آسیہ مسیح کیس کا سماجی تناظر
مولانا مفتی منیب الرحمان نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ آسیہ مسیح کیس میں عدالت عظمٰی کے فیصلہ پر نظرثانی کی اپیل کی جلد سماعت شروع کی جائے اور اس کے لیے فل بنچ قائم کیا جائے۔ مفتی صاحب محترم کا یہ تقاضہ درست ہے اور ہماری گزارش بھی یہی ہے کہ عدالت عظمٰی کو اس پر سنجیدہ اور فوری توجہ دینی چاہیے جبکہ اس کے ساتھ چند دیگر متعلقہ امور کی طرف بھی دلانا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ فیصلہ تین حوالوں سے توجہ طلب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں بیرونی امداد کا غلط استعمال
روزنامہ جنگ لاہور ۲۵ اگست ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق اقوام متحدہ کے فنڈ برائے بہبود آبادی نے آبادی کی روک تھام کے لیے پاکستان کو دی جانے والی امداد بند کر دی ہے اور وزارت بہبود آبادی کے ساتھ چلنے والے اپنے تمام منصوبے ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اسٹاف اور گاڑیوں کو بھی واپس لے لیا ہے، جس پر پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں مذکورہ پروگرام کے انچارج ڈاکٹر مبشر کا کہنا ہے کہ وہ امداد دیتے ہیں مگر وزارت کے افسر اس میں غبن کرتے ہیں اور اس کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ
روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ اگست ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق صوبہ سرحد میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کا کام شروع ہونے کے بعد اس وجہ سے رک گیا ہے کہ وفاقی وزارت اوقاف نے اس سلسلہ میں جو فارم فراہم کیے ہیں ان میں دینی مدارس سے ان کی آمدنی کے ذرائع اور کوائف بھی طلب کیے گئے ہیں اور انہیں اس امر کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ چندہ دینے والے معاونین کے نام بھی حکومت کو فراہم کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفرت انگیزی کے خلاف جنگ اور پاپائے روم
روزنامہ نوائے وقت ملتان ۲۲ اگست ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ نے جرمنی کے شہر کولون میں مسلمان راہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور نفرت انگیز نظریات کے خلاف جنگ میں مدد کرنا مسلمان راہنماؤں کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی چاہے وہ کسی شکل میں ہو ایک گمراہ کن اور ظالمانہ فیصلہ ہے کیونکہ یہ کسی بھی انسان کے زندگی کے مقدس حق کو پامال کرتا ہے اور سول سوسائٹی کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حسبہ ایکٹ اور وفاقی حکومت
سرحد کی صوبائی اسمبلی نے ’’حسبہ بل‘‘ بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ حسبہ ایکٹ میں صوبائی سطح پر ایک احتسابی نظام تجویز کیا گیا ہے جو صوبائی محتسب کی نگرانی میں قائم ہوگا اور صوبہ بھر میں عوامی سطح پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری کے ساتھ معاشرتی خرابیوں اور منکرات کے سدباب کے لیے کام کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر
لندن کے بم دھماکوں کے بعد پاکستان میں دینی مدارس کے خلاف نئی مہم کا آغاز ہوگیا ہے، مدارس پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، علماء کرام اور دینی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، میڈیا میں دینی مدارس اور علماء کے خلاف کردار کش پروپیگنڈے کی مہم زوروں پر ہے اور وفاقی کابینہ دینی مدارس کے نئے کردار کو متعین کرنے کے لیے اجلاس کر چکی ہے۔ جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس کو یکم دسمبر تک بہرحال رجسٹریشن کرانے کا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کینیڈا میں ہم جنس پرستوں کی شادی کا قانون
روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ جولائی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق کینیڈا کی سینیٹ نے بھی ہم جنس پرستوں کی شادی کا بل ۲۱ کے مقابلہ میں ۴۳ ووٹوں کی اکثریت سے منظور کر لیا ہے اور اس طرح بلجیئم، ہالینڈ اور اسپین کے بعد کینیڈا چوتھا مغربی ملک ہے جس نے مرد کی مرد سے اور عورت کی عورت سے شادی کو باقاعدہ قانونی شکل دے دی ہے۔ اس سے قبل متعدد مغربی ممالک کے عدالتی فیصلوں اور حکومتی اقدامات کی صورت میں ہم جنس پرستوں کی باہمی شادی کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی ہے مگر اب باقاعدہ منتخب پارلیمنٹوں کے ذریعے اسے قانونی شادی قرار دینے کا سلسلہ چل پڑا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس پر چھاپے اور حضرت سید نفیس الحسینی شاہ کی گرفتاری
گزشتہ جمعہ کو ملک کے مختلف حصوں میں دینی مدارس پر پولیس کے اچانک چھاپوں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب مدظلہ العالی کی گرفتاری کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔ خطباء کرام اور دینی راہنماؤں نے حضرت شاہ صاحب مدظلہ کی گرفتاری اور دینی مدارس کے خلاف حکومتی کاروائیوں پر شدید احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بنگلہ دیش کے چند دینی مراکز میں حاضری
گزشتہ ماہ مجھے دو ہفتے کے لیے بنگلہ دیش جانے کا موقع ملا، دارالرشاد میرپور ڈھاکہ کے زیر اہتمام ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘‘ کی افتتاحی تقریب کے لیے دارالرشاد کے پرنسپل مولانا سلمان ندوی کا اصرار تھا جس کے ساتھ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا اصرار بھی شامل ہوگیا اور اس وجہ سے مجھے یہ سفر کرنا پڑا، ورنہ مدرسہ میں اسباق کے آغاز کے بعد اتنا لمبا سفر میرے لیے مشکل تھا۔ دسمبر کے اواخر میں ڈھاکہ میں تبلیغی اجتماع تھا جس کی وجہ سے براہ راست ڈھاکہ جانے والی کسی فلائیٹ میں سیٹ نہ مل سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی علماء و مشائخ کونسل کا قیام
وفاقی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی مساعی سے ’’قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان‘‘ وجود میں آگئی ہے اور ۲۶ مئی ۲۰۱۶ء کو اسلام آباد میں افتتاحی اجلاس کے ساتھ اس نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف ایک عرصہ سے اس کے لیے سرگرم عمل تھے، انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں کے مسلسل دورے کر کے علماء کرام، مشائخ عظام اور دیگر دینی راہنماؤں کے ساتھ اس سلسلہ میں طویل مشاورت کی جس کے نتیجے میں سرکاری طور پر ’’قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان‘‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 213
- 214
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »