اور جنرل یحیٰی خان؟

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں میں خان عبد الولی خان پر الزامات کے تیر برسانے میں مصروف تھے کہ وزیرداخلہ مسٹر عبد القیوم خان نے قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ سابق صدر یحییٰ خان اب حکومت کی حراست میں نہیں ہیں۔ یحییٰ خان نے ایوب خان کے دستبردار ہونے پر پاکستان کا نظم و نسق سنبھالا تھا اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ پر ان کے اقتدار کا سروج غروب ہوگیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

قبرص کا بحران!

قبرص کا مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جنہیں بین الاقوامی استعمار نے عالم اسلام کو الجھائے رکھنے کے لیے جنم دیا ہے۔ یہ مسئلہ کئی بار مسلح تصادم کا باعث بنا ہے اور آج بھی اس کے باعث ترکی اور یونان کے درمیان مسلح جنگ کے خطرات شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ قبرص بحیرہ روم کا ایک بڑا جزیرہ ہے جہاں یونانی عیسائی اور ترک مسلمان آباد ہیں۔ عیسائی اکثریت میں ہیں،مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان کے درمیان چپقلش مدت سے چلی آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

مسئلہ کشمیر نئے دور میں!

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی تجویز پر جمعیۃ علماء اسلام کے قائد مولانا مفتی محمود نے قوم کو خبردار کیا تھا کہ اس سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچے گا اور یہ تجویز عملاً مسئلہ کشمیر کو دفن کر دینے کے مترادف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

متحدہ جمہوری محاذ کی تنظیم نو

متحدہ جمہوری محاذ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق ماتحت شاخوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ۲۰ اگست تک ضلع اور شہر کی سطح پر تنظیم نو مکمل کر لیں تاکہ محاذ نئے سرے سے اپنی جدوجہد کو منظم کر سکے۔ متحدہ جمہوری محاذ موجودہ حکومت کے واضح غیر آئینی، آمرانہ اور جمہوریت کش اقدامات کے پیش نظر جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے قائم ہوا تھا اور اب تک اپنی بساط کے مطابق اس میدان میں مصروف جہد و عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۱۹۷۴ء

امریکی صدر نکسن سے استعفٰی کا مطالبہ

واٹر گیٹ اسکینڈل کے سلسلہ میں غلط بیانی کے اعتراف کے ساتھ ہی امریکہ کے صدر نکسن کو امریکہ کے قومی حلقوں حتیٰ کہ خود اپنی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے استعفیٰ کے مطالبہ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے اور سیاسی حلقوں کے مطابق اب مسٹر نکسن کے لیے استعفیٰ کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن کا قصور یہ ہے کہ ان کے دور میں امریکہ کے کچھ ذمہ دار شہریوں کے فون خفیہ طور پر ٹیپ کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۱۹۷۴ء

جناب وزیر اعظم! تشدد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قادیانی مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے میں قومی اسمبلی کے ارکان سے کہوں گا کہ وہ سات ستمبر تک اس مسئلہ کا کوئی حل طے کر لیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ۷ ستمبر تک مہلت بھی تاخیر کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں، ہمیں بھٹو صاحب کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ اس مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۱۹۷۴ء

ملک محمد اختر صاحب! مذہب سے چڑ کیوں؟

روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور جناب ملک محمد اختر نے ارشاد فرمایا ہے کہ عوامی نمائندگی کے بل کے تحت برادری سسٹم، ذات پات، علاقائی عصبیت اور مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کو جرم قرار دے دیا جائے گا جس کی سزا تین سال تک قید ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء

جمعیۃ کا دور حکومت اور خان محمد حنیف خان کا ارشاد

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات خان محمد حنیف خان صاحب نے ہری پور میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے دورِ اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا۔‘‘ معلوم نہیں صوبہ سرحد میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی دس ماہ کی حکومت کے دوران خان صاحب موصوف ملک سے باہر تھے یا بستر استراحت پر محوِ خواب تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء

زندہ باد مولانا محمد زکریا!

کراچی کے مردِ حر مولانا محمد زکریا نے، جو جمعیۃ علماء اسلام کراچی سنٹر کے امیر ہیں، حالیہ الیکشن اور اس کے بعد تحریک میں جرأت و استقامت کی جو شاندار روایات قائم کی ہیں ان پر بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ مولانا محمد زکریا نے قومی اسمبلی کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے عبد الحفیظ پیرزادہ کا مقابلہ کیا اور پیرزادہ غنڈہ گردی اور دھاندلیوں کی انتہا کو چھونے کے باوجود الیکشن میں مولانا محمد زکریا کو شکست نہ دے سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

آئین کا تقاضہ ‒ گھر کا بھیدی ‒ گولی کی زبان

قومی اتحاد نے صدر مملکت جناب فضل الٰہی چودھری کے نام ایک خط میں استدعا کی کہ وہ قومی اسمبلی کے الیکشن کرانے کا اہتمام کریں جس کے جواب میں صدر مملکت نے ارشاد فرمایا ہے کہ دوبارہ الیکشن کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے اور میں نے آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter