لاک ڈاؤن اور مساجد کا مسئلہ

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کی طرف سے ایک اپیل سامنے آئی ہے جو انہوں نے کرونا وائرس کے سلسلہ میں بھارتی مسلمانوں سے کی ہے، ہمارے خیال میں وہ بہت متوازن اور قابل عمل ہے، اسے انہی کے الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے: ’’ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ تشویشناک صورتحال کے پیش نظر تمام باشندگان ملک خصوصاً مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس سلسلہ میں محکمۂ صحت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی پابندی کریں اور وطن عزیز کو اس وبا سے محفوظ رکھنے میں تعاون کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مارچ ۲۰۲۰ء

مغربی ممالک میں مسلمانوں کی نئی نسل کا مستقبل اور مسلم دانشوروں کی ذمہ داری

نئی نسل کے بارے میں اس قسم کے خیالات کا اظہار اکثر ہماری مجالس میں ہوتا رہتا ہے اور ہمیں یہ شکایت رہتی ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم ہماری نئی نسل مشرقی روایات، اسلامی اقدار اور پاکستانی تہذیب سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے۔ شکوہ بجا مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں نئی نسل کا قصور کیا ہے؟ اور اسے کوسنے میں ہم کس حد تک حق بجانب ہیں؟ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتحال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور اس کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے، مستقبل کی ضروریات کی نشاندہی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۳ء

امریکہ کا لکڑ ہضم، پتھر ہضم معاشرہ اور مسلمانوں کی نئی پود کا مستقبل

محترم و برادران اسلام! مجھے امریکہ میں حاضری دیتے ہوئے چوتھا سال ہے۔ ہر سال کچھ دنوں کے لیے حاضری کا موقع ملتا ہے۔ یہاں مکی مسجد میں آپ حضرات سے ملاقات کی سعادت بھی حاصل ہوتی ہے۔ پہلی دفعہ ۱۹۸۷ء میں حاضر ہوا تو یہیں مکی مسجد میں مسلسل آٹھ دس روز قادیانیت کے بارے میں روزانہ گفتگو ہوتی رہی۔ اس وقت یہاں آنے کا مقصد بھی قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا اور امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا تھا۔ پھر جوں جوں مسائل و احوال سے واقفیت ہوتی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۹۰ء

’’دیار مغرب کے مسلمان ۔ مسائل، ذمہ داریاں، لائحہ عمل‘‘

برطانیہ کا پہلا سفر میں نے ۱۹۸۵ء میں اور امریکہ کا پہلا سفر ۱۹۸۷ء میں کیا تھا۔ دونوں ممالک کے اس سفر کا ابتدائی داعیہ قادیانی مسئلہ تھا۔ ۱۹۸۴ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان میں اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کی اصطلاحات کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قادیانیوں کو روک دیا اور ان کے لیے اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر و اصطلاحات کے استعمال کو قانوناً جرم قرار دے دیا تو قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز لندن کو بنا لیا اور وہاں ’’اسلام آباد‘‘ کے نام سے نیا مرکز بنا کر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۸ء

ملک بھر کے دینی کارکنوں اور علماء کرام سے اپیل

’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کا انتخابی اور حکومتی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کے قیام کے ساتھ واضح کر دیا گیا تھا کہ انتخابی سیاست اور اقتدار کی کشمکش سے الگ تھلگ رہتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل ملک میں (۱) اسلامی نظام کے نفاذ، (۲) دینی قوتوں میں رابطہ و مفاہمت کے فروغ، (۳) اور اسلام مخالف لابیوں اور سرگرمیوں کے تعاقب کے لیے فکری اور علمی محاذ پر کام کرے گی۔ چنانچہ اسی دائرہ میں رہتے ہوئے کونسل اپنے وسائل اور استطاعت کے دائرہ میں سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام اور متحدہ مجلس عمل کی ریلی

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے بارے میں اسلامی نظریہ کونسل کی حالیہ رائے، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی طرف سے ’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے قیام کے ساتھ اس بل کے خلاف جدوجہد کے اعلان اور متحدہ مجلس عمل کی لاہور سے گجرات تک ریلی کے بعد اس سلسلہ میں صورتحال خاصی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے، مگر اس حوالے سے کچھ عرض کرنے سے قبل ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۰۶ء

سرحد حکومت کے اصل کام

سرحد اسمبلی نے گزشتہ دنوں اہم نوعیت کی چند قراردادیں پاس کی ہیں جو اگرچہ سفارشی نوعیت کی ہیں، مگر ان سے سرحد اسمبلی میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی صوبائی حکومت کے فکری رجحانات کی نشاندہی ہوتی ہے اور نفاذ اسلام کے حوالے سے وفاقی حکومت اور ملک کی دیگر صوبائی حکومتوں کے لیے بھی ان میں راہنمائی کا سامان موجود ہے۔ مکمل تحریر

۲۰۰۲ء غالباً

پاکستان اور عالم اسلام کا مستقبل

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام کا وفد بھارت کے دورے سے واپس آگیا ہے، وفد میں جمعیت کے تین دوسرے لیڈر حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان، اور مولانا قاضی حمید اللہ خان بھی شامل تھے۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں حاضری کے علاوہ جمعیت علماء ہند کے راہنماؤں اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت متعدد بھارتی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں جن میں انڈین نیشنل کانگریس کی لیڈر سونیا گاندھی بھی شامل ہیں۔ اس دورے کا اصل پس منظر تو یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل پشاور میں جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۲۰۰۳ء

عید الفطر پر تذبذب کی صورتحال اور اس کا حل

عید الفطر گزر گئی ہے اور ملک بھر میں روایتی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی ہے۔ رؤیت ہلال کا تنازع حسب توقع عید کے موقع پر بھی قائم رہا۔ صوبہ سرحد کی رؤیت ہلال کمیٹی نے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے پیر کی شام کو اجلاس طلب کر لیا اور سینکڑوں شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دیا کہ عید الفطر ۲۵ نومبر منگل کو ہوگی۔ صوبہ بلوچستان کی رؤیت ہلال کمیٹی نے بھی اس حد تک صوبہ سرحد کا ساتھ دیا کہ چاند دیکھنے کے لیے اجلاس پیر کی شام کو طلب کر لیا مگر کوئی شہادت نہ ملنے کی وجہ سے بدھ کی عید کا اعلان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۰۳ء

تحفظ نسواں بل سے متعلق علماء کمیٹی کی سفارشات

حدود آرڈیننس میں ترامیم بل کے حوالے سے جو بحران پیدا ہوتا نظر آرہا تھا وہ بحمد اللہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کی خصوصی حکمت عملی اور توجہ کے باعث باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ اصولی طور پر رک گیا ہے۔ اور اگر تحفظ حقوق نسواں بل کو قومی اسمبلی میں دوبارہ پیش کرتے وقت کوئی اور الجھن پیدا نہ ہوئی تو امید ہے کہ اس مسئلہ پر کوئی نیا بحران کھڑا نہیں ہوگا اور اس کے ملک کی سالمیت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter