پولیس کی محکمانہ کارکردگی عدالت عظمٰی کے ایک محترم جج کی نظر میں
سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ پورے ملک میں پولیس کا نظام فلاپ ہو چکا ہے، ملک میں پولیس نام کی کو کئی چیز نہیں ہے، پولیس آخر کیا کر رہی ہے جو تنخواہ دی جائے؟ انہوں نے یہ ریمارکس پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ اس کیس کی تفصیلات سے قطع نظر یہ بات ملک کے ہر باشعور شہری کے لیے قابل توجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک محترم جج کو یہ بات آخر کیوں کہنا پڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قصاص کے قانون پر عملداری کے حوالہ سے افسوسناک صورتحال
روزنامہ پاکستان لاہور میں یکم ستمبر ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے تھانہ واہ کینٹ کے ایک مقدمہ قتل میں مجرم ثابت ہونے والے قیدی شعیب سرور کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں اور سزائے موت کو روکنے کے حوالہ سے حکومتی اختیار کو ختم کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس مقدمہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے ۲۲ جولائی ۱۹۹۸ء کو شعیب سرور کو اویس نواز کا قاتل قرار دے کر پھانسی کی سزا کا حکم سنایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مجھے ڈر لگ رہا ہے…!
آج کچھ ایسے مسائل پر ہلکا پھلکا تبصرہ پیش خدمت ہے جو عام مجلسوں میں زیر بحث رہتے ہیں اور ان پر طرح طرح کے خدشات و تحفظات کا اظہار دیکھنے میں آتا ہے۔ (۱) وزیر اعظم عمران خان کی پالیسیوں کے بارے میں اکثر بات ہوتی ہے جس کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر قومی مسائل کے حوالہ سے کچھ کرنا چاہ رہے ہیں جس کے لیے وہ مخلص بھی دکھائی دیتے ہیں اور ہر طرح سے ہاتھ پاؤں بھی مار رہے ہیں، ان کے اہداف کے صحیح یا غلط ہونے کی بات اپنی جگہ مگر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مختلف شعبوں میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت
پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے نائب امیر مولانا قاری عبید اللہ عامر کے ہمراہ ۱۰ جون سے ۱۶ جون تک لکی مروت، ملانہ، ڈیرہ اسماعیل خان، موسٰی زئی شریف، بَن حافظ جی میانوالی، چودھواں، اسلام آباد، دھیر کوٹ، باغ، ہاڑی گیل، بیس بگلہ، ملوٹ، مانگا، مری، چکوال اور دیگر مقامات میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری کا موقع ملا۔ اس دوران ۱۳ جون کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن باغ آزاد کشمیر کی ایک نشست میں بھی حاضری ہوئی، اس موقع پر کی جانے والی گزارشات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دُلّا بھٹی شہید ۔ اکبر بادشاہ کا ایک غیرت مند باغی
رائے احمد خان کھرل ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے نامور جرنیل تھے جنہوں نے قبولہ، گوگیرہ اور ساہیوال کے علاقہ میں انگریزوں کے خلاف جنگ کا محاذ گرم رکھا اور برطانوی فوجوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ ربع صدی قبل کی بات ہے میں ماہنامہ الرشید ساہیوال کے مدیر مولانا حافظ عبد الرشید ارشدؒ کے ساتھ لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے گھوم پھر رہا تھا کہ ایک جرنیل کے مجسمے پر نظر پڑی، عموماً میں کوئی کتبہ یا مجسمہ دیکھتا ہوں تو اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قصاص کے شرعی قانون کے خلاف مہم
روزنامہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد میں ۱۹ اگست ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’پاکستان میں سزائے موت کو ختم کرنے اور پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد کو روکنے کے لیے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کے صدر کی جانب سے حکومت پاکستان کو لکھے جانے والے خط پر وکلاء نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام نے جان کے بدلے جان کا حکم دیا ہے اور قاتل کو سزائے موت دینا فساد فی الارض کو روکنا ہے ،جبکہ اسلام ہمیں جان کے بدلے جان اور خون کے بدلے خون کا قانون دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ
سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۲۲ جولائی ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ: ’’عدالت عظمیٰ نے بمبئی کے ان سینکڑوں رقص خانوں کو کھلوا دیا ہے جنہیں مہاراشٹر سرکار نے ۲۰۰۵ء میں یہ کہہ کر بند کروا دیا تھا کہ ان ’’ڈانس بارز‘‘ میں رقص و سرور کے نام پر جنسی ایکٹ (چکلے) چلائے جاتے ہیں، بے ہودہ اور فحش حرکات کی جاتی ہیں، رقاصائیں انتہائی اشتعال انگیز پوشاکوں میں لوگوں کے سامنے آ کر بے شرمی کے مظاہرے کرتی ہیں جن سے تماش بینوں کی اخلاقیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان میں غیر ملکی تسلط کی مدد کی شرعی حیثیت / سعودی حکومت کا جرأتمندانہ فیصلہ
روزنامہ پاکستان لاہور نے ۲۱ اکتوبر کو آئی این پی کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ: ’’ملک کے ممتاز عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی نے افغانستان پر غیر ملکی تسلط میں سرکاری اور ہر طرح کی مدد کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے فتویٰ جاری کیا ہے کہ شرعی نقطۂ نظر سے حکومت پاکستان اس امر کی مجاز نہیں ہے کہ وہ پڑوسی مسلمان ملک پر غیر مسلموں کے قبضے کو مستحکم کرنے میں غیر ملکی جارح قوت کی مدد کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سپریم کورٹ اور سودی نظام
عدالت عظمیٰ میں دس سال کے بعد ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو ایک بار پھر سود کے مسئلہ پر غور شروع کر دیا گیا ہے اور جو سوالات سود کے بارے میں ازسرِنو بحث کا موضوع بن رہے ہیں ان میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں کہ: (۱) کیا قرض اور لون (Loan) دونوں قرآن کریم کے نزدیک ہم معنٰی ہیں؟ (۲) کیا سود کے حرام ہونے کا اطلاق غیر مسلم شہریوں پر بھی کیا جائے گا اور دوسرے ملکوں سے جو قرض لیا گیا ہے اس پر اس قانون کو کیسے لاگو کیا جائے گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ
بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے قیام پاکستان کے فورًا بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان میں مغربی معاشی نظام کی بجائے اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی نظام کی خواہش رکھتے ہیں، اور انہوں نے اس موقع پر اس بات کا دو ٹوک اظہار کیا تھا کہ مغربی نظام معیشت نسل انسانی کے لیے تباہی کا باعث بنا ہے اور اس سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 179
- 180
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »