انتخابات اور توقعات
مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ ملک کے مختلف انتخابی حلقوں میں گھوم پھر کر ان امیدواروں کے درمیان مفاہمت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو ہم مسلک ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں اور مذہبی ووٹ کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ جگ ہنسائی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ ہمارے تین بزرگوں مولانا سلیم اللہ خان، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر کی طرف سے اس سلسلہ میں مشترکہ دردمندانہ اپیل مسلسل شائع ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نصاب تعلیم کا ایک جائزہ ۔ الشریعہ اکادمی میں سیمینار
نصاب تعلیم کے حوالے سے ایک دائرہ یہ ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور قومی نصاب تعلیم کس حد تک ملک کی نظریاتی اساس کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ دوسرا یہ کہ ہماری قومی تعلیمی ضروریات کیا ہیں اور مذہب و ثقافت کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، سول سروس، ملٹری، معیشت اور دیگر شعبوں کے تقاضوں کو یہ تعلیمی نصاب و نظام کس حد تک پورا کرتا ہے؟ اور تیسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں ملک و قوم کی بین الاقوامی ضروریات کیا ہیں اور ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو پورا کرنے میں یہ قومی نصاب تعلیم کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۲۰۱۳ء کے انتخابات اور دینی جماعتوں کا انتشار
حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر اور حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی مشترکہ اپیل روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں مسلسل شائع ہو رہی ہے جس میں عام انتخابات کے موقع پر دینی جماعتوں میں باہمی تعاون و اشتراک کے فقدان اور الگ الگ انتخابی مہم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ اپیل کی گئی ہے کہ کم از کم اتنا تو کر لیا جائے کہ جن حلقوں میں دینی جماعتوں کے امیدوار آپس میں مقابلہ کر رہے ہیں ان حلقوں میں ان کے درمیان ایڈجسٹمنٹ کی کوئی صورت نکال لی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق فتنوں کے ہجوم اور یلغار کے دور میں دو آدمی اپنا ایمان بچانے میں کامیاب رہیں گے۔ ایک وہ شخص جو شہری آبادی سے الگ تھلگ دور دراز علاقے میں بکریوں کے دودھ پر گزارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی میں زندگی گزار دے، اور دوسرا وہ شخص جو گھوڑے کی لگام پکڑے دین کے دشمنوں کے خلاف مسلسل برسرِ پیکار رہے۔ چنانچہ فتنوں کے خلاف سرگرم عمل رہنا، ان کے مقابلہ اور سدّباب کے ساتھ اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق المدارس کا مجوزہ عالمی اجتماع ۲۰۱۴ء
وفاق المدارس کی پچاس سالہ تعلیمی و علمی خدمات کے حوالہ سے مارچ 2014ء کی 21، 22 اور 23تاریخ کو اسلام آباد میں ایک عالمی اجتماع منعقد کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ اس اجتماع میں وفاق المدارس سے اب تک فارغ التحصیل ہونے والے علماء، قراء اور حفاظ کی دستار بندی کی جائے گی۔ ملک کی سرکردہ علمی شخصیات کے علاوہ امام کعبہ، شیخ الازہر اور مہتمم دار العلوم دیوبند سمیت دنیا بھر کی ممتاز دینی و علمی شخصیات خطاب کریں گی اور ایک محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد افراد کی شرکت اس میں متوقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انتخابات ۲۰۱۳ء ۔ دینی جماعتوں کے قائدین سے اپیل
ملک کے دیگر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی پاکستان شریعت کونسل کے فورم پر قومی سیاست میں شریک مذہبی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ متحدہ محاذ بنا کر اس الیکشن میں مشترکہ طور پر شریک ہوں یا کم از کم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ مذہبی ووٹ کے تقسیم ہو جانے کے امکانات کو کم سے کم کرنے کا کوئی لائحہ عمل طے کریں مگر یہ گزارش لائق التفات نہیں سمجھی گئی اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے انتخابی راستے جدا جدا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میٹرو بس لاہور کا ایک سفر
گوجرانوالہ سے ویگن پر شاہدرہ پہنچا اور وہاں سے میٹرو بس کے اسٹیشن سے سوار ہونے کی ترتیب بنائی، اکیلا ہی سفر کر رہا تھا جیسا کہ میرا عام معمول ہے، میٹرو اسٹیشن پر مسافروں کی لمبی لائن دیکھ کر کچھ الجھن سی ہوئی مگر برقی سیڑھی کو عبور کر کے لائن میں لگنے کا حوصلہ کر ہی لیا۔ مجھے لائن میں کھڑا دیکھ کر عملے کا ایک نوجوان آگے بڑھا اور کہا کہ آپ لائن میں کھڑے نہ ہوں آگے سیدھے کاؤنٹر پر چلے جائیں، آپ کو براہ راست ٹکٹ مل جائے گا۔ میں ساری لائن کراس کر کے کھڑکی کے پاس پہنچا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نظریۂ پاکستان کیا ہے؟
نظریۂ پاکستان کے خلاف کالم لکھنے پر ملک کے معروف صحافی ایاز میر کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے مسترد کیے جانے کے بعد سیکولر اخبار نویسوں کے ہاتھ میں نظریہ پاکستان کے بارے میں اپنے منفی جذبات کا اظہار کرنے کا ایک اور موقع آگیا ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے میں پوری مستعدی دکھا رہے ہیں۔ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کیا جا رہا ہے کہ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کیا ہے؟ اور اس کی تعبیر و تشریح کیا ہے؟ یہ بات ایسے لہجے میں کہی جا رہی ہے جیسے ان دوستوں کو سرے سے نظریۂ پاکستان کے بارے میں کچھ علم ہی نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نجم سیٹھی اور اسلامی نظریہ سے وفاداری کا حلف
نجم سیٹھی کا نام نگران وزیر اعلیٰ کے لیے کچھ اس طرح غیر متوقع طور پر سامنے آیا اور بظاہر ایک پلاننگ کے ساتھ طے بھی پا گیا کہ ہم لوگ سوچتے ہی رہ گئے، ورنہ اس پر اسی لہجے میں بات ہو سکتی تھی جس طرح ملک کے نگران وزیر اعظم اور پھر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے محترمہ عاصمہ جہانگیر کا نام سامنے آنے پر دینی حلقوں کی طرف سے بروقت سامنے آگئی تھی اور مؤثر ثابت ہوئی تھی۔ اس لیے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی اپنے افکار و نظریات اور سیاسی کردار کے حوالہ سے ایک ہی کیمپ اور گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام زندہ باد کانفرنس ۲۰۱۳ء کا احوال
لوگ مقررین کی تقریریں سن رہے تھے اور میں ذہن میں نصف صدی قبل کی یادیں تازہ کر رہا تھا جب اسی لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام کی کانفرنسیں ’’آئین شریعت کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا کرتی تھیں۔ یہ ۱۹۶۷ء، ۱۹۶۸ء، ۱۹۶۹ء کے دور کی بات ہے اور ہماری کانفرنسیں اس زمانے میں دہلی دروازہ، موچی دروازہ اور مستی گیٹ کے باہر باغات میں ہوتی تھیں۔ ان کانفرنسوں سے وقتاً فوقتاً آغا شورش کاشمیریؒ ، سردار محمد عبد القیوم خان اور مولانا کوثر نیازی مرحوم نے بھی خطاب کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد اور جمعیۃ علماء اسلام
جمعیۃ علماء اسلام کے حوالہ سے میں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی سابقہ جدوجہد اور مساعی کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ اس وقت ملک کے ہر شخص کی زبان پر ہے کہ کرپشن سے نجات حاصل کی جائے اور انتخابات کے ذریعہ ایسی قیادت سامنے لائی جائے جو کرپشن سے پاک ہو اور ملک کو کرپشن سے نجات دلا سکے۔ میں نے عرض کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں کرپشن کے حوالہ سے تین بڑی بڑی فہرستیں قوم کے سامنے آئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کراچی کی سرگرمیاں
کراچی میں حاضری کے آخری دن کا بیشتر حصہ جامعۃ الرشید میں گزرا اور حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم سے ان کے والد محترمؒ کی وفات پر تعزیت کے علاوہ اساتذہ اور طلبہ کی دو نشستوں میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا جن کا موضوع قیامِ پاکستان کے بعد کی دینی تحریکات تھا، ایک نشست میں نفاذِ اسلام کی دستوری جدوجہد کے بارے میں گزارشات پیش کیں اور دوسری نشست میں نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں دستوری اور قانونی پیش رفت کو سبوتاژ کرنے کے حوالہ سے سیکولر حلقوں اور بیوروکریسی کی سازشوں اور چالوں پر ایک نظر ڈالی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تذکرہ تحریکات آزادی
ہمارے فاضل دوست مولانا شفیع اللہ چترالی نے ’’تذکرہ تحریکات آزادی‘‘ کے عنوان سے آزادی کی مختلف تحریکات کے تعارف پر مشتمل ایک جامع کتاب مرتب کی ہے جس میں انہوں نے بہت سی طویل کتابوں میں بکھری ہوئی معلومات کو اچھے ذوق اور اسلوب کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔ میرے خیال میں ان کی یہ کتاب دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں کے کارکنوں کے لیے بھی اپنے اکابر کی قومی و ملی جدوجہد سے واقفیت کے حوالہ سے بہترین گائیڈ اور راہنما ثابت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہماری دینی تحریکات کی ناکامی کے اسباب
ہماری دینی تحریکات اس وقت مدّو جزر کے جس دور سے گزر رہی ہیں، ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کو جی چاہ رہا ہے، لیکن اس سے پہلے ربع صدی قبل کے ایک قومی کنونشن کی رپورٹ اور اٹھارہ سال قبل کے ایک بین الاقوامی سیمینار کی رپورٹ قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا۔ اس گزارش کے ساتھ کہ ان دونوں رپورٹوں کو توجہ کے ساتھ ملاحظہ فرمایا جائے تا کہ جو معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں ان کا پس منظر سب کے سامنے ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت
گزشتہ روز لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔ (۱) باغ جناح کی ’’قائد اعظم لائبریری‘‘ میں ’’آنحضرت ﷺ بحیثیت حکمران‘‘ کے موضوع پر سیرت کانفرنس تھی۔ (۲) ظہر کے بعد ایوان اقبالؒ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیر اہتمام ’’سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس‘‘ میں حاضری دی۔ (۳) اسی روز شام کو نماز مغرب کے بعد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مسجد خضراء میں چند احباب کو موجودہ حالات کے حوالہ سے مشاورت کے لیے دعوت دے رکھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بڑھتی ہوئی سنی شیعہ کشمکش
شیخ الازہر کا شمار عالمِ اسلام کی ممتاز علمی و دینی شخصیات میں ہوتا ہے اور ’’الامام الاکبر‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ اس منصب پر سرکردہ اصحابِ علم و فضل وقتاً فوقتاً فائز ہوتے آرہے ہیں، ان کی علمی و دینی رائے اور فتویٰ کو نہ صرف مصر میں بلکہ عالمِ اسلام اور خاص طور پر عرب دنیا میں اہمیت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، مصر اور عالم اسلام کے مختلف مسائل پر وقیع رائے کا اظہار ان کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے، ان دنوں اس منصب پر فضیلۃ الدکتور احمد الطیب حفظہ اللہ تعالیٰ فائز ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گلگت بلتستان کی انتظامی حیثیت کا تنازع
محمد خان جونیجو مرحوم کی وزارت عظمیٰ کا دور تھا، پرنس عبد الکریم آغا خان کی آمد و رفت گلگت بلتستان کے علاقے میں معمول سے بڑھ گئی تھی، اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کو مستقل صوبہ بنانے کی باتیں اخبارات میں آنا شروع ہوئیں تو باخبر حلقوں میں تشویش پیدا ہونے لگی، اتنے میں یہ خبر شائع ہوئی کہ وزیر اعظم جونیجو مرحوم گلگت کا دورہ کرنے والے ہیں اور اس موقع پر گلگت بلتستان اور سکردو پر مشتمل شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا مستقل صوبہ بنانے کا اعلان متوقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی عبد القیوم ہزارویؒ
۷ فروری کو نمازِ مغرب کے بعد مری کے قریب ایک تعلیمی مرکز میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ان کی فرمائش پر اپنے دورِ طالب علمی کے کچھ واقعات کا تذکرہ کر رہا تھا اور استاذِ محترم حضرت عبد القیوم ہزارویؒ کا تذکرہ زبان پر تھا۔ میں دوستوں کو بتا رہا تھا کہ جن اساتذہ سے میں نے سب سے زیادہ پڑھا اور بہت کچھ سیکھا ہے، ان میں حضرت والد مکرم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بعد تیسرے بڑے استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضورؐ کی مجلسی زندگی
جناب نبی اکرم ﷺ کے روز مرہ معمولات کا آغاز بھی مجلس سے ہوتا تھا اور اختتام بھی مجلس پر ہی ہوتا تھا، صبح نماز کے بعد عمومی مجلس ہوتی تھی اور رات کو عشاء کے بعد خواص کی محفل جمتی تھی جبکہ دن میں بھی مجلس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ سیرت اور حدیث کی مختلف روایات میں بتایا گیا ہے کہ نماز فجر کے بعد جناب نبی اکرم ﷺ مسجد میں ہی اشراق کے وقت تک تشریف فرما ہوتے تھے، اس دوران وہ ساتھیوں کا حال احوال پوچھتے تھے، کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا اور تعبیر پوچھتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عقیدۂ ختم نبوت اور قومی وحدت
یہ مسئلہ امت میں چودہ سو سال سے متفقہ چلا آرہا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں، اور اس کی تشریح خود حضورؐ نے فرما دی ہے کہ ان کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ جبکہ نبی اکرمؐ نے اس کے ساتھ یہ پیش گوئی بھی فرما دی تھی کہ جھوٹے مدعیان نبوت بڑی تعداد میں ظاہر ہوں گے جو دجال اور کذاب ہوں گے۔ امت مسلمہ کا عقیدۂ ختم نبوت پر اسی تشریح کے مطابق ایمان و عقیدہ چلا آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عدلِ اجتماعی کا تصور تعلیمات نبویؐ کی روشنی میں
عام طور پر ایک حکومت اور ریاست کی ذمہ داری میں شہریوں کی جان و مال کی حفاظت، امن کی فراہمی، انصاف کے قیام اور ان کے حقوق کی پاسداری کو شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن جناب نبی اکرم ﷺ نے حکومت و ریاست کی ذمہ داریوں میں ایک اور بات کا اضافہ کیا کہ وہ شہریوں کو ضروریات زندگی کی فراہمی اور سوسائٹی کے نادار، بے سہارا اور معذور لوگوں کی کفالت کی بھی ذمہ دار ہے۔اسی کو آج کی دنیا میں رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مدارس آرڈیننس نافذ کرنے کا نیا سرکاری پروگرام
دینی مدارس کے بارے میں صدر پرویز مشرف اور وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے اعلانات کے باوجود تذبذب اور گومگو کی فضا ابھی تک ختم نہیں ہوئی اور مختلف حوالوں سے یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ حکومت ریگولیشن اور رجسٹریشن کے نام پر اس آرڈیننس کو ایک بار پھر جھاڑ پھونک کر نفاذ کے مرحلہ تک لانے کی تیاریاں کر رہی ہے جسے دینی مدارس کے تمام وفاقوں نے متفقہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق صوبہ سرحد کی حکومت نے پچھلے دنوں وفاقی حکومت سے استفسار کیا کہ جو مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قاضی حسین احمدؒ
قاضی صاحب مرحوم کے ساتھ میرے تعلقات کی نوعیت دوستانہ تھی اور مختلف دینی و قومی تحریکات میں باہمی رفاقت نے اسے کسی حد تک بے تکلفی کا رنگ بھی دے رکھا تھا، ان کے ساتھ میرا تعارف اس دور میں ہوا جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے قیم تھے۔ پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے اتحاد میں شامل جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہوتا تھا، یہ رابطہ انتخابی مہم میں بھی تھا اور تحریک نظام مصطفی ﷺ کے نام سے چلائی جانے والی اجتماعی تحریک میں بھی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کا نظامِ خلافت
سوال پیدا ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے تو پھر آپؐ کے بعد سیاسی نظام کس کے ہاتھ میں ہوگا۔ چنانچہ مذکورہ بالا جملہ کے ساتھ ہی جناب نبی اکرمؐ نے فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا وستکون بعدی خلفاء البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے جو اس سیاسی نظام کو سنبھالیں گے۔ اس طرح آپؐ نے خلافت کو امت مسلمہ کے سیاسی نظام کے طور پر بیان فرمایا ہے اور اسلام کے سیاسی نظام کا عنوان ’’خلافت‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ۔ الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تعلق نانوتہ میں مقیم صدیقی خاندان سے تھا، انہوں نے خود اپنا نسب نامہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق وہ حضرت قاسم بن محمدؒ کی اولاد میں سے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پوتے تھے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نہ صرف بھتیجے تھے بلکہ ان کے علوم و فیوض کے ورثاء میں ان کا نام سرفہرست شمار ہوتا ہے اور وہ تابعینؒ کے دور کے سات بڑے فقہاء کرام میں شامل ہیں۔ حضرت نانوتویؒ ایک زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے لیکن قدرت نے ان کی راہ نمائی دینی تعلیم کی طرف کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد اللطیف انورؒ
شاہکوٹ کے مولانا عبد اللطیف انور گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دینی و مسلکی کارکنوں کی موجودہ کھیپ شاید اس نام سے اتنی مانوس نہ ہو مگر دو عشرے قبل کے تحریکی ماحول میں یہ ایک متحرک اور جاندار کردار کا نام تھا۔ شیرانوالہ لاہور اور جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ گہری عقیدت اور بے لچک وابستگی رکھنے والے مولانا عبد اللطیف انور رحمہ اللہ تعالیٰ کا نام سامنے آتے ہی نگاہوں کے سامنے ایک بے چین اور مضطرب شخص کا پیکر گھوم جاتا ہے جو ملک میں نفاذ شریعت، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس صحابہؓ اور مسلک علماء دیوبند ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ
جامعہ حمادیہ کراچی کے حضرت مولانا عبد الواحدؒ کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت شاہ صاحبؒ ملک کے ان بزرگ اور مجاہد علماء کرام میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف تعلیم و تدریس کی مسند کو آباد کیا بلکہ زندگی بھر نفاذ شریعت کی جدوجہد اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کی محنت میں مصروف رہے۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ کے نامور تلامذہ میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی قوتوں کا باہمی انتشار کم کرنے کی ضرورت
گزشتہ بعض دینی پروگراموں میں شرکت کے سلسلے میں فیصل آباد جانا ہوا تو النور ٹرسٹ فیصل آباد کے چیئرمین حافظ پیر ریاض احمد چشتی نے فون پر دریافت کیا کہ بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین مولانا مفتی سعید احمد اسعد آپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں، انہیں کیا جواب دوں؟ میں نے عرض کیا کہ آج کے پروگرام کا نظم آپ کے ہاتھ میں ہی ہے۔ اگر گنجائش ہو تو ان کے ہاں جانے کی ترتیب بنالیں۔ چنانچہ جاتے ہی پہلے ان سے ملاقات کا پروگرام بن گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جسٹس (ر) سرمد جلال کے متنازع ریمارکس اور تحریک انسداد سود
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے رخصت ہوتے ہوئے قومی زبان اردو کے متعلق تاریخی فیصلہ صادر کر کے ایک کریڈٹ اپنے نام تاریخ میں محفوظ کر لیا تھا، جبکہ جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی نے بھی جاتے ہوئے سودی نظام کے خلاف حافظ عاکف سعید کی رٹ مسترد کر کے اور متنازعہ ریمارکس دے کر ایک ’’کریڈٹ‘‘ اپنے نام ریکارڈ کرا دیا ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے جج کے طور پر فرمایا کہ سودی نظام ختم کرانا سپریم کورٹ کا کام نہیں او رنہ ہی وہ سپریم کورٹ میں مدرسہ کھول کر کے سود کے حرام ہونے کی تعلیم دے سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اقوام متحدہ اور عالم اسلام
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی کی لیگل کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے۔ اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردار کشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز کاروائیاں ناقابل برداشت ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 142
- 143
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »