دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کا المناک سانحہ

ملک کے معروف تعلیمی ادارہ دارالعلوم تعلیم القرآن (راجہ بازار، راولپنڈی) میں ۱۰ محرم الحرام کو جو المناک سانحہ پیش آیا اس پر ہر صاحبِ درد شخص کا دل تڑپ اٹھا ہے اور کرب و اضطراب نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کا قائم کردہ یہ دینی مرکز پون صدی سے تعلیمی و دعوتی خدمات سر انجام دینے میں مصروف ہے اور ہزاروں علماء کرام نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ عاشوراء کے دن نماز جمعۃ المبارک کے وقت وہاں ماتمی جلوس کے گزرنے پر جو قیامت بپا ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۳ء

’’نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے‘‘

ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی ۱۳ فروری ۲۰۱۳ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’فرانس کی قومی اسمبلی نے ایک ہی جنس کے افراد کے مابین شادی کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ ۹۷ کے مقابلہ میں ۲۴۹ ارکان نے بل کے حق میں رائے دیتے ہوئے شادی کی ازسرِنو تشریح کی ہے جس کے تحت شادی صرف ایک مرد اور عورت کے مابین ہی نہیں بلکہ دو افراد کے مابین معاہدے کا نام ہے۔ فرانس کے صدر فرانکوئس اولاند کی سوشلسٹ پارٹی اور ان کی حلیف بائیں بازو کی جماعت نے اس بل کی حمایت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

شیخ الازہر کا اعلانِ حق

روزنامہ کائنات اسلام آباد کے ۷ فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیے کہ: ’’مصر کی معروف تاریخی دینی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد پر زور دیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور بحرین کا برادر ہمسایہ عرب ملک کے طور پر احترام کریں، اہل السنۃ والجماعۃ مسلک کے پیر و کار ملکوں میں شیعہ ازم کے فروغ کی کوششیں نا پسندیدہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۴ ستمبر کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی آئینی تقاضہ ہے اس لیے پارلیمنٹ کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتا یا کہ گزشتہ بارہ سال کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کی منظور کردہ ہزاروں سفارشات ایک بار پھر پارلیمنٹ کو بھجوا دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۳ء

گوجرانوالہ کے دو دینی مدارس کے خلاف پولیس ایکشن

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے دو دینی مدرسوں مدرسہ انوار العلوم اور مدرسہ مظاہر العلوم کے خلاف پولیس ایکشن سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں تشویش و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بات صرف اتنی تھی کہ رمضان المبارک کے دوران چلاس ضلع دیامر میں ایک حملہ کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس افسر ہلال خان اور ان کے رفقاء جاں بحق ہوئے، ہلال خان گوجرانوالہ میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں اور اچھے پولیس افسروں میں ان کا شمار ہوتا تھا، ان کی شہادت پر خود ہمیں بھی بہت دکھ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۳ء

پشاور کا المناک سانحہ

۲۲ ستمبر کو پشاور کے ایک چرچ میں دو خودکش دھماکوں کے دوران ۸۰ کے لگ بھگ افراد کے جاں بحق اور سینکڑوں شہریوں کے زخمی ہونے پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ اور رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور قوم کے تمام طبقات کی طرف سے اس کی مذمت اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اتوار کا دن تھا اور مسیحی برادری کے حضرات اپنی عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک خودکش حملوں کے باعث کہرام مچ گیا اور ہر طرف لاشوں اور زخمیوں کے بکھرنے سے پوری قوم غم و اندوہ کا شکار ہو گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۳ء

علامہ محمد اقبالؒ کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

وفاقی وزیر سائنسی امور فواد چودھری صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان بنانے والے قائدین مذہبی لوگ نہیں تھے اور نہ ہی مذہبی راہنماؤں کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار ہے۔ باقی تمام باتوں سے قطع نظر مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کا ایک خطاب پیش کیا جا رہا ہے جو انہوں نے ۹ فروری ۱۹۳۲ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عید الفطر کے اجتماع میں ارشاد فرمایا تھا اور انجمن اسلامیہ لاہور نے اسے چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ اس خطبہ کا متن عبد الواحد معینی اور عبد اللہ قریشی کے مرتب کردہ ’’مقالات اقبالؒ‘‘ سے لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۹ء

’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کے لیے ہماری گزارشات

رابطہ عالم اسلامی کے ’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کویت یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر حمود فہد القشعان نے ایک دلچسپ کہاوت سے گفتگو کا آغاز کیا اور اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں میں اعتدال، وسطیت اور توازن کی اہمیت و ضرورت پر خوبصورت گفتگو کی۔ ان کی زبان سے یہ کہاوت سن کر مجھے اپنے آبائی شہر گکھڑ کے ایک پرانے بزرگ صوفی نذیر احمد کشمیری مرحوم یاد آگئے جن سے میں نے یہ کہانی نصف صدی قبل پنجابی زبان میں متعدد بار سن رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۱۹ء

رابطہ عالم اسلامی کا مؤتمر عالمی

بحمد اللہ تعالٰی حرمین شریفین کی حاضری اور رابطہ عالم اسلامی کے عالمی موتمر میں شرکت کے بعد وطن واپس آگیا ہوں۔ رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں ۲۲ تا ۲۴ رمضان المبارک عالمی موتمر کا انعقاد کیا جس کا عنوان ’’الوسطیہ والاعتدال فی نصوص الکتاب والسنہ‘‘ تھا۔ خادم الحرمین الشریفین الملک سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالٰی کے خصوصی پیغام سے کانفرنس کا آغاز ہوا اور مسلسل تین روز جاری رہنے کے بعد ’’وثیقہ مکہ مکرمہ‘‘ کے اعلان پر موتمر اختتام پذیر ہوا۔ دو سو کے لگ بھگ ممالک سے بارہ سو کے قریب سرکردہ علماء کرام کانفرنس میں شریک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۱۹ء

دنیا کی ضرورت خلفاء راشدین والا اسلام ہے

برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں اپنے دانشوروں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ: ’’اسلام کا مطالعہ کریں اور بطور نظام زندگی اور متبادل سسٹم اسے اسٹڈی کریں۔ لیکن اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے دو باتوں کی طرف مت دیکھیں، ایک یہ کہ ہمارے بڑوں نے اسلام کے بارے میں کیا کچھ کہا ہے، دوسرا یہ کہ اس وقت مسلمان کیسے نظر آرہے ہیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مئی ۲۰۱۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter