دینی مدارس اور وفاقی وزیر داخلہ کی خوش آئند باتیں

دستور کی بالادستی کے نام پر ووٹ لینے والے حکمران بھی دستور کی اسلامی دفعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے بارے میں اس عالمی سیکولر ایجنڈے کے لیے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں جس کے بارے میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ دستور پاکستان کی اسلامی بنیادوں کو خدانخواستہ سرے سے ختم کر دیا جائے یا کم از کم انہیں غیر موثر بنا دیا جائے، اور پاکستان میں دین کی سربلندی اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں اور افراد کو مسلسل خوف و ہراس کے ماحول میں رکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مغربی ثقافت اور اس کے پیداکردہ نظریاتی و علمی فتنوں کے تعاقب کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا تھا۔ وہ بلاشبہ اس دور میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور تاریخ و روایات کے بے باک نقیب تھے۔ انہوں نے اس حوالہ سے دنیائے اسلام کے اربابِ فکر و دانش کے ایک بڑے حصے کو ادراک و شعور کی منزل سے ہمکنار کیا اور مغرب کے سیکولر فلسفہ اور فری سوسائٹی کے تار و پود بکھیر کر ذہنی مرعوبیت کی فضا کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۰ء

حضرت جی مولانا انعام الحسنؒ

تبلیغی جماعت کے امیر حضرت مولانا انعام الحسن ۹ جون کو دہلی میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر آناً فاناً دنیا بھر کے تبلیغی مراکز میں پہنچ گئی اور دنیا کے کونے کونے میں دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ لاکھوں مسلمان رنج و غم کی تصویر بن گئے۔ مولانا انعام الحسن کو تقریباً تیس برس پہلے تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کی وفات کے بعد عالمگیر تبلیغی جماعت کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔ ان کی امارت میں دعوت و تبلیغ کے عمل کو عالمی سطح پر جو وسعت اور ہمہ گیری حاصل ہوئی وہ ان کے خلوص و محنت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۵ء

حاجی عبد المتین چوہان مرحوم

عبد المتین مرحوم کے ساتھ راقم الحروف کا تعلق حفظ قرآن کریم کے دور سے تھا جب ہم دونوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں استاذ محترم حضرت قاری محمد یاسین صاحب مرحوم سے پڑھتے تھے۔ یہ غالباً سن 1958ء یا 1959ء کی بات ہے۔ عبد المتین مرحوم قرآن کریم یاد نہ کر سکے لیکن علماء کرام اور جماعتی امور کے ساتھ ان کا تعلق آخر دم تک قائم رہا۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، اور حضرت سید نفیس شاہ صاحب کے ساتھ عقیدت و محبت کا خصوصی تعلق تھا اور جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کاموں میں بطور خاص دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری مارچ ۱۹۹۶ء

حضرت مولانا عزیر گلؒ

مولانا عزیر گلؒ کون تھے؟ آج کی نسل اس سے باخبر نہیں ہے اور نئی نسل کو اس کے ماضی اور اقدار و روایات سے باخبر رکھنے کی ذمہ داری جن حضرات پر ہے انہیں نہ اس کی ضرورت کا احساس ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت ان کے ذہنوں میں موجود ہے۔ مولانا عزیر گلؒ اس قافلۂ حریت کے فرد تھے جس نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف عسکری، تہذیبی، تعلیمی اور سیاسی جنگ لڑی اور بالآخر اسے شکست دے کر اس خطۂ زمین کی آزادی کی راہ ہموار کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۸۹ء

دفاعی بجٹ میں کمی، قومی خودکشی کے مترادف

ان دنوں عالمی طاقتوں اور اداروں کی طرف سے پاکستان کو مسلسل یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں کمی کرے اور جدید ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرنے کے علاوہ فوج کی تعداد بھی گھٹائے۔ خود ہمارے بعض دانشور بھی اسی خیال کا اظہار کر رہے ہیں اور دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے دفاعی اخراجات کو کم سے کم کرنا ضروری ہے۔ لیکن ایسا کرنے والے حضرات دو باتوں کو بھول جاتے ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۵ء

تحریک ولی اللہ کا موجودہ دور اور معروضی حالات میں کام کی ترجیحات

علماء حق کی وہ جماعت جس نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں دین اسلام کے تحفظ و بقا اور ترویج و اشاعت کی مسلسل جدوجہد کی ہے اور اسلامی عقائد و نظریات اور مسلم معاشرہ کو بیرونی اثرات سے بچانے کے لیے صبر آزما جنگ لڑی ہے، آج پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور عالمی سطح پر اسلام اور اسلامی معاشرت کے خلاف منظم اور ہمہ گیر انداز میں لڑی جانے والی ثقافتی جنگ علماء حق کی اس جماعت سے نئی صف بندی، ترجیحات اور حکمت عملی کا تقاضا کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۵ء

مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی / مولانا قاری محمد اظہر ندیم شہیدؒ

ملک کے دینی حلقوں میں یہ خبر بے حد رنج و الم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ معروف خطیب مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی کا عید الاضحیٰ کے روز ملتان میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحبؒ ملک کے مقبول خطباء اور واعظین میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصہ تک مذہبی اسٹیج پر ان کی خطابت کا طوطی بولتا رہا ہے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شیدائی تھے۔ آواز میں سوز و گداز تھا، وہ اپنے مخصوص انداز میں مصائب صحابہؓ اور قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے تو بڑے بڑے سنگدل لوگوں کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۵ء

کھاریاں فائرنگ کیس ۔ ارباب حل و عقد کی خدمت میں عرضداشت

مقدمہ کی تفتیش میں گرفتار شدگان کو انصاف کے معروف تقاضوں سے محروم رکھنے کے لیے مبینہ طور پر گورنر پنجاب انتظامیہ و پولیس پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ اس سلسلہ میں میری تجویز یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے کسی جج کے ذریعے اس کیس کی کھلی تحقیقات کرائی جائے اور گورنر پنجاب کے خلاف جہلم کے شہریوں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے اصل حقائق کو منظر عام پر لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۵ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کی فکر انگیز باتیں

ملائیشیا میں اسلامی سربراہ کانفرنس جاری ہے جو ان سطور کی اشاعت تک اختتام پذیر ہو چکی ہوگی۔ اس کانفرنس کا دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک مدت سے انتظار تھا اور ملت اسلامیہ منتظر تھی کہ مسلم ممالک کے حکمران عالم اسلام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مشترکہ طور پر کیا رائے قائم کرتے ہیں اور کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ کانفرنس کے فیصلوں اور اعلانات کے حوالہ سے تو ہم اگلے کالم میں کچھ عرض کر سکیں گے البتہ کانفرنس کے میزبان اور ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے اس کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter