عوام میں حلال و حرام کا شعور بیدار کرنے کی مہم

   
نومبر ۲۰۱۵ء

روزنامہ اوصاف لاہور نے ۱۴ اکتوبر ۲۰۱۵ء کی ایک خبر میں بتایا ہے کہ:

’’پنجاب حلال ڈیویلپمنٹ ایجنسی کے چیئرمین جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سور کے گوشت اور دیگر حصوں کو ۱۰۰ سے زائد کھانے والی اشیا میں استعمال کیا جا رہا ہے جس کو مسلمان بھی انجانے میں استعمال کر رہے ہیں، اس لیے علماء کرام عوام میں حلال و حرام کے استعمال کے حوالہ سے شعور پیدا کریں کہ صرف گوشت ہی حلال اور حرام نہیں ہوتا، ہم روز مرہ زندگی میں بیرونی ممالک سے درآمد شدہ اشیا استعمال کرتے ہیں ان کے اجزائے ترکیبی کو ضرور پڑھ لینا چاہیے کیونکہ اکثر ممالک میں سور کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے ذیلی مصنوعات سے بہت سی روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی اشیا بنتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں راولپنڈی ڈویژن کے مفتیان کرام اور ذبح خانوں کے منتظمین کی حلال سلاٹرنگ کے اسلامی طریقہ کار پر ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ حلال فوڈ ایجنسی اور لوکل گورنمنٹ مل کر پنجاب کے تمام اضلاع سے مفتیان کرام اور سلاٹر ہاؤس منتظمین کو مرحلہ وار ماسٹر ٹرینر کا کورس کروا رہے ہیں جبکہ بعد ازاں ماسٹر ٹرینر قصابوں کی ٹریننگ کریں گے جن کے بعد انہیں لائسنس جاری کیا جائے گا۔

اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ معظم علی جنجوعہ نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ اور حلال ایجنسی مل کر اس پروگرام کو چلا رہے ہیں، اس پروگرام کا مقصد گوشت کی صنعت سے وابستہ افراد کو یہ تربیت دینا ہے کہ صرف جانور حلال کرنے سے گوشت حلال نہیں ہوتا بلکہ اسے اسلامی طریقوں کے مطابق حلال کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں تربیت دے کر لوگوں کا امتحان لیا جائے گا اور پاس ہونے والے قصاب ہی لائسنس کے اہل ہوں گے۔ اس موقع پر راولپنڈی ڈویژن کے مختلف مدارس سے ۵۰ سے زائد علماء کرام شریک ہوئے جبکہ سرکاری و غیر سرکاری مذبح خانوں کے منتظمین نے بھی ورکشاپ میں شرکت کی۔‘‘

جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں جنہوں نے اپنے دور میں عدلیہ میں اسلامی قوانین و روایات کی پاسداری میں مثالی کردار ادا کیا ہے اور اب ان کی سربراہی میں عوام میں حلال و حرام کا شعور بیدار کرنے اور مارکیٹ میں حلال اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حلال ایجنسی اور لوکل گورنمنٹ کی یہ مشترکہ مہم بہت خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔ ہم علماء کرام اور دینی مدارس سے گزارش کریں گے کہ وہ اس مہم میں جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان اور ان کے رفقاء سے بھرپور تعاون کریں تاکہ اس کارِ خیر میں ہمارا بھی حصہ ہو جائے۔

   
2016ء سے
Flag Counter