بیرون ملک جانے کا جنون ‒ حلال کی کمائی
روزنامہ نوائے وقت لاہور کی ایک خبر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تقریباً ایک درجن ایسی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو پاکستانیوں کو بوگس ویزوں پر بیرون ملک بھجوانے کا مذموم کاروبار کرتی ہیں۔ ابھی کچھ دنوں قبل حکومت مغربی جرمنی نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ایک سو چار پاکستانیوں کو واپس بھجوایا تھا جو غیر قانونی طور پر انہی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے وہاں پہنچے تھے اور یہ واقعہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر رسوائی کا باعث بنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ اور امریکہ
امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے فرانس سے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے سلسلہ میں پاکستان کے اقدامات کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے جبکہ دوسری طرف موصوف نے دہلی کے دورہ کے موقع پر پر بھارت کی طرف سے ایٹمی تحفظات فراہم کرنے سے انکار کے باوجود بھارت کو امریکہ کی طرف سے ایٹمی ایندھن کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین
مارشل لاء حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر اسلامی قوانین کی منسوخی کے اختیارات تفویض کیے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ اسلامی فقہ کے ماہرین کا تقرر بھی ضروری ہے تاکہ وہ عدالتوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلا سکیں جو اسلام کے منافی ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کے سلسلہ میں ججوں کا ہاتھ بٹا سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خان عبد الولی خان اور پنجاب
ممتاز مسلم لیگی لیڈر چودھری ظہور الٰہی نے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کیا ولی خان کو پنجاب قومی قائد کی حیثیت سے قبول کر لے گا؟‘‘ کہا کہ ’’مسٹر ولی خان کو بھٹو نے گرفتار ہی ان کے پنجاب کے کامیاب ترین دورے کے بعد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاد پرستوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ پنجاب ولی خان کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں ولی خان کو ایک عظیم محب وطن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ قومی لیڈر کی حیثیت سے وہ پنجاب کو کیوں قابل قبول نہیں ہوں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حنیف رامے صاحب کی نئی تجویز
مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر جناب محمد حنیف رامے نے بزعم خویش ملک کے مسائل کا یہ حل پیش کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا کر غیر جماعتی پارلیمانی نظام رائج کیا جائے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ تجویز پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور اس کا واقعاتی پس منظر کیا ہے، ہم جناب رامے صاحب سے یہ عرض کریں گے کہ جناب اس ملک میں طویل نظریاتی و عملی پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں آپ معاشرہ سے ان جماعتوں کو کس طرح بے دخل کر سکیں گے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹیں اور جنرل محمد ضیاء الحق کا عزم
چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں قومی سیرت کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت اسلامی نظام کی ترویج کے ضمن میں ذمہ داریوں سے بحسن و خوبی عہدہ برآ ہوگی اور اس راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی تعلیمی پالیسی ‒ ایک نئی ملکۂ ترنم
چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے مشیر برائے تعلیم محمد علی ہوتی نے گزشتہ روز پی پی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی کا جلد اعلان کر دیا جائے گا اور اس سلسلہ میں تجاویز کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ عبوری حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی کے بارے میں تو اس کے سامنے آنے کے بعد ہی کچھ عرض کیا جا سکے گا لیکن اس ضمن میں ہم یہ عرض کرنا اور اس امر کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتے ہیں کہ تعلیمی مسائل کے سلسلہ میں پالیسی کے لیے تجاویز پر غور و خوض کرنے کی غرض سے گزشتہ دنوں جو کانفرنس منعقد ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستانی محنت کش اور متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ
رائٹر کی ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے حصول روزگار کے لیے آنے والے محنت کشوں کے لیے جو نیا قانون بنایا ہے اس کی رو سے ان تمام افراد کو ملک بدر کر دیا جائے گا جن کے پاسپورٹوں پر لکھے ہوئے پیشے اور ملازمت کے ویزوں میں درج شدہ پیشوں میں مطابقت نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہفت روزہ اسلامی جمہوریہ اور روزنامہ نوائے وقت
لاہور کے مؤقر ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک ہندو مصنف ایم او متھائی کی کتاب آج کل صحافتی حلقوں میں زیربحث ہے جس میں مولانا ابوالکلام آزادؒ پر شراب نوشی اور شراب کے نشے میں ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ لکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کے کردار کے بارے میں کوئی منفی بات کہی گئی ہے ورنہ اس سے قبل مولانا آزادؒ کے سیاسی نظریات و افکار اور طرزعمل سے شدید ترین اختلاف رکھنے والوں نے بھی ان کی علم و ذہانت او پختگی کردار کا اعتراف کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اصلاحی کمیٹیاں ‒ بھوک ہڑتال
اس وقت ملک میں محلہ وار اور دیہہ وار اصلاحی کمیٹیوں کی تشکیل کا کام زوروں پر ہے اور ہر ضلع میں انتظامیہ ایسے افراد کی فہرستوں کو آخری شکل دینے میں مصروف ہے جن پر مشتمل اصلاحی کمیٹیاں اصلاحِ احوال و نظام کا کاروبار سنبھالنے والی ہیں۔ کمیٹیوں کے قیام میں جس قدر اہتمام سے کام لیا جا رہا ہے اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ حکومت لوکل سطح پر لوگوں کے مسائل کا حل اور مفاد عامہ سے متعلق امور کی نگرانی ان کمیٹیوں کے سپرد کرنا چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 217
- 218
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »