آزادی کے اہداف اور درپیش خطرات
آج ہمارا یوم آزادی ہے، ۱۴ اگست کو ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے یہ دوہری خوشی کا دن ہے چنانچہ اس روز پاکستانی عوام ملک بھر میں بلکہ دنیا میں جہاں بھی وہ آباد ہیں، آزادی اور نئے وطن کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے ماضی قدیم کی ایک تحریک آزادی کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے اور جس کی قیادت حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فرقانِ حمید اور فاروقِ اعظمؓ
قرآنِ کریم نے اپنا دوسرا نام ’’الفرقان‘‘ بتایا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ’’الفاروق‘‘ کے لقب سے معروف ہیں، دونوں کا معنٰی حق و باطل میں فرق کرنے والا بنتا ہے۔ جبکہ اس لفظی مناسبت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے حوالہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زندگی بھر کا طرز عمل بھی اس مشابہت و مماثلت کی گواہی دیتا ہے جس کی چند جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گھریلو تشدد کی روک تھام کے قانون پر ہمارے تحفظات
ہماری آج کی گفتگو کا موضوع ایک نیا قانون ہے جو صوبوں میں نافذ ہو گیا ہے اور مرکز میں نافذ ہونے جا رہا ہے، جس کو ”گھریلو تشدد کی روک تھام کا قانون“ کہتے ہیں۔ اس پر ملک بھر کے دینی حلقوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ شرعی احکام کے خلاف ہے ، ہماری تہذیبی روایات کے خلاف ہے، دستور کے خلاف ہے اور مسلمہ انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اس پر بحث چل رہی ہے اور مختلف مکاتب فکر کے دینی حلقے اپنے اپنے ذوق کے مطابق بات کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی جدوجہد کے ناگزیر تقاضے اور ہمارا اصل محاذ
بعد الحمد والصلوٰة۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ مختلف دینی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ حضرات کے اس اجتماع میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ اجتماع سات ستمبر کو مینار پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقد ہوا ہے اور اس میں کانفرنس کو بھرپور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مختلف پروگرام تشکیل دیے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کی اسناد کا توجہ طلب مسئلہ
ہری پور ہزارہ کے حضرت مولانا حکیم عبد السلامؒ ہمارے محترم بزرگوں میں سے تھے، تحریک آزادی کے نامور راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے، میری ان سے نیازمندی رہی ہے اور کئی بار ان کی خدمت میں حاضری اور شفقتیں سمیٹنے کی سعادت ملی ہے۔ ان کے فرزند میجر (ر) محمد طارق مرحوم محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں اور ایک دور میں ثانوی تعلیمی بورڈز کی کسی مشترکہ کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر انہوں نے خدمات سر انجام دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چھ اگست – یومِ تحفظِ نظامِ خاندان
ملی مجلس شرعی پاکستان کی طرف سے گھریلو تشدد کی روک تھام کے قوانین کے حوالے سے جاری کیے گئے سرکلر کا متن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ گھریلو تشدد کی روک تھام کا قانون مختلف صوبوں میں اس سے قبل متعلقہ اسمبلیوں سے منظور ہو کر نافذ ہو چکا ہے جبکہ اسلام آباد کی حدود کے لیے اس قانون کا بل ابھی منظوری کے مراحل میں ہے ۔اس قانون کا مقصد گھر کی چار دیواری کے اندر ہونے والے مبینہ تشدد کو روکنا اور اسے قابل سزا جرم قرار دینا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا پس ِ منظر اور نئی حکومت سے توقعات
ریاست آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مکمل ہو گئے ہیں اور حسبِ روایت پاکستان میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن میں واضح پوزیشن حاصل کر کے آئندہ مدت کے لیے حکومت سازی کا محاذ سنبھال لیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے حسبِ روایت دھاندلی کے الزامات کے ساتھ نتائج قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، لیکن اگر باقی سب کچھ بھی حسبِ روایت ہوا تو اگلی ٹرم میں آزاد جموں و کشمیر کے حکمران تحریک انصاف کے عنوان سے ریاست میں حکومت کے فرائض سرانجام دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوویت یونین، افغانستان اور امریکی اتحاد
یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی جنگ کے اگلے راؤنڈ کی نشاندہی کر دی تھی اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے نئے علاقائی ایجنڈے مختلف عالمی حلقوں میں تشکیل پا رہے تھے۔ اسلام آباد میں لیفٹ کے کچھ دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں یہ بات زیربحث آگئی کہ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی ہے وہ امریکہ کی جنگ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متنازعہ اوقاف قوانین اور گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل
متنازعہ اوقاف قوانین کا مسئلہ ابھی چل رہا ہے کہ گھریلو تشدد کی روک تھام کے نئے بل نے ملک بھر کے دینی اور تہذیبی حلقوں کو ایک نئی پریشانی سے دوچار کر دیا ہے اور ان دونوں حوالوں سے بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں دو اہم محافل میں شرکت کا موقع ملا جن کی روشنی میں اس بارے میں تازہ ترین صورتحال قارئین کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ ۱۸ جولائی کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدیث و سنت کی قانونی حیثیت
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا ایک انٹرویو گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید اور سنت و حدیث کی قانونی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔ طویل انٹرویو ہے، انہوں نے کیا کہا ہے اور کیا کہنا چاہتے ہیں وہ ایک طرف، مگر اس سے جو کچھ سمجھا گیا ہے اور جو سمجھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں قانون کی بنیاد قرآن کریم ہے، حدیث و سنت کی کچھ چیزیں ہیں، لیکن عموماً حدیث و سنت قانون کی بنیاد نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 133
- 134
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »