ‘‘ کے مصداق اسے ’’تاریخی میزانیہ‘‘ کا خطاب بھی مرحمت فرما دیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ میزانیہ یقیناً ’’تاریخی‘‘ ہے کہ صوبائی اسمبلی کی موجودگی میں اس کا اجلاس بلائے بغیر گورنر صاحب نے از خود بجٹ پیش کیا اور از خود اس کی منظوری بھی دے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متحدہ حزب اختلاف کا قیام اور افغان مجاہدین
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر جناب غلام مصطفیٰ جتوئی کی قیادت میں متحدہ حزب اختلاف کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور جناب جتوئی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ متحدہ حزب اختلاف میں اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ارکان اسمبلی کے علاوہ نوابزادہ نصر اللہ خان، خان عبد الولی خان، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، جناب غلام مصطفیٰ کھر اور ان کی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 305
- 306
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »