بیت المقدس اور مسلم حکمرانوں کا طرزِ عمل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی سفارت خانہ کی بیت المقدس میں منتقلی کے اعلان کو بھاری اکثریت کے ساتھ مسترد کر کے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ بیت المقدس ابھی تک متنازعہ علاقہ ہے اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی معاملات اور قوانین کے منافی ہے۔ فلسطین آج سے سو سال قبل خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا، جنگ عظیم میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ بھی شکست سے دوچار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں جرمنی کے ساتھ ساتھ خلافت عثمانیہ کے بہت سے علاقوں کو بھی فاتح اتحادی فوجوں نے قبضہ میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۸ء

’’حدود آرڈیننس‘‘ میں ترامیم کا پس منظر

پاکستان میں حدود قوانین کی مخالفت کا سلسلہ ان کے نفاذ کے بعد سے ہی جاری ہے اور ملک کے سیکولر حلقوں کے ساتھ سینکڑوں این جی اوز اور انسانی حقوق کے حوالہ سے کام کرنے والی بیسیوں تنظیمیں اس مقصد کے لیے ربع صدی سے متحرک ہیں۔ ان کی اس مہم کا اصل مقصد تو وہی ہے جو بین الاقوامی حلقوں کا ہے جبکہ ملک کے اندرونی سیکولر حلقوں کی جدوجہد کے اہداف مذکورہ بالا بین الاقوامی اہداف سے مختلف نہیں ہیں، لیکن ان کے اعتراضات میں کچھ داخلی امور بھی ہیں جن میں سے ایک دو کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۰۶ء

دینی جدوجہد کا نیا دور اور اس کے تقاضے

گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنماؤں مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کے ہمراہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات اور اہم ملکی امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ محترم سید سلمان گیلانی، عزیزم حافظ محمد خزیمہ خان سواتی، جناب بلال میر اور حافظ شاہد میر بھی شریک محفل تھے۔ ملک کی عمومی صورتحال کے تناظر میں دینی جد و جہد کے اہم پہلو زیر بحث آئے جن میں نئی حکومت کے بعض اقدامات اور ان کا عوامی ردعمل سامنے رکھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

پرنس ہیری اور مکھی

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۴ مئی کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’لندن (این این آئی) پرنس چارلس کی ۷۰ ویں سالگرہ کے موقع پر تقریر کے دوران ایک مکھی پرنس ہیری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی نظر آئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرنس ہیری تقریری کرنے ڈائس پر آئے تو بھن بھن کرتی ایک مکھی نے تقریر کرتے ہوئے شہزادے کو مشکل میں ڈال دیا جس کے باعث ان کا تقریر سے دھیان ہٹ گیا۔ تقریر کے دوران پرنس ہیری اگلا جملہ غلط بول گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۸ء

امریکی سفارت خانہ کی القدس منتقلی اور فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد

امریکہ نے بالآخر بیت المقدس شہر میں اپنا سفارت خانہ قائم کر دیا ہے اور فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے تشدد کی تازہ ترین کارروائی بھی اسی روز ہوئی ہے جس دن یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کی باقاعدہ منتقلی ہوئی کہ اس غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقدام پر احتجاج کرنے والے مظلوم فلسطینیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بیت المقدس شہر خود اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کے مطابق متنازعہ ہے اور اس کی مستقل حیثیت کا فیصلہ ابھی ہونا ہے، مگر امریکہ نے بین الاقوامی فیصلوں اور عالمی رائے عامہ کو مسترد کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۸ء

’’جنرل مشرف کا دورِ اقتدار: سیاسی، نظریاتی اور آئینی کشمکش کا ایک جائزہ‘‘

جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار اس لحاظ سے منفرد اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے اہداف اور پروگرام کو ڈپلومیسی کی زبان میں لپیٹنے کی حتی الوسع کوشش نہیں کی۔ صحیح یا غلط جو کچھ بھی کیا، کھلے بندوں کیا اور بہت سے معاملات جو ان سے پہلے مصلحتوں کے پردوں میں ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“ کی کیفیت سے دوچار تھے، ان کے دور اقتدار میں اوپن ہو گئے ہیں۔ پاکستانی سیاست کی امریکی مفادات کے ساتھ وابستگی کا آغاز قیام پاکستان کے بعد سے ہی ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مئی ۲۰۰۸ء

تعلیمی نظام کی سیکولرائزیشن کا ایجنڈا

۱۵ اپریل کو اسلام آباد میں ایک دوست کے ہاں شام کے کھانے پر کچھ احباب سے ملاقات ہوئی جن میں ایک دوست نے، جو پاک سیکرٹیریٹ میں اہم عہدے پر کام کرتے ہیں، توجہ دلائی کہ ریفرنڈم سے زیادہ اس کے بعد تیزی سے آگے بڑھائے جانے والے ایجنڈے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے لیے ہوم ورک مکمل ہو چکا ہے، ہدایات آ چکی ہیں اور گرین سگنل مل چکا ہے، اس لیے علمائے کرام اور دینی حلقوں کو اس کا سامنا کرنے کے لیے تیاری کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اپریل ۲۰۰۲ء

آئی ایم ایف کی چھری اور سرکاری ملازمین کی گردن

صدر مملکت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے سرکاری محکموں کے بالاتر افسران کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ جس سرکاری ملازم کو بدعنوان سمجھیں، جسے منصبی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرنے والا قرار دیں اور جس کے بارے میں ان کی رائے قائم ہو جائے کہ محکمہ کو اس کی ضرورت نہیں رہی، وہ اسے ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں۔ اور اس برطرفی کے خلاف کسی کورٹ کے پاس داد رسی کے لیے جانے کا کوئی حق اب سرکاری ملازمین کے پاس اس آرڈیننس کی رو سے باقی نہیں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ فروری ۲۰۰۱ء

پاکستانی اور اسرائیلی وزرائے خارجہ کی ملاقات

پاکستان کے وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری اور اسرائیل کے وزیر خارجہ سلوان شلوم کے درمیان گزشتہ دنوں استنبول میں ہونے والی ملاقات حسب توقع دنیا بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور اس کے حق میں اور خلاف دلائل دیے جا رہے ہیں۔ دنیا کے کوئی بھی دو ملک آپس میں کسی بھی سطح پر رابطہ کر سکتے ہیں اور ان کے درمیان ملاقات و مذاکرات کا اہتمام ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ پاکستان نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور اسرائیل کے بارے میں پاکستان عوام کے جذبات میں شدت و حساسیت پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۵ء

ریاست مدینہ کی منزل اور نئی حکومت سے عوام کی توقعات

۲۵ جولائی کے انتخابات میں منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے اور وزیر اعظم کے طور پر تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کو ملک کا نیا حکمران منتخب کر لیا گیا ہے، جو کرپشن سے پاک پاکستان اور ریاست مدینہ طرز کی رفاہی ریاست کے عزم و اعلان کے ساتھ اپنی حکومت کا آغاز کر رہے ہیں۔ انتخابات میں جو کچھ ہوا اور سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کے خلاف الزامات و اعتراضات کا جو بازار گرم گیا، پھر اپوزیشن کی کم و بیش سبھی پارٹیوں نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالہ سے اپنے تحفظات و خدشات کا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter