غیر فطری نظام کا منطقی نتیجہ

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق امریکہ میں خاوند کے بغیر رہنے والی خواتین اب اکثریت اختیار حاصل کر گئی ہیں۔ خبر کے مطابق نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۰۰ء میں بغیر خاوند کے رہنے والی خواتین کا تناسب ۴۹ فیصد تھا جو ۲۰۰۵ء میں بڑھ کر ۵۱ فیصد ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ طلاق یا بیوہ ہونے کی صورت میں عورتیں دوسری شادی سے گریز کرنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

بیرونی ممالک میں فضلائے نصرۃ العلوم کی سرگرمیاں

عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران مجھے آٹھ دس روز کے لیے برطانیہ جانے کا موقع ملا اور مختلف شہروں میں علمائے کرام اور دینی احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم، ابراہیم کمیونٹی کالج لندن اور مدینہ مسجد آکسفورڈ میں اجتماعات سے خطاب کے علاوہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے بعض فضلاء کے ہاں جانے اور ان کی سرگرمیوں سے آگاہی کا بھی اتفاق ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

گوجرانوالہ میں خاتون صوبائی وزیر کا قتل

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون صوبائی وزیر مسز ظل ہما عثمان کو کھلی کچہری کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ قاتل گوجرانوالہ کا شہری ہے جو اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو بدکاری کے الزام کے حوالہ سے قتل کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے خاتون صوبائی وزیر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قتل کیا ہے کیونکہ وہ بے پردہ پھرتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عورت کی حکمرانی کو بھی شرعاً جائز نہیں سمجھتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ پر پابندی

حکومت نے الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کو خلاف قانون قرار دے کر ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے اور ملک بھر میں ان کے دفاتر سربہ مہر کر دیے ہیں۔ اس اقدام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کی رو سے یہ ضروری ہوگیا تھا اس لیے یہ کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ ہمارے ملک کی دو بڑی دینی شخصیات حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اور حضرت مولانا حکیم محمد اخترؒ کے قائم کردہ رفاہی ادارے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

حسبہ بل اور سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرحد اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ’’حسبہ بل‘‘ کی بعض شقوں کو خلاف دستور قرار دے دیا ہے اور بعض خبروں کے مطابق صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل (MMA) کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حسبہ بل کو از سر نو مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ حسبہ بل کا مقصد صوبہ میں اسلامی احکام و شعائر کی پابندی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک سرکاری نظام قائم کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

سپریم کورٹ کا شریعت ایپلٹ بینچ اور یورپی یونین کا جی ایس پی پلس تجارتی معاہدہ

ہمارے جیسے کچھ لوگ ملک میں فکری، معاشرتی اور دینی و قومی مسائل کا جو واویلا کرتے رہتے ہیں اس کا دائرہ کار کوئی عوامی تحریک نہیں بلکہ ’’توجہ دلاؤ تحریک‘‘ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ کسی عوامی تحریک کا اس کے سوا کوئی امکان باقی نہیں رہا کہ بڑی دینی اور نظریاتی جماعتوں کی قیادت مل بیٹھے اور ملک کو درپیش سنگین مسائل کا احساس و ادراک کرتے ہوئے رائے عامہ کو منظم و متحرک کرنے کا کوئی راستہ نکالے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۲۰۱۵ء

اسلام کے جدید یورپی برانڈ کی تیاریاں

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۵ء کی اشاعت میں ’’نیوزویک‘‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یورپ کی حکومتیں معتدل مسلمانوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اکثر بیرون ملک سے آنے والے مسلمان امام اسلام کا (ان کے بقول) غلط مطلب نکال کر مسلمانوں کے کان بھر رہے ہیں۔ نیوزویک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سویٹزرلینڈ کے بشپ سے لے کر ڈینش وزراء تک سبھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یورپ اپنے برانڈ کا جدید ترین اور یورپی رنگ میں رنگا ہوا اسلام ایجاد کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

بالغ لڑکی کے نکاح کا آزادانہ حق اور خاندانی نظام

روزنامہ جنگ لاہور ۱۵ جنوری ۲۰۰۵ء کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے محترم جسٹس چوہدری مزمل احمد خان نے گوجرانوالہ میں ینگ لائرز ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کے موقع پر روزنامہ جنگ کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لڑکی بالغ ہو، اس کا کوئی شناختی کارڈ بنا ہو اور اس نے اپنی آزاد مرضی سے عدالت میں یا کسی مسجد میں نکاح کیا ہو، اس کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

حدود شرعیہ کے قوانین اور نیا حکومتی مسودہ قانون

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳ جنوری ۲۰۰۵ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سیکرٹری محترم ڈاکٹر امین نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر صاحب نے گزشتہ دنوں دانشوروں کے ایک اجلاس میں حدود آرڈیننس کے حوالہ سے جس نئے مجوزہ مسودہ قانون کا تعارف کرایا ہے اس کے مطابق زنا کو ناقابل دست اندازیٔ پولیس جرم قرار دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

جھگی نشینوں کی تعلیم و اصلاح کا ایک اچھا منصوبہ

۱۶ دسمبر کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں غیث ویلفیئر اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ کا ایک سیمینار ہوا جس میں مجھے بطور خاص شرکت کی دعوت دی گئی اور میں نے ٹرسٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے علاوہ کچھ گزارشات بھی پیش کیں۔ یہ ٹرسٹ چند علماء کرام اور ان کے رفقاء پر مشتمل ہے جن میں ہمارے بعض شاگرد اور ساتھی بھی شریک ہیں جو ’’جھگی تعلیمی پروجیکٹ‘‘ کے عنوان سے خانہ بدوشوں میں اصلاح و ترقی اور تعلیم و تربیت کے حوالہ سے سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ دسمبر ۲۰۱۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter