حکومتی اعلان کے بغیر جہاد کی شرعی حیثیت

اسلام آباد کے ’’علماء کنونشن‘‘ سے جنرل پرویز مشرف کے خطاب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور قومی اخبارات میں اس کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ اس کنونشن کے لیے اپنی مرضی کے علماء و مشائخ کو جس انداز سے جمع کیا گیا، اس سے ماضی کی حکومتی روایات بھی مدھم پڑ گئیں، کیونکہ ماضی کی حکومتیں ایسے مواقع پر اس بات کا خیال رکھتی تھیں کہ کانفرنس یا کنونشن میں اس کے ہم خیال حضرات ہی کی اکثریت ہو مگر توازن قائم رکھنے کے لیے مخالفانہ نقطۂ نظر رکھنے والے کچھ حضرات کو بھی موقع دیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۰۴ء

تحفظ ختم نبوت کے عالمی مورچے اور مولانا فضل الرحمان کا دھرنا

۵ اکتوبر کو دن کا ایک حصہ چناب نگر اور چنیوٹ میں گزارنے کا موقع ملا۔ اسباق سے فارغ ہو کر ظہر تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز چناب نگر پہنچا اور ’’تخصص فی الفقہ‘‘ کی کلاس میں فقہ اسلامی کے عصری تقاضوں اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی فکری ضروریات کے عنوان پر شرکاء کے ساتھ کم و بیش ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی۔ جبکہ عالمی مجلس کے مرکزی راہنما مولانا عزیز الرحمان ثانی کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیالات کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۲۰۱۹ء

مغرب کے سامنے صرف سپر اندازی کا مشورہ کیوں؟

ڈاکٹر عبد القدیر خان کے اعتراف ’’جرم‘‘ اور صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ان کے لیے ’’معافی‘‘ کے بعد ایٹمی پھیلاؤ کے حوالے سے قیاس آرائیوں نے جو نیا رخ اختیار کر لیا ہے، اس سے ان حضرات کے خدشات کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ جس انداز سے اس معاملہ کو ڈیل کیا گیا ہے، اس سے مسئلہ سمٹنے کے بجائے پھیلاؤ کا زیادہ شکار ہو گیا ہے اور اس کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ ایٹمی پھیلاؤ کے معاملے میں پاکستان کے بعض سائنس دانوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا مسئلہ پاکستان کا داخلی معاملہ نہیں سمجھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۰۴ء

اطاعت امیر درست، مگر کن حالات میں!

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں علمائے کرام اور مشائخ عظام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بہت سی فکر انگیز باتیں کی ہیں جن پر ہر پاکستانی کو غور کرنا چاہیے، کیونکہ صدر محترم کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ان کی بہت سے آرا سے ہمیں بھی اختلاف ہے، لیکن اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جن امور کی انہوں نے نشاندہی کی ہے اور جن مسائل کا پاکستان کے حوالے سے انہوں نے اپنے خطاب میں تذکرہ کیا ہے، وہ اس وقت ہمارے لیے چیلنج کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ہر باشعور شہری فکرمند اور پریشان ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ فروری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس اور ’’قومی دھارا‘‘

اے پی پی کے مطابق گزشتہ دنوں کوئٹہ میں دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے لیے منعقدہ آٹھ روزہ ورکشاپ کے اختتام پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم محترمہ زبیدہ جلال نے فرمایا ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی راہ میں کوئی اندرونی یا بیرونی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں دنیاوی علوم کے فروغ کا مقصد دینی مدارس کے طلبہ کو ملک اور قوم کا ایک کارآمد شہری بنانا ہے۔ وزیر تعلیم نے اس موقع پر دینی مدارس کے حوالے سے سرکاری پروگرام کی وضاحت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۰۳ء

قرآن حکیم کے ہم پر حقوق

رمضان المبارک گزرتا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنے اپنے ذوق اور توفیق کے مطابق اس کی برکتوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کا مہینہ ہے، اسی لیے اس میں قرآن کریم سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اور نماز کے بغیر بھی اس کی عام طور پر تلاوت ہوتی ہے۔ سمجھ کر پڑھنے والے بھی اس کے پڑھنے اور سننے کا حظ اٹھا رہے ہیں اور بغیر سمجھے پڑھنے سننے والے بھی اس کی برکات سے محروم نہیں ہیں۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ کسی اور کتاب کے حافظ موجود نہیں، مگر اس کے حافظوں کی تعداد دنیا میں اس وقت نوے لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ نومبر ۲۰۰۳ء

ایٹمی صلاحیت کا حصول اور عالمی قوتوں کا معاندانہ رویہ

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے ’’رائٹر‘‘ سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایٹمی پروگرام میں مختلف ملکوں کی مدد کرنے والے انڈر ورلڈ گروہ کا سراغ لگانے اور اسے ناکارہ بنانے کے لیے اٹامک ایجنسی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ چند ہفتوں تک اس قابل ہو جائیں گے کہ ایٹمی پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ملوث گروہ اور اس میں شامل افراد کو سامنے لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی کوششیں سخت دباؤ کا شکار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جنوری ۲۰۰۴ء

فقہی و قانونی جدوجہد کاایک ناگزیر تقاضہ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے اخری رسول کی حیثیت سے انسانی معاشرہ کو جن تبدیلیوں اور اصلاحات سے نوازا ان کا دائرہ زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے اور ان سماجی تغیرات و اصلاحات کی سطح صرف دعوت و تلقین کی نہیں تھی بلکہ ان کے مطابق معاشرہ کی ازسرنو تشکیل بھی جناب نبی اکرمؐ نے خود فرما دی۔ چنانچہ جب اللہ تعالٰی کے آخری رسول یہ مشن مکمل کر کے ’’فزت و رب الکعبۃ‘‘ فرماتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہوئے تو آپؐ کی تعلیمات صرف اقوال و ارشادات پر مبنی نہیں تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اکتوبر ۲۰۱۹ء

نفاذ اسلام کے دستوری اداروں کو درپیش خطرہ !

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۶ ستمبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیے! ’’اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کی طرف سے اداروں کی تشکیل نو کے حوالہ سے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی حیثیت اور ہیئت تبدیل کرنے کی سفارش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کو چیف ایگزیکٹو اور بورڈ آف گورنر کے سپرد کرنا ۱۹۷۳ء کے آئین کی خلاف ورزی ہے، اصلاحات کمیٹی کی سفارش کو واپس لیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۱۹ء

چینی زبان کا فروغ اور پاکستانی زبان و ثقافت کا تحفظ

روزنامہ انصاف لاہور ۲۰ فروری ۲۰۱۸ء کی رپورٹ کے مطابق: ’’چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی نے کہا ہے کہ چینی زبان پاکستان اور چین کے کاروباری شعبہ کے مابین سہولت پیدا کر رہی ہے، پاکستانی زبان اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے چینی زبان کو فروغ ملنا چاہیے۔ جبکہ چینی سفیر پاؤچنگ کا کہنا ہے کہ چینی زبان دونوں ممالک کے درمیان گہرے رابطے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ چین خلوص اور وفاداری کے ساتھ معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط پاکستان دیکھ رہا ہے، چینی زبان کے فروغ سے ثقافتی روابط بھی مضبوط ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter