مولانا مفتی محمودؒ اور اکرم درانی
ایک عرب دانشور کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کے وزراء کو عوام کے روز مرہ مسائل کے حل میں زیادہ دلچسپی لینی چاہئے۔ ذاتی کردار کے حوالہ سے دیانت، خدمت اور سادگی کی روایات کو زندہ کرنا چاہئے۔ حکمرانوں اور عوام کے درمیان قائم کئے گئے مصنوعی فاصلوں کو کم کرنا چاہئے۔ اور ایک ایسی دیانت دار، کفایت شعار، خدمت گزار اور با اصول حکومت کا نقشہ پیش کرنا چاہئے جو دوسری حکومتوں سے واقعتا مختلف دکھائی دے۔ اور پھر آئندہ الیکشن میں ملک کے دوسرے صوبوں کے عوام بھی صوبہ سرحد کے عوام کی پیروی کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حفاظتِ قرآن کا تکوینی نظام
کسی کتاب کی بقا اور حفاظت کے ظاہری اسباب چمڑا، تختی، کاغذ،قلم، ڈسک، سی ڈی اور کیسٹ وغیرہ ہیں۔ یہ اسباب موجود ہوں تو کتاب کا وجود بھی ہے اور اگر خدانخواستہ ان اسباب کا وجود باقی نہ رہے تو کسی کتاب کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ لیکن قرآن کریم ان تمام اسباب سے بے نیاز ہے کہ ان میں سے ایک سبب بھی باقی نہ رہے تب بھی قرآن کریم پر اس کا رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ وہ لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے اور اتنی بار پڑھا و سنا جاتا ہے کہ کتاب کے وجود اور بقاء کے ظاہری اسباب کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کے لیے ایک جیسی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شہدائے آزادی کی روحوں کا سوال
اب ہم اس مقام پر بھی کھڑے نظر نہیں آتے جہاں سے 14 اگست 1947ء کو یہ سفر شروع کیا تھا۔ دینی و اخلاقی اقدار دھیرے دھیرے دم توڑتی جا رہی ہیں، غیرت و حمیت کا جنازہ نکل گیا ہے، ہندو ثقافت اور مغربی تہذیب کے ملغوبے نے آکاس بیل کی طرح ہماری قومی اور معاشرتی زندگی کا احاطہ کر رکھا ہے، اسلام کے ساتھ دوٹوک کمٹمنٹ اور دین و عقیدہ کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ نہ صرف اجنبی ہوتا جا رہا ہے بلکہ اس پر بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے لیبل لگا کر نئی نسل کو اس سے دور رکھنے کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
غیر شرعی رسم و رواج
ہمارے ہاں لڑکی کی پیدائش کو باعث عار سمجھا جاتا ہے اور کئی مائیں اس جرم میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں یا کم از کم طلاق کی مستحق قرار پاتی ہیں کہ ان کی کوکھ سے بیٹے کی بجائے بیٹی نے جنم لیا ہے۔ یہاں عورت کو وراثت کے جائز حق سے جان بوجھ کر محروم کر دیا جاتا ہے، باپ یا خاوند کی وراثت سے اپنا حق وصول کرنے والی خواتین خاندان میں ’’نکو ‘‘ بن کر رہ جاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں وراثت اور جائیداد تک عورت کی رسائی کا امکان ختم کرنے کیلئے اسے شادی کے فطری اور جائز حق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ کشمیر اور برطانوی وزیرخارجہ کا عذرِ لنگ
جب تقسیم پنجاب کے وقت برطانوی حکمرانوں کا مفاد اس میں تھا تو قادیانیوں نے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی اور اسی کے نتیجے میں کشمیر کے خوفناک تنازع نے جنم لیا تھا جو آج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کشمیر کا تنازع کھڑا کرنے میں برطانوی کردار کو تسلیم کریں یا نہیں اور اس پر معذرت کی ضرورت محسوس کریں یا نہیں، لیکن وہ خود کو بچہ قرار دے کر تاریخی حقائق لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغرب کے تین دعووں کی حقیقت
مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے نسل انسانی کو ایک ایسی تہذیب سے روشناس کرایا ہے جو جدید ترین تہذیب ہے، انسانی سوسائٹی کی خواہشات و ضروریات کو پورا کرتی ہے، اور یہ تہذیب انسانی تمدن کے ارتقاء کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ یہ نسل انسانی کے اب تک کے تجربات کا نچوڑ ہے اور اس سے بہتر تہذیب اور کلچر کا اب کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ اس لیے یہ انسانی تاریخ کی آخری تہذیب اور فائنل کلچر ہے، اس کے بعد اور کوئی تہذیب نہیں آئے گی اور دنیا کے خاتمے تک اسی تہذیب نے حکمرانی کرنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں مسیحی ریاست کے قیام کا منصوبہ
ہمارے پاس اس کی ایک عملی مثال موجود ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے انگریز گورنر سر موڈی نے چنیوٹ کے ساتھ دریائے چناب کے کنارے پر قادیانیوں کو زمین لیز پر دی تھی جہاں انہوں نے ربوہ کے نام سے شہر آباد کیا۔ اور اب تحریک ختم نبوت کے مسلسل مطالبہ پر اس کا نام تبدیل کر کے ’’چناب نگر‘‘رکھ دیا گیا ہے۔ یہ زمین اب بھی سرکاری کاغذات میں ’’صدر انجمن احمدیہ‘‘کے نام لیز پر ہے لیکن عملاً اس سے کوئی فرق رونما نہیں ہوا کہ وہاں لیز والی زمین پر اب بھی خالصتاً قادیانی کالونی ہے جہاں کسی مسلمان کو رہنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کے خلاف عالمی میڈیا کی یلغار اور ہماری ذمہ داریاں
غزوۂ احزاب میں مشرکین کا محاصرہ ناکام ہوا تو اس پر جناب سرور کائناتؐ نے صحابہ کرامؓ کو یہ بشارت دی کہ یہ مکہ والوں کی آخری یلغار تھی، اس کے بعد مشرکین عرب کو مدینہ منورہ کا رخ کرنے کی جرأت نہیں ہوگی، اب جب بھی موقع ملا ہم ادھر جائیں گے۔ البتہ ہتھیاروں کی جنگ میں ناکامی کے بعد اب مشرکین ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے، عرب قبائل ہمارے خلاف شعر و ادب کی زبان میں منافرت پھیلائیں گے اور خطابت و شعر کے ہتھیاروں کو استعمال میں لائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نظام کی ناکامی کا فطری ردعمل
حاجی محمد سرور نے خود اپنی جان اور عزت دونوں کو خطرے میں ڈال کر ہماری غفلت اور کوتاہیوں کو بے نقاب کیا ہے اور مروجہ سسٹم کی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ حاجی محمد سرور اپنے اعتراف کے مطابق چار قتلوں کا مجرم ہے اور اسے قانون ہاتھ میں لینے کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن اس کے ساتھ وہ مروجہ نظام کی فرسودگی اور ناکامی کا عنوان بن کر سامنے آیا ہے اور حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے اس سسٹم کے ذمہ داروں اور شریک طبقات کا منہ چڑا رہا ہے۔ کیا اس کے اس چیلنج کا سامنا کرنے کا ہم میں سے کسی طبقہ یا شخص میں حوصلہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر مراد ولفرڈ ہوف مین کے خیالات
ڈاکٹر مراد ہوف مین جرمنی کے دفتر خارجہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے، نیز مراکش اور الجزائر میں سفیر کے منصب پر فائز رہنے کے علاوہ برسلز میں نیٹو کے ڈائریکٹر انفرمیشن کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے مختلف مضامین و مقالات میں اسلام اور مغرب کی تہذیبی کشمکش کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور اس ثقافتی جنگ کے اسباب و علل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ مستقبل کے امکانات کا نقشہ بھی پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 380
- 381
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »