شریعت بل ۔ سرحد حکومت نے کونسا جرم کیا ہے؟
سوال یہ ہے کہ سرحد حکومت نے کون سا جرم کیا ہے کہ اس کے خلاف یہ سارے عناصر صف آراہ ہو گئے ہیں۔ صوبائی اسمبلی نے شریعت بل کے نام سے جو مسودہ قانون منظور کیا ہے وہ ملک کے دستور اور صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کیا ہے۔ اس میں کسی غیر متعلقہ بات کو نہیں چھیڑا گیا اور صرف یہ کہا گیا ہے کہ جو معاملات صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ان سے متعلقہ قوانین کو قرآن سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا اور ان کی تعبیر و تشریح کے لیے صوبہ کی تمام عدالتیں قرآن و سنت کی پابند ہوں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صحابہ کرامؓ اور اُسوۂ نبویؐ
جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ کسی حوالہ سے بھی ہو اور ان کی حیات مبارکہ کے کسی بھی پہلو کا تذکرہ کیا جائے یہ اجروثواب، خیروبرکت اور بے پایاں رحمتوں کے نزول کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن سیرت نبویؐ کے ساتھ صحابہ کرامؓ کا تعلق کس انداز کا تھا اور حضرات صحابہ کرامؓ کس طرح حضورؐ کی باتوں کو یاد کیا کرتے تھے؟ اس کی چند جھلکیاں آج کی محفل میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور سیرت و سنت کے ساتھ مسلمان کا اصل تعلق یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یومِ شہدائے بالاکوٹ
ہنٹر نے لکھا ہے کہ ہم نے کس طرح ان مجاہدین کو ’’وہابی‘‘ کہہ کر بدنام کرنے کی سازش کی اور مقامی آبادی کو ان سے متنفر کیا۔ چنانچہ انگریزوں کی حکمت عملی کامیاب رہی اور وہ صرف چھ ماہ کے عرصہ میں پشاور کے علاقہ میں مجاہدین اسلامی حکومت کے خلاف سادہ لوح عام مسلمانوں میں بغاوت کے جراثیم پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس پر مجاہدین نے پشاور کے متبادل کے طور پر مظفر آباد کا انتخاب کیا اور وہاں کے علماء کرام اور دیندار مسلمانوں سے رابطہ کر کے مظفر آباد میں منتقل ہونے کا پروگرام بنا لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور ہمارے معاشرے کی دینی ضروریات
یہ چند ضروریات بالکل عام سطح کی ہیں جن کا ماحول عملاً موجود ہے اور جن کا تقاضہ ملک بھر میں عام طور پر مسلسل جاری رہتا ہے۔ اگر ملک کے دستوری تقاضوں کے مطابق اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کے مطابق انتظامی و عدالتی نظام کو بھی قومی اور معاشرتی ضرورت سمجھ لیا جائے تو ان ضروریات کا دائرہ بہت پھیل جاتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف ان معاشرتی دینی ضروریات کو دیکھ لیں اور دوسری طرف ریاستی تعلیمی نظام پر نظر ڈال لیں کہ وہ ان میں سے کوئی ایک ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’برصغیرمیں مطالعۂ حدیث‘‘ پر ایک علمی سیمینار
’’برصغیر میں مطالعۂ حدیث‘‘ کے عنوان پر ادارہ تحقیقات اسلامی نے دو روزہ علمی سیمینار کا اہتمام کیا جس کی پانچ نشستیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہوئیں اور ان میں حدیث نبوی علیٰ صاحبھا التحیہ والسلام سے تعلق رکھنے والے بیسیوں عنوانات پر ممتاز اصحاب علم و دانش نے مقالات پیش کیے۔ برصغیر کے دینی مدارس میں حدیث نبویؐ کی تدریس و تعلیم، نامور محدثین کی علی و دینی خدمات کا جائزہ، اور حدیث نبویؐ کے مطالعہ کے حوالہ سے حال و مستقبل کی ضروریات کی نشاندہی بطور خاص ان موضوعات کا حصہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریات اور مغرب کے عزائم
برطانیہ اور دوسرے استعماری ممالک نے یہ بات محسوس کر لی تھی کہ امریکہ، آسٹریلیا اور افریقا کے بہت سے حصوں میں انہوں نے نو آبادیاتی نظام کے ذریعہ جو مقاصد حاصل کر لیے ہیں، مسلم ممالک میں ان مقاصد کا حصول ممکن نظر نہیں آرہا۔ اس لیے کہ قرآن کریم مسلمانوں کو حریت فکر کا سبق دیتا ہے، آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کی تلقین کرتا ہے، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ دنیا کے ہر مسلمان کو اپنے دینی تشخص اور آزادی کے لیے ہر وقت سربکف رہنے کی ہدایت کرتی ہے۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عراق پر امریکی حملہ ۔ جنگ کا تیسرا ہفتہ
اب ایک اور ہلاکو خان دجلہ کے پانیوں کو عراقی مسلمانوں کے خون سے سرخ کر رہا ہے تو ہمیں اس کا منظر ایک بار پھر تاریخ کے مطالعہ کے ذریعہ ذہنوں میں تازہ کر لینا چاہیے۔ تاریخی عمل کے اس ادراک کے ساتھ کہ قوموں کی زندگی میں یہ مراحل آیا ہی کرتے ہیں اور قوموں کو اپنے تاریخی سفر میں ایسی گھاٹیوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے، اور اس یقین کے ساتھ کہ جہاں تک ایمان و عقیدہ اور اسلام کا تعلق ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ بغداد، غرناطہ اور ڈھاکہ کے سقوط جیسے سانحوں اور زلزلوں میں بھی اپنا وجود قائم رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عراق پر امریکی حملہ!
امریکہ نے عراق کو غیر مسلح کرنے میں دس سال صرف کیے اور گزشتہ بیس سال کے دوران صرف اس کام کے لیے ساری صلاحیتیں استعمال کی گئیں کہ عراق کوئی مؤثر ہتھیار نہ بنا سکے اور کوئی ایسا ہتھیار حاصل نہ کرسکے جو اس پر حملہ کی صورت میں امریکی فوجیوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہو۔ عراق کے خلاف ممنوعہ ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کا مسلسل پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اسے اسلحہ کی تیاری سے روکنے کے لیے اقوام متحدہ میں گھسیٹا گیا۔ اس کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے اس کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش کی گئی تاکہ وہ کسی جنگ کا سامنا کرنے کے قابل نہ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار
روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت درخواستیؒ کا سبق آموز پیغام
حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ نے حرم پاک کا قصہ سنا کر بہت سے سامعین کو آبدیدہ کر دیا کہ حضرت درخواستیؒ وہاں ایک محفل میں مسلسل احادیث نبویؐ پڑھتے جا رہے تھے اور بڑے بڑے عرب علماء دانتوں میں انگلیاں دبائے ان کا چہرہ دیکھ رہے تھے کہ دنیائے عجم میں بھی حدیث رسولؐ کا اتنا بڑا شیدائی اور اتنا بڑا حافظ ہو سکتا ہے؟ راقم الحروف کو بھی اس اجتماع میں اظہار خیال کی دعوت دی گئی اور میں نے عرض کیا کہ اس موقع پر اپنی طرف سے کچھ عرض کرنے کی بجائے حضرت درخواستیؒ کا ہی ایک پیغام پیش کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کا امیر منتخب ہوتے وقت قوم کو دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہمیں ترجیحات کا تعین کر لینا چاہیے
ہماری شکایت ان سے نہیں ہے بلکہ ہم اپنی اس نا اہل، نا عاقبت اندیش اور مصلحت کوش سیاسی قیادت کا نوحہ پڑھ رہے ہیں جو اسلام کا نام لیتی ہے، اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کرتی ہے، اسلام کے نعرہ پر اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچ جاتی ہے، اسلام کے حوالے سے سیاسی عزت و وقار کے مقامات طے کرتی ہے، مجاہدین کی خدمات اور قربانیوں کے تذکرے کرتی ہے، اور مسلم امہ کی رائے عامہ کی قیادت و رہنمائی کی بلا شرکت غیرے دعوے دار ہے، لیکن اقتدار یا اقتدار کے چانس کے لولی پاپ نے اسے اپنی اصل ذمہ داریوں سے بے پروا کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انجمن خدام الدین کی سرگرمیاں، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے قلم سے
اجتماع میں مسلسل پانچ روز تک روحانی تربیتی محافل ہوتی رہیں، ذکر الٰہی، درود شریف اور مراقبہ کے روحانی اعمال کا سلسلہ جاری رہا۔ اس موقع پر انجمن خدام الدین کے مقاصد اور سرگرمیوں کے حوالہ سے حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز کا تحریر فرمودہ ایک مضمون تقسیم کیا گیا۔ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ میرے شیخ و مرشد تھے اور میں انہی کے حوالہ سے راشدی کہلاتا ہوں۔ اس لیے برکت کی خاطر ان کی تحریر کو من و عن اپنے کالم کا حصہ بنا رہا ہوں۔ حضرت شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جرمن وزیرخارجہ کے اعلان کا خیرمقدم
سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش کی جو فضا موجود ہے اور جس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے اسباب کیا ہیں، اور کیا صرف مذہبی تعلیمات کی وجہ سے یہ تصادم رونما ہوا ہے؟ ہمارے خیال میں اصل صورتحال یہ نہیں ہے اور بنیادی طور پر اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ مغرب نے مذہب کو ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘ قرار دے کر کباڑ خانے میں پھینک دیا ہے اور مغرب کے پورے نظام، فکر و فلسفہ اور معاشرت کی بنیاد لا مذہبیت پر بلکہ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سعودی عرب کی مجوزہ سیاسی اصلاحات
جب بھی اسلامی نظام حکومت کی بات ہوتی ہے ایک شخص،گروہ، یا خاندانی آمریت کا تصور ہی ذہنوں میں ابھرتا ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اسلام کا آئیڈیل نظام مذکورہ حکومتیں نہیں بلکہ خلافت راشدہ کا نظام ہے۔ خاندانی خلافتوں اور طاقت کے بل پر قائم ہونے والی حکومتوں کو مختلف ادوار میں برداشت ضرور کیا گیا ہے جس طرح ہمارے ہاں نظریۂ ضرورت بلکہ نظریۂ مجبوری کے تحت آئین سے ماورا حکومتوں کو برداشت کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ایسی حکومتوں کو نہ تو آئیڈیل تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اسلامی دستور کی تشکیل میں انہیں بنیاد بنایا جا سکتاہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار پر ایک سرسری نظر
دینی مدارس کی ان خدمات کی وجہ سے مغربی استعمار انہیں اپنی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور ان مدارس کو ختم کرنے یا سرکاری کنٹرول میں لا کر بے اثر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً منصوبے بنتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ دینی مدارس سمجھتے ہیں کہ ان کی مذکورہ بالاخدمات اور کارکردگی کا تسلسل و اثرات صرف اسی صورت میں باقی رہ سکتے ہیں جب وہ سرکاری مداخلت سے آزاد ہوں، مالی طور پر خود مختار ہوں، اور نصاب و نظام کے معاملات خود ان کے اپنے کنٹرول میں ہوں۔ ورنہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ریاستی مشینری کو مداخلت کا موقع دینے سے دینی مدارس کا یہ سارا نظام مجروح ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ترکی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اجلاس
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں سے اس مسئلہ پر بات کی جائے، دونوں کی باہمی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور اس تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے دونوں کو ایک میز پر لایا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ عالمی قوتوں سے اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ وہ خود اس آگ کو بھڑکانے میں خاص دلچسپی رکھتی ہیں اور اسی میں وہ اپنا مفاد سمجھتی ہیں۔ اس لیے عالم اسلام کو ہی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کرنا ہوگا اور اس کے لیے سب سے اہم کردار او آئی سی کا بنتا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اس معاملہ میں متحرک ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دنیا نیوز کا انٹرویو
خواتین کے معاملے میں مذہبی ردعمل کی بات تو کی جاتی ہے لیکن مثبت باتوں کو عوام تک نہیں آنے دیا جاتا۔ اسلامی معاشرے میں خواتین کا کردار کم از کم وہ نہیں ہو سکتا جو مغرب چاہتا ہے۔ کیونکہ اسلام عورت کو ایک فطری دائرے میں رکھتا ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے مغرب کا اپنا خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے اور اب وہ خواتین کے حقوق کے نام پر ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ مغرب کے دانشور خود خاندانی نظام کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں مگر ہمیں اس نظام سے محروم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغربی روٹ پر ایک روحانی سفر
ہمارے سفر کی اصل منزل چودھواں ہی تھی کہ برادرم مولانا عبد القیوم حقانی کے ارشاد پر دارالعلوم عربیہ حنفیہ کے سالانہ جلسہ میں حاضری کا وعدہ کر رکھا تھا جو ہمارے بزرگوں مولانا مفتی عطاء محمدؒ ، مولانا عبد المنانؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، اور قاری محمد رفیقؒ کی یادگار ہے۔ اور یہ ادارہ مولانا مفتی محمد یونس کی محنت و کاوش سے بنین و بنات دونوں شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ دستار بندی کے ساتھ ساتھ بخاری شریف کے افتتاحی سبق کا پروگرام بھی تھا۔ فیصل آباد کے مولانا اصغر علی نے یہ فریضہ سر انجام دیا اور اس سے دارالعلوم مذکور میں پہلی بار دورۂ حدیث کا آغاز ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عبد الستار ایدھی مرحوم
عبد الستار ایدھی مرحوم کی زندگی سماجی خدمت سے عبارت تھی۔ خدمت، خدمت اور خدمت ان کا واحد مقصد تھا۔ وہ اسی کے لیے جیے اور اسی راہ میں چلتے چلتے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ نہ تو پڑھے لکھوں میں شمار ہوتے تھے اور نہ ہی مال و دولت میں ایک عام شخص سے زیادہ کوئی مقام رکھتے تھے۔ انہیں ان کی داڑھی اور سادگی کے باعث مولانا ایدھی کہہ دیا جاتا تھا لیکن وہ نماز روزے کی واجبی تعلیم سے زیادہ دین کا علم نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی انہیں اس کا دعویٰ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نام کے بھی اثرات ہوتے ہیں!
جہاز کی کپتان محترمہ کیپٹن عائشہ رابعہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ جہاز اتارنے کے لیے لاہور کا موسم سازگار نہیں ہے اس لیے اگر مناسب موقع نہ ملا تو ہم کراچی واپس چلے جائیں گے۔ میں پہلے ہی اپنے طے شدہ شیڈول سے لیٹ ہوگیا تھا، جبکہ میرے لیے طے شدہ پروگرام میں گڑبڑ سب سے مشکل مسئلہ ہوتی ہے، اس لیے پریشانی ہوئی کہ ایک دن اور لیٹ ہو جاؤں گا۔ دل میں کئی بار خیال آیا کہ کیپٹن عورت ذات ہے شاید رسک نہ لے۔ پھر خیال آیا کہ نام عائشہ ہے ممکن ہے ہمت کر ہی لے۔ اسی شش و پنج میں کم و بیش نصف گھنٹہ تک جہاز فضا میں بادلوں کے اوپر چکر کاٹتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شعر و شاعری کی اہمیت و ضرورت
شعر فی نفسہٖ حضورؐ نے استعمال بھی کیاہے اور اس کی تعریف بھی کی ہے، آپؐ نے شعر سنے بھی ہیں اور سنائے بھی ہیں۔ نفی کا مطلب مطلقاً نفی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر ہونا حضورؐ کے شایان شان نہیں۔ مطلقاً شعر کا وجود ایک ذریعہ ہے جو اظہار کے طور پر پہلے بھی موجود رہا ہے، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا۔ آنحضرتؐ نے شعر وشاعری کو اسلام کی دعوت و دفاع کے لیے استعمال کیا ہے، حضورؐ خود شعر نہیں کہتے تھے لیکن شعر کو حُدی، رجز اور غزل کے طور پر آپؐ کے سامنے پڑھا گیا ہے جس پر آپؐ داد بھی دیتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اچھے اور برے لوگوں کی علامات رسول اللہ ﷺ کی نظر میں
امام بخاریؒ نے ’’الادب المفرد‘‘ میں حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے ایک روایت بیان کی ہے جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے اور برے مسلمانوں کی علامات بیان فرمائی ہیں۔ اسماء بنت یزیدؓ انصاریہ خاتون ہیں، صحابیہ ہیں اور ان کا لقب خطیبۃ الانصار بیان کیا جاتاہے۔ بڑی خطیبہ تھیں اور عوتوں میں وعظ کیا کرتی تھیں۔ حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن جناب رسول اللہؐ نے فرمایا ’’اَلا اُخبرکم بخیارکم‘‘ کہ کیا میں تمہیں تمہارے اچھے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علم کی ضروریات اور ذمہ داریاں
امام غزالیؒ نے جتنے درجات بیان کیے ہیں مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ان میں سے دوسرے درجے میں زیادہ فٹ بیٹھتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو دین کے کسی نہ کسی شعبہ میں اور کسی نہ کسی درجے میں کچھ نہ کچھ علم تو رکھتے ہیں لیکن ہمیں اس حیثیت سے اپنی ضروریات اور ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے اور ہم انہیں پورا کرنے کی طرف متوجہ نہیں ہو رہے۔ اس لیے میں اسی حوالہ سے کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔علماء کہلاتے ہوئے کچھ چیزیں تو ہماری ضروریات ہیں اور کچھ باتیں ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ٹی وی پروگراموں کے طے شدہ اہداف
ہمارے بہت سے اینکرز کی یہ پالیسی اور طریق کار ہے کہ وہ اپنے مہمانوں کو بات کہنے کا موقع دینے کی بجائے ان سے اپنی بات کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور خاص طور پر مذہبی راہ نماؤں کے بارے میں تو یہ بات طے شدہ ہے کہ مذہب کی نمائندگی کے لیے چن چن کر ایسے حضرات کو سامنے لایا جاتا ہے اور ان سے بعض باتیں حیلے بہانے سے اس انداز سے کہلوائی جاتی ہیں کہ مذہب کے نام پر کوئی ڈھنگ کی بات پیش نہ ہو سکے۔اور جو بات بھی ہو وہ مذہب اور مذہبی اقدار پر عوامی یقین و اعتماد کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام اور جدیدیت کی کشمکش
انسان کے ذمہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا کی چند روزہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے آسائش تلاش کرے، اسباب فراہم کرے، اور ان کے بہتر سے بہتر استعمال کے طریقے دریافت کرتا رہے۔ بلکہ یہ بھی اس کی نوعی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ کائنات کو وجود میں لانے والے خالق و مالک کی مرضی معلوم کرے اورا س کی مرضی و منشاء کی تکمیل کے لیے متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کی زندگی کے لیے، جو اصلی اور دائمی حیات ہے، فکرمند ہو اور اسے بہتر بنانے کو زندگی کا مقصد قرار دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور عالمی معاہدوں کا جبر
کہا جاتا ہے کہ یورپین یونین سے علیحدگی کو برطانوی عوام برطانیہ کی خودمختاری اور آزادی کی بحالی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کے قوانین اور معاہدات کی وجہ سے برطانیہ کی اپنی خودمختاری محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اس کے لیے اپنے بہت سے قوانین پر چلنا مشکل ہوگیا ہے۔ چنانچہ برطانوی عوام اپنے ملکی قوانین و نظام پر ایسے بین الاقوامی معاہدات کی بالادستی کو پسند نہیں کرتے اور آزادی و خودمختاری کا ماحول بحال کرنے کے لیے اس کے دائرے سے باہر نکل جانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تذکرۂ نبویؐ کے چند آداب
بزرگوں کے دن منانا یا کچھ ایام کو ان کی یاد کیلئے مخصوص کر دینا تو کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا لیکن انہیں یاد کرنا اور ان کی خدمات اور قربانیوں کا تذکرہ کرتے رہنا رحمتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنتا ہے ا ور اس سے راہ نمائی ملتی ہے۔ اور بزرگوں کے تذکرہ کے کچھ آداب اور کچھ تقاضے بھی ہیں جنہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ہم سب سے زیادہ تذکرہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتے ہیں اور انہی کا سب سے زیادہ تذکرہ کرنا چاہیے۔ مگر قرآن کریم نے اس کے کچھ آداب بیان کیے ہیں اور خود حضورؐ نے بھی چند آداب کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
درسگاہ نبویؐ کے دو طلبہ
حضرت عبد اللہ درخواستی ؒ فرماتے تھے کہ ’’بڑوں کی موت نے ہم جیسوں کو بھی بڑا بنا دیا‘‘۔ حضرت درخواستیؒ تو کسرِ نفسی کرتے تھے مگر سچی بات یہ ہے کہ ہمارا معاملہ فی الواقع اسی طرح کا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرات شیخینؒ اور ان کے رفقاء کے آباد کردہ اس گلشن کو ہمیشہ آباد رکھیں، ہمیں اس کی آبیاری کرتے رہنے کی توفیق دیں، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں،آمین۔ میں تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر عزیز طلبہ کو برکت کے لیے درسگاہ نبویؐ کے دو طلبہ کا واقعہ سنانا چاہتا ہوں کہ ہمارے لیے راہ نمائی کا سرچشمہ وہی لوگ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’عیدِ محکوماں ہجومِ مومنین‘‘
آزاد قوموں کی عید تب ہوتی ہے جب ملک با وقار ہو اور دین سر بلند ہو۔ آج ہمارا دین کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور ہمارے ملک کی کیا حالت ہے؟ ہماری اصل عید تو اس دن ہوگی جب ملک کو حقیقی آزادی حاصل ہوگی، قوم خود مختار ہوگی ، دین سر بلند ہوگا، اور ہم اپنے دین کے نفاذ اور سر بلندی کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ اس لیے کہ غلاموں اور مجبوروں کی عید بھی کیا عید ہوتی ہے؟ آئیے مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عید نصیب فرمائیں، ملکی آزادی، قومی خود مختاری اور دین کی سر بلندی کی منزل سے ہمکنار کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حفاظ قرآن کریم کی خدمت میں !
جناب نبی اکرمؐ نے مختلف احادیث مبارکہ میں بیسیوں اعزازات و امتیازات کا تذکرہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن قرآن کریم کے حافظوں کو عطا ہوں گے۔ ان میں سے ایک کا تذکرہ کروں گا کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حافظ قرآن کریم کو اپنی برادری اور خاندان کے دس افراد کی سفارش کا حق دیں گے جو اس کی سفارش پر جنت میں داخل ہوں گے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اعزازات کا احادیث مبارکہ میں ذکر ہے لیکن آنحضرتؐ نے یہ اعزازات اور امتیازات ہر حافظ کے لیے بیان نہیں کیے بلکہ اس کی شرائط بھی بیان فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 126
- 127
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »