کیا دنیا صدام حسین کے بعد محفوظ ہوگئی ہے؟

امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے اگلے چار سال کی مدت کے لیے صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد کہا تھا کہ دنیا عراقی صدر صدام حسین کی اقتدار سے محرومی کے بعد زیادہ محفوظ ہوگئی ہے، یہ کہہ کر وہ عراق پر امریکی حملے کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن فرانس کے صدر یاک شیراک نے ان کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ عراق کی صورتحال نے دہشت گردی کو مزید ہوا دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

عورت کو طلاق کا حق دینے کی تجویز

روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق متحدہ مجلس عمل کی خواتین ارکان اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کی مشیر نیلو بختیار کی سربراہی میں قائم قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے عورت کو طلاق کا حق دینے کی جو تجویز پیش کی ہے وہ قابل قبول نہیں ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہے اس لیے وہ اسے مسترد کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

غربت ختم کرنے کے لیے سفارشات

روزنامہ جنگ لاہور ۱۰ جولائی ۲۰۰۴ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے وزیر نجکاری ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا ہے کہ غربت کے خاتمے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے قائم کردہ وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔ وزیر موصوف نے ان سفارشات کی تفصیل نہیں بتائی البتہ ان کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ملک میں غربت کے خاتمہ میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس کے لیے وزیر اعظم نے ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی جس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

مغربی کنارے کی متنازعہ باڑ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی

ہیگ کی عالمی عدالت انصاف کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر تعمیر کی جانے والی متنازعہ باڑ کے خلاف بھاری اکثریت سے قرار داد منظور کر لی ہے۔ اس سے قبل عالمی عدالت انصاف کے ۱۵ میں سے ۱۴ ججوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اسرائیل فلسطینی علاقے میں جو دیوار تعمیر کر رہا ہے وہ غیر قانونی ہے اس لیے اسے گروایا جائے۔ عدالت کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ دیوار کی تعمیر کو فوراً روک دیا جائے اور تعمیر شدہ باڑ کو مسمار کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

مغربی تہذیب کے عروج کی ایک تصویر

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس کے غلبہ کے موجودہ دور میں انسانی تمدن اپنے عروج تک پہنچ گیا ہے اور اس کی تہذیب و ثقافت اعلیٰ انسانی اقدار و روایات کی حامل ہونے کی وجہ سے ترقی یافتہ اور کامل تہذیب کہلانے کی حق دار ہے۔ انسانی حقوق، احترام انسانیت اور اخلاق و شرافت کا ورد کرتے ہوئے دانشوروں کی زبانیں نہیں تھکتیں لیکن گوانتا موبے کے عقوبت خانوں اور بغداد کی ابو غریب جیل میں امریکی اہل کاروں نے اپنے قیدیوں کے ساتھ جو شرمناک سلوک روا رکھا ہے اس نے مغربی تہذیب کے چہرے سے اخلاق و شرافت اور انسانی اقدار کے تمام نقاب نوچ کر ایک طرف رکھ دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۴ء

اسلام کی صحیح شناخت کا معاملہ

مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس گزشتہ ہفتہ ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی شرکت کی۔ روزنامہ جنگ لاہور ۱۶ جون ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق جناب خورشید محمود قصوری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی سربراہ کانفرنس پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی تسلط کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد کے لیے آواز اٹھائے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اسلامی کانفرنس کو مؤثر اور متحرک بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۴ء

حدود آرڈیننس اور توہین رسالتؐ کا قانون

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں انسانی حقوق کے حوالہ سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حدود آرڈیننس اور توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون پر نظرثانی کے حق میں ہیں اور اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کا ایک قومی کمیشن قائم کیا جا رہا ہے جو پاکستان میں انسانی حقوق پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لے گا اور بہتری کے لیے اقدامات تجویز کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

پوپ جان پال کی اپیل

روزنامہ جنگ ۳ مئی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق کیتھولک مسیحی فرقہ کے عالمی سربراہ پوپ جان پال نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ اپنی مسیحی جڑیں دوبارہ دریافت کرے، پوپ نے یہ بات یورپی یونین میں دس نئے ملکوں کی شمولیت کے موقع پر کہی ہے، اس سے پہلے وہ اصرار کر چکے ہیں کہ یورپی یونین میں عیسائی مذہب کو شامل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

سزائے موت کے خاتمہ کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اپریل ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے سزائے موت کے خلاف قرار داد اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ قرار داد کے حق میں ۲۹ ووٹ آئے جبکہ پاکستان، سعودی عرب، امریکہ، جاپان، چین، بھارت اور مسلم ممالک سمیت ۱۹ ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ ۵ ممالک بشمول برکینا فاسو، کیوبا، گوئٹے مالا، جنوبی کوریا اور سری لنکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

حماس کے نئے سربراہ کی شہادت

فلسطینی مجاہدین کے سربراہ الشیخ احمد یاسین شہیدؒ کے بعد ان کے جانشین کو بھی شہید کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی حکومت نے اپنے اس کارنامے کو فخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی لیڈروں کی فہرست مرتب کر لی گئی ہے جنہیں اس طرح قتل کر دیا جائے گا۔ ادھر امریکی صدر بش نے اسرائیلی حکومت کی اس وحشیانہ کاروائی کو ’’حق دفاع‘‘ قرار دے کر اس کی حمایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter