بسنت میلہ اور جنرل پرویز مشرف

   
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۱ء

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف صاحب نے گزشتہ روز لاہور میں بسنت میلہ کے نام پر ہونے والے ہلے گلے کی حمایت اور اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بہت سے غریبوں کو روزگار فراہم ہوا ہے۔

ہمارے نزدیک ملک کے انتظامی سربراہ کی یہ سوچ حقائق کے منافی ہے، اور اس سے ہمارے ذہن میں وہ نقشہ ایک بار پھر تازہ ہو گیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ڈھاکہ میں طوائفوں نے جلوس نکالا تھا کہ بدکاری اور جسم فروشی پر پابندی لگانے سے ان کا روزگار متاثر ہوتا ہے، اور ان کے بقول ہزاروں خواتین کے بیروزگار ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اس لیے بدکاری اور جسم فروشی پر پابندی عائد نہ کی جائے۔ بنگلہ دیش حکومت نے ان طوائفوں کے مطالبہ کا کیا جواب دیا، وہ ہمیں معلوم نہیں، لیکن جنرل پرویز مشرف صاحب کے اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر خدانخواستہ اس قسم کا کوئی مطالبہ ان کے سامنے آیا تو وہ غریبوں کے روزگار کے تحفظ کے اس جذبہ کے تحت ان کی حمایت سے بھی شاید گریز نہ کریں۔

جنرل صاحب سے گزارش ہے کہ بسنت کے نام پر برپا کیے جانے والے ان میلوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس کلچر اور ثقافت کو فروغ دینے کی روایت ڈالی جا رہی ہے، وہ جسم فروشی اور بدکاری سے اپنے نتائج کے لحاظ سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ اس جشنِ بہاراں کے ذریعے پوری قوم کو ڈھول ڈھمکے اور ناچ گانے کا خوگر بنا کر دینی اور اخلاقی اقدار سے بیگانہ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ فضول خرچی اور بے گناہ جانوں کا ضیاع ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اس لیے ہم جنرل پرویز مشرف سے گزارش کریں گے کہ وہ اپنی اس سوچ پر نظرثانی کریں کیونکہ قوم کی اخلاقی روایات اور دینی اقدار کا تحفظ چند لوگوں کے روزگار سے بہرحال مقدم ہوتا ہے۔ اور چند سو یا چند ہزار افراد کے وقتی مالی مفاد کی خاطر قوم کو بے حیا اور ناچ گانے کا رسیا بنانے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

   
2016ء سے
Flag Counter