اسلام کے بارے میں مسلم حکمرانوں کا افسوسناک طرزعمل

   
اپریل ۲۰۱۱ء

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی ۱۶ مارچ ۲۰۱۱ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق مصر کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹر نصر فرید الواصل نے بتایا ہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے ان پر اسرائیل کو قدرتی گیس کی فروخت کے حق میں فتویٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ایک عربی ٹی وی ’’الحیاۃ ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق مصری مفتی اعظم نے کہا ہے کہ حسنی مبارک کی طرف سے ان پر کئی مرتبہ یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ قاہرہ اور تل ابیب کے درمیان طے پانے والے تمام معاہدوں کے حق میں مہر تصدیق ثبت کریں اور اسلام کی رو سے انہیں جائز قرار دیں۔ ایک سوال کے جواب میں الشیخ واصل نے کہا کہ اسرائیل کو گیس کی فروخت کے معاہدہ کے بعد صدر حسنی مبارک نے انہیں کہا کہ وہ اس معاہدہ کے جواز میں فتویٰ دیں، میں نے فتویٰ دینے میں تامل سے کام لیا تو مجھے عہدے سے ہٹانے کی دھمکی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مصر، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے ’’الکویز‘‘ نامی معاہدے کی توثیق کے لیے بھی مجھ پر فتویٰ جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، مجھے ایوان صدر کی طرف سے مسلسل یہ ہدایات ملتی تھیں کہ آپ مصر اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے تمام معاہدوں کو اسلامی شرعی نقطہ نظر سے درست ثابت کریں۔

مصر کے سابق مفتی اعظم نے جس بات کا انکشاف کیا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ مسلم ممالک میں مغربی تعلیم و ثقافت کی پروردہ جو رولنگ کلاس برسر اقتدار ہے اس کا اسلام کے بارے میں یہی تصور ہے اور انہیں اسلام کے بارے میں یہی کچھ پڑھایا گیا ہے کہ اسلام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرو اور جہاں اپنے ملک کی مسلمان عوام کو اپنی من مانی پالیسیوں کے بارے میں مطمئن کرنے میں دشواری ہو رہی ہو وہاں مسلمانوں کی مذہبی قیادت کو استعمال کر کے عام لوگوں کو چپ کرا دو۔

خود ہمارے ہاں بھی قیام پاکستان سے اب تک رولنگ کلاس کا، خواہ وہ کسی بھی روپ میں برسر اقتدار چلی آرہی ہیں، اسلام کے بارے میں یہی طرز عمل مسلسل جاری ہے۔ قیام پاکستان کے لیے اسلام کا نعرہ قوم کو دیا گیا مگر قیام پاکستان کے بعد سے اب تک اسلام کے عملی نفاذ میں ہماری رولنگ کلاس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے، البتہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے، کرسی بچانے کے لیے اور کرسی پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہٹانے کے لیے اسلام کا نعرہ وقتاً فوقتاً ضرور لگایا جاتا ہے جو وقت گزر جانے اور مقصد حاصل کر لینے کے بعد پھر طاق نسیاں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا منظر ہے جس نے کھلے بندوں لاہور کی سڑکوں پر دو پاکستانیوں کا خون کیا مگر اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی بجائے اسے رہا کرانے کے لیے اوپر سے نیچے تک سب لوگ متحرک ہو گئے، اسے سفارتی استثناء دلوانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی جسے بعض با غیرت لوگوں نے کامیاب نہ ہونے دیا تو ’’دیت‘‘ کے نام پر شرعی مسئلہ کو سامنے لا کر اس کی رہائی کا سامان کر لیا گیا۔ حالانکہ یہ محض دو افراد کے قتل اور ان کے قصاص کی دیت کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک غیر ملکی جاسوس کے پاکستان کے اندر ملک کے مفاد کے خلاف متحرک ہونے کے حوالہ سے قومی خود مختاری، ملکی سلامتی اور ملک کے اندر سازشوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کی کاروائیوں کا مسئلہ بھی تھا جسے یکسر نظر انداز کر کے ایک شرعی مسئلہ کو ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے آڑ کے طور پر استعمال کیا گیا۔حکومت کے اس افسوسناک طرزعمل کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج ہے اور قوم خود مختاری اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کی پاسداری کا مطالبہ کر رہی ہے مگر یوں نظر آتا ہے کہ قومی وقار، خود مختاری، سلامتی اور عوام کے جذبات کی حکمرانوں کے ایجنڈے میں سرے سے کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔

ہمارے والد محترم امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ایک عرصہ تک ملکی سیاسیات میں عملاً شریک رہے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان میں حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی ؒ،حضرت مولانا مفتی محمود ؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ انور ؒ کی معیت میں ان کا سرگرم کردار رہا ہے اور نفاذ اسلام کی جد و جہد میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی ہیں، وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ مسلم ممالک میں اسلام کے نفاذ اور عملداری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلم حکمران ہیں، یہ خود اسلام کا نفاذ نہیں چاہتے اور اپنے مقاصد کے لیے اسلام کو استعمال کرتے ہیں، اس لیے جب تک مغربی تعلیم و ثقافت کی پروردہ اس رولنگ کلاس سے نجات حاصل نہ ہو نفاذ اسلام کی طرف کوئی پیشرفت کامیاب نہیں ہو سکتی۔

   
2016ء سے
Flag Counter