آنجہانی رانا بھگوان داس کی یاد میں تقریب
موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش میں مجھے ایسی مجالس کی تلاش رہتی ہے جن میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ ارباب فکر مل بیٹھ کر انسانی اقدار و روایات کے فروغ اور مذہب کے معاشرتی کردار کے حوالہ سے گفتگو کریں۔ کیونکہ میری طالب علمانہ رائے میں اس وقت نسل انسانی کا سب سے بڑا مسئلہ اور بحران انسانی اخلاقیات اور اقدار کا ہے جن سے انسانی سوسائٹی مسلسل محروم ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ انسانی اخلاق و روایات کے سب سے بڑے علمبردار مذاہب ہیں جو تمام تر باہمی اختلافات اور تنازعات کے باوجود انسان کو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ حفصہ کی صورتحال اور وفاق المدارس کا اعلامیہ
گزشتہ روز وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں پہلی بار باضابطہ طور پر شرکت کا موقع ملا۔ اس سے قبل مختلف حوالوں سے وفاق کے اجلاسوں میں شریک ہوتا رہا ہوں لیکن اس میں باضابطگی نہیں تھی، جبکہ چند روز قبل وفاق کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی طرف سے مجلس عاملہ کا رکن نامزد کیے جانے کے بارے میں ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے بذریعہ خط اطلاع دی اور ساتھ ہی ۱۸ و ۱۹ کو ملتان میں وفاق کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا تو مجھے اس میں شرکت کی سعادت حاصل ہو گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق المدارس کی مجلس شوریٰ کا ایک خوش آئند فیصلہ ۔ چند تجاویز
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کو مزید پانچ سال کے لیے وفاق کا صدر اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کو سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا ہے۔ وفاق کی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے قبل بعض حلقوں کی طرف سے دونوں رہنماؤں کے خلاف ایک مہم بھی چلائی گئی تھی جس کا مقصد انہیں سنگین الزامات کا ہدف بنا کر وفاق کی قیادت میں تبدیلی لانا نظر آتا تھا۔ اس مہم کا دائرہ ملک گیر سطح پر خط و کتابت کے ساتھ ساتھ بعض اخبارات تک وسیع ہوا اور بعض دوستوں نے مجھ سے بھی رابطہ قائم کر کے مشورہ چاہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور برطانوی وزیر اعظم کے خیالات
لندن کے بم دھماکوں کے بعد عالمی حلقوں میں جو ارتعاش پیدا ہوا ہے، اس نے ایک بار پھر دینی مدارس کو بین الاقوامی میڈیا میں گفتگو کا موضوع بنا دیا ہے اور نہ صرف پاکستان میں متعدد دینی مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ ازسرنو شروع ہو گیا ہے بلکہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ایجنڈے میں بھی دینی مدارس اب پہلے نمبر پر نظر آ رہے ہیں۔ لندن کے بم دھماکوں کی دنیا کے ہر باشعور شخص نے مذمت کی ہے کہ اس طرح کسی ملک کے پراَمن شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا بہرحال کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کی اسناد: ایک پہلو یہ بھی ہے
میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث کر کے ۱۹۴۳ء میں گکھڑ (ضلع گوجرانوالہ) آئے اور تب سے یہیں ہیں۔ وہ یہ واقعہ خود سناتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی بار انتخابات کا مرحلہ آیا اور ووٹروں کی فہرستیں مرتب ہوئیں تو ان کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں تھا۔ پوچھا گیا تو پتہ چلا کہ چونکہ آپ سرکاری قانون کی رو سے اَن پڑھ (ناخواندہ) ہیں اور انتخابی قواعد کی رو سے ووٹ دینے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے، اس لیے آپ کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق المدارس کا کامیاب کنونشن
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ ہماری توقعات سے بڑھ کر کامیاب رہا اور وفاق کی قیادت نہ صرف اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی بلکہ اس نے اپنی دوٹوک پالیسی اور موقف کا ایک بار پھر کھلم کھلا اظہار کر کے دنیا کو یہ پیغام دینے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے کہ دینی تعلیم اور اس کے آزادانہ نظام کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے اور کردارکشی کی مسلسل مہم نے دینی مدارس کے اعصاب پر اثر انداز ہونے کے بجائے ان کے لیے مہمیز کا کام دیا اور وہ پہلے سے زیادہ حوصلہ و عزم اور جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے مشن پر کار بند ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق کا اجلاس اور روزنامہ پاکستان کا اداریہ
بات اگر روزنامہ پاکستان کے ادارتی نوٹ کی نہ ہوتی تو لال مسجد اور وفاق المدارس کے مسئلہ پر مزید کچھ لکھنے کا ارادہ نہ تھا، کیونکہ اس کے بارے میں جو کچھ لکھ چکا ہوں، بعض تند و تلخ جوابات کے باوجود اس میں کسی اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ میں مناظرانہ اسلوب اور طعن و تشنیع کی زبان کا عادی نہیں ہوں اور اپنی بات وضاحت کے ساتھ بیان کر کے فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا کرتا ہوں کہ وہ دونوں طرف کی بات پڑھ لیں اور پھر اس کے مطابق جو رائے وہ قائم کر سکیں، کر لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی تعلیمی کمیشن کے سوالنامہ کے جوابات
(حکومت پاکستان کے قائم کردہ قومی تعلیمی کمیشن کی خصوصی کمیٹی نمبر ۵ کے کنوینر جناب جسٹس (ریٹائرڈ) محمد ظہور الحق کی طرف سے دینی مدارس اور عصری اسکولوں و کالجوں کے نصاب و نظام میں ہم آہنگی کے سلسلہ میں ماہرین تعلیم کو ارسال کیے جانے والے سوالنامہ کا مولانا زاہد الراشدی کی طرف سے جواب۔) سوالنامہ: محترم و مکرم، السلام علیکم! حکومت پاکستان نے شریعت کے نفاذ کے لیے اپنی کاوشوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ شریعت بل ۱۹۹۱ء کے تحت قومی تعلیمی کمیشن برائے اسلامائزیشن تشکیل دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ حفصہ کی طالبات کا احتجاج اور اعتدال کی راہ
اسلام آباد میں حکومت کی طرف سے گرائی جانے والی مساجد کا مسئلہ حکومت اور علماء کے درمیان مذاکرات اور بظاہر ایک سمجھوتے تک پہنچ جانے کے باوجود زیادہ گھمبیر اور پریشان کن ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں تک مسجدوں کو گرانے کا تعلق ہے، اس کے بارے میں اصولی موقف گزشتہ کالم میں ہم بیان کر چکے ہیں اور اب بھی اسی موقف پر قائم ہیں کہ اگر کسی مناسب اور موزوں سرکاری زمین پر علاقہ کے لوگوں نے اپنی ضرورت کے تحت مسجد بنا لی ہے اور مسجد بن جانے کے بعد سرکاری محکموں نے اپنی ڈیلنگ میں اسے مسجد کے طور پر قبول کر لیا ہے تو وہ شرعی مسجد بن گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد العزیز کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان
جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات اور مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبد العزیز کی مسلسل تگ و دو کا جو نتیجہ سامنے آیا ہے، اس پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم اس سے قبل اس مہم کے حوالے سے اس کالم میں معروضات پیش کر چکے ہیں اور گفتگو کو آگے بڑھانے سے قبل اس کا خلاصہ ایک بار پھر قارئین کے سامنے پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ جہاں تک اسلام آباد کی مساجد کے تحفظ، ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اور معاشرہ میں فواحش و منکرات کے سدباب کے حوالے سے ان کے موقف اور مطالبات کا تعلق ہے تو ان سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 160
- 161
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »