کیا دینی مدارس غیر ضروری ہیں؟

آج ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ان دینی مدارس میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اور جن مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے ان کا ہمارا عملی زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے اور ہمیں زندگی میں پیش آنے والی ضروریات میں سے وہ کس ضرورت کو پورا کرتے ہیں؟یہ سوال اٹھانے کے بعد کہا جاتا ہے کہ چونکہ ان مدارس کی تعلیمات کا ہماری عملی زندگی اور اس کی ضروریات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے ان مدارس کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ مدارس قوم کی کوئی مثبت خدمت کرنے کی بجائے غیر ضروری مضامین پر قوم کے ایک بڑے حصے کا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۰۷ء

دعوت دین ۔ دنیوی فلاح و اخروی نجات کا ذریعہ

ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کامیابی اور نجات کا مطلب جنت میں جانا ہے اور جو شخص جنت میں چلا جائے گا وہ کامیاب ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی شامل کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس مسلمان اور کلمہ گو کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے جو شرک سے بچ کر رہے گا۔ بلکہ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے زندگی میں ایک بار بھی کلمہ پڑھا ہے وہ بالآخر جنت میں ضرور جائے گا۔ اس سے عام ذہن یہ بنتا ہے کہ جنت میں تو بالآخر جانا ہی ہے اس لیے زیادہ مشقت اور محنت کی چنداں ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

مغربی ممالک میں مسلمانوں کا مذہبی تشخص

روزنامہ انصاف لاہور کی ایک خبر کے مطابق یورپی ریاست سلواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو نے کہا ہے کہ سلواکیہ میں اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، مسلمانوں کی یورپ میں آمد خطے کے لیے نقصان دہ ہے، وہ سلواکیہ میں ایک بھی مسلمان کو برداشت نہیں کر سکتے، اور یہ کہ دیگر مغربی ممالک کی طرح مسلمان پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دینا ان کی مجبوری نہیں ہے۔ رابرٹ فیکو یکم جولائی سے یورپی یونین کے صدر کا منصب سنبھالنے والے ہیں، اس لیے ایسے موقع پر ان کا مسلمانوں کے بارے میں ان خیالات کا اظہار یورپی یونین کے آئندہ عزائم اور پالیسیوں کی بھی غمازی کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۶ء

کیا ریاست کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے؟

میں دلائل کی بحث میں پڑے بغیر تاریخی تناظر میں اس کا جائزہ لینا چاہوں گا کہ جب اسلامی ریاست وجود میں آئی تو وہ کن اصولوں پر قائم ہوئی تھی اور اس قسم کے مسائل کو اس نے کس طریقہ سے ڈیل کیا تھا۔ یہ بات تاریخی طور پر مسلمہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت جزیرۃ العرب کسی ریاستی وجود اور باقاعدہ حکومت سے آشنا نہیں تھا۔ لیکن جناب رسول اللہؐ نے جب دنیا سے پردہ فرمایا تو پورا جزیرۃ العرب ایک باقاعدہ ریاست کی شکل اختیار کر چکا تھا اور اس میں ایک منظم حکومت تشکیل پا چکی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۱۶ء

خطابت ۔ ضروریات اور دائرے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت گویائی سے نوازا ہے جس کے مختلف مدارج ہیں اور ایک انسان جب بہت سے انسانوں کوخطاب کر کے اپنے جذبات و احساسات اور مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے تو اسے خطابت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس خطابت میں جس قدر فصاحت ہو گی اور مخاطبین کو سمجھانے کا بہتر انداز ہو گا اسی قدر و ہ کمال کی حامل ہو گی۔ خطابت زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح دین کی ضروریات میں بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جولائی ۲۰۱۲ء

اللہ اور رسولؐ کی اطاعت

قرآن کریم میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ اس کے رسولؐ کی بھی اطاعت کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ دونوں ہمارے مستقلاً مطاع ہیں۔ اس لیے ہم پر جس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ضروری ہے اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی بجا آوری بھی ضروری ہے۔ کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بہت سے کاموں کا حکم دیا ہے، ان کے ساتھ جناب نبی اکرمؐ نے بھی ہمیں بہت سے احکام دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۱۱ء

قرآن کریم کی تعلیم لازم کرنے کا مستحسن حکومتی فیصلہ

قرآن کریم ہماری زندگی، ایمان اور نجات کی بنیاد ہے جس کی تعلیم ایمان کا تقاضہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی ناگزیر ضرورت بھی ہے اور ہمارے بہت سے قومی اور معاشرتی مسائل کا حل اس سے وابستہ ہے۔ یہ کام قیام پاکستان کے بعد ہی ہوجانا چاہیے تھا اور 1973ء کے دستور کے نفاذ کے بعد تو اس میں تاخیر کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ لیکن مختلف اندرونی و بیرونی عوامل کے باعث یہ مبارک کام مسلسل ٹال مٹول کا شکار ہوتا رہا اور اب اس طرف حکومت نے سنجیدہ توجہ کا عندیہ دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۱۶ء

شیخ الازھر اور پاپائے روم کی ملاقات

الشیخ احمد الطیب عالم اسلام کی محترم علمی شخصیت ہیں جبکہ پوپ فرانسس کیتھولک مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ہیں، اس لیے ان کی باہمی ملاقات جو خبر کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ہوئی ہے یقیناًبہت اہمیت کی حامل ہے جس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ اور اگر ان کے اتفاق رائے کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے عالمی کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی تو وہ مذاہب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ثابت ہوگی۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ایک عرصہ سے بین الاقوامی حلقوں میں کام ہو رہا ہے اور مختلف سطحوں پر اس حوالہ سے کانفرنسوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۶ء

پاکستانی میڈیا یا لندن کا ہائیڈ پارک؟

کہا جا رہا ہے کہ ایسا ماحول جان بوجھ کر ریٹنگ میں اضافے کے لیے پیدا کیا جاتا ہے مگر مجھے اس سے زیادہ اس کی پشت پر خفیہ ہاتھوں کی یہ پلاننگ دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان میں سیاست اور مذہب دونوں کے ماحول کو ہر قسم کی اخلاقیات سے عاری کر دیا جائے اور باہمی نفرت و بے اعتمادی کے ایسے بیج اس معاشرے میں بو دیے جائیں کہ مذہب اور سیاست کے دو مقدس الفاظ نعوذ باللہ گالی بن کر رہ جائیں۔ حتیٰ کہ مولانا مفتی منیب الرحمن کے بقول رمضان المبارک کے تقدس اور احترام کو بھی اسی قسم کی میڈیائی خرافات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جون ۲۰۱۶ء

نماز تراویح پر شکوک و شبہات کیوں؟

یہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے اجتہادی فیصلوں میں سے ہے کہ انہوں نے صحابہ کرامؓ کے مشورہ سے طے کیا کہ مسجد نبویؐ میں نماز تراویح باجماعت پڑھی جائے گی اور سب لوگ اکٹھے ایک ہی امام کے پیچھے پڑھیں گے۔ حضرت ابی بن کعبؓ اس دور میں سب سے بڑے قاری تھے جنہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے أقرأ کا خطاب دیا تھا کہ یہ میرے ساتھیوں میں سب سے اچھا قاری ہے۔ حضرت عمرؓ نے انہی کو حکم دیا کہ وہ بیس تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائیں اور رمضان المبارک کے دوران کم از کم ایک بار قرآن کریم ضرور سنا دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جون ۲۰۱۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter