عالم اسلام کی نمائندگی کے لیے سلامتی کونسل کی مستقل نشست

روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ جون ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے دائمی ارکان کی توسیع کی صورت میں مسلم ممالک کو نمائندگی ملنی چاہیے۔ انہوں نے ریاض میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر سلامتی کونسل میں توسیع کا مقصد سب کو نمائندگی مہیا کرنا اور مبنی بر انصاف رکنیت دینا ہے تو ایسی صورت میں مسلم ممالک کا حق ہے کہ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا سب سے زیادہ بااختیار ادارہ ہے جس کے پانچ ارکان مستقل اور دائمی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۵ء

باہمی تنازعات کے تصفیہ کی ایک قابل تقلید مثال

حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے ساتھ تلمذ، ارادت، محبت اور عقیدت رکھنے والے حضرات گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے ملک بھر میں اپنی اپنی جگہ پریشانی سے دوچار تھے کہ ان کے محترم فرزندوں میں اختلاف ہوا تو وہ بڑھتے بڑھتے باہمی جھگڑے کے ساتھ ساتھ حضرت درخواستیؒ کے قدیمی تعلیمی و روحانی مرکز جامعہ مخزن العلوم والفیوض خانپور کی دو اداروں میں تقسیم کا باعث بن گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۱۶ء

اسلامی معیشت کے ماہر علماء کی ضرورت

راقم الحروف کو برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران لیسٹر میں اسلامک دعوہ اکیڈمی کے زیر اہتمام ایک فکری نشست میں شرکت کا موقع ملا جس میں جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اسلامی معاشی نظام کے حوالہ سے علمی اور معلوماتی گفتگو کی۔ انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ دنیا بھر میں اس وقت دو سو سے زائد ایسے ادارے کام کر رہے ہیں جو سود سے پاک اسلامی معاشی اصولوں کے مطابق اپنا نظام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۵ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ جنگ لندن ۲۲ جون ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین جناب محمد میاں سومرو نے اسلامی نظریاتی کونسل کی ۱۹۹۷ء کے بعد تیار ہونے والی رپورٹوں کو قومی اسمبلی اور سینٹ کی لائبریری میں رکھوانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ممبران پارلیمنٹ اس کا مطالعہ کر سکیں۔ انہوں نے یہ رولنگ متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک استحقاق نمٹاتے ہوئے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۵ء

اعتدال پسندی اور روشن خیالی کا ایجنڈا

۱۲ ربیع الاول کو حسب سابق اسلام آباد میں وفاقی وزارت مذہبی امور کے زیرا ہتمام قومی سیرت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم جناب شوکت عزیز اور وفاقی وزراء سمیت متعدد راہنماؤں اور دانشوروں نے اظہار خیال کیا، راقم الحروف کو بھی وفاقی وزارت مذہبی امور کی طرف سے شرکت کی دعوت موصول ہوئی مگر جمعتہ المبارک اور پہلے سے طے شدہ دیگر مصروفیات کے باعث شرکت سے معذرت کر دی۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے مختلف علماء کرام نے موجودہ حالات کے تناظر میں سیرت نبوی علٰی صاحبہا التحیۃ والسلام کے بہت سے پہلوؤں کو اجاگر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۵ء

خیر و برکت کے اصول

قرآن کریم میں شرک اور جاہلانہ رسوم کی مذمت و مخالفت کے ساتھ ساتھ حلال و حرام کے ان ضابطوں کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے جو دور جاہلیت میں مختلف قبائل اور علاقوں کے لوگوں نے از خود طے کر لیے تھے اور جن پر وہ صدیوں سے عمل پیرا تھے۔ مطلق اباحیت اور فری اکانومی کا یہ تصور قدیم سے موجود چلا آرہا ہے کہ ہم اپنے اموال میں تصرف کے حوالہ سے خودمختار ہیں اور کسی کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۶ء

گوجرانوالہ کی میراتھن ریس اور ردعمل

گوجرانوالہ میں میراتھن ریس کے موقع پر دینی مدارس کے طلبہ اور متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں نے مولانا قاضی حمید اللہ خان ایم این اے کی قیادت میں جس جرأت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی صدائے بازگشت پورے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر محسوس کی جا رہی ہے اور ملک بھر کے دینی حلقوں کو نئے سرے سے یہ حوصلہ ملا ہے کہ وہ اگر معاشرہ میں منکرات کی روک تھام کے لیے منظم منصوبہ بندی کے ساتھ جرأت مندانہ موقف اور کردار کا مظاہرہ کریں تو یہ راستہ کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۵ء

الجزائر میں تعلیمی نصاب کا مسئلہ / آغا خان تعلیمی بورڈ کے خلاف مہم

روزنامہ اسلام لاہور ۲۵ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق الجزائر کی دینی جماعتوں نے وزارت تعلیم کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے جس کے تحت کالجوں کے سیکنڈ ایئر کے نصاب سے اسلامیات کا مضمون خارج کر دیا گیا ہے۔ دینی جماعتوں کا کہنا ہے کہ نصاب سے اسلامیات کے مضمون کا اخراج ملک کو سیکولر بنانے کے ایجنڈے کا حصہ ہے اور الجزائر کے عوام کی اکثریت کے جذبات کے منافی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

وفاقی شرعی عدالت کو ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۴ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ جج جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اسے ختم کر دینا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نافذ قوانین کا اسلامی تعلیمات سے کوئی ٹکراؤ نہیں اس لیے وفاقی شرعی عدالت جیسے اداروں کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘

دینی مدارس کی ملک گیر تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ۱۶ مئی کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں بھرپور ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ منعقد کرکے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ پاکستان بھر کے دینی مدارس معاشرے میں دینی تعلیمات کے فروغ اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے اپنے مشن پر آج بھی کاربند ہیں اور وہ اپنے کردار اور جدوجہد کا پوری طرح شعور رکھتے ہوئے اپنے عظیم اسلام کی جدوجہد کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter