عوامی احتجاج اور ہمارا معاشرتی رویہ
ایک فارسی محاورہ ہے کہ ’’عدو شرے بر انگیزد کہ خیر مادراں باشد‘‘ یعنی بسا اوقات دشمن شر کو ابھارتا ہے اور اس میں ہمارے لیے خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔ کچھ اس قسم کی صورتحال مذموم امریکی فلم کے حوالہ سے سامنے آرہی ہے کہ عالم اسلام ایک بار پھر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس کے مسئلہ پر متحد ہوتا نظر آرہا ہے، بلکہ اس بار ایک اور تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے کہ وہ بات جو ہم فقیر کیا کرتے تھے اب ہمارے حکمرانوں کی زبانوں پر آنے لگی ہے کہ توہین رسالت کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تمام علوم دینیہ کا سرچشمہ حدیث نبویؐ ہے
دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، حدیث و سنت اور فقہ اسلامی علوم مقصودہ ہیں جنہیں ’’علوم عالیہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ باقی علوم و فنون مثلاً صرف و نحو، لغت، ادب، معانی اور منطق وغیرہ ان علوم تک رسائی کا ذریعہ ہیں اور ان کے ذریعے علوم عالیہ کو سمجھنے کی صلاحیت و استعداد پیدا کی جاتی ہے، اس لیے یہ ’’علوم آلیہ‘‘ کہلاتے ہیں۔ علومِ عالیہ تو وحی اور اس سے استنباط کی بنیاد پر ہر دور میں یکساں رہے ہیں اور ہمیشہ وہی رہیں گے، لیکن علومِ آلیہ میں وقت گزرنے کے ساتھ زمانے اور حالات کے مطابق ردوبدل ہوتا آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاک چین دوستی اور سی پیک کے معاملات
مجلس ارشاد المسلمین لاہور کے امیر مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ایک اہم قومی مسئلہ پر اس سیمینار کا اہتمام کیا اور مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی۔ اس قسم کے قومی و ملی مسائل پر اظہار خیال، مذاکرہ اور مباحثہ ہمارے ہاں جس قدر ضروری ہے اسی اعتبار سے اس کی طرف توجہ کم ہوتی ہے، اس لیے اس نشست کے انعقاد پر مجھے خوشی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جمعیۃ علماء اسلام لاہور کے راہنما حافظ ابوبکر شیخ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے سی پیک کے تاریخی اور معروضی پس منظر کے بارے میں ایک معلوماتی رپورٹ پیش کی جو انتہائی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا سید محمد میاںؒ
گزشتہ روز ڈاک میں حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے مقالات کا ایک مجموعہ ’’مقالاتِ حامدیہ‘‘ کے نام سے موصول ہوا تو ماضی کی بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہوتی چلی گئیں۔ اس بات پر خوشی ہوئی کہ مولانا سید محمود میاں اور ان کے رفقاء حضرتؒ کے فرمودات و افادات کو حفاظت کے ساتھ اگلی نسل تک منتقل کرنے کی ’’سعیٔ محمود‘‘ میں مسلسل سرگرم ہیں اور ۹۰ کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتابچہ بھی اس کا ایک حصہ ہے جس میں قرآن کریم کے بارے میں حضرت مولانا حامد میاںؒ کے مضامین و خطبات کو جمع کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد السلامؒ اور دیگر مرحومین
عید الفطر کے بعد بدھ اور جمعرات کے دو روز تعزیتوں میں گزرے۔ پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد کے امیر اور جی الیون کی جامع مسجد صدیق اکبرؓ کے خطیب مولانا مفتی سیف الدین گلگتی گزشتہ دنوں تہرے صدمہ سے دوچار ہوئے، پہلے ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا، پھر کچھ دنوں کے بعد ان کے بہنوئی فوت ہوئے اور ۲۴ رمضان المبارک کو مفتی صاحب کے والد گرامی حاجی محمد نذیر صاحب انتقال کر گئے۔ میں بدھ کو اسلام آباد پہنچا، مفتی صاحب ابھی گلگت سے واپس نہیں آئے تھے، ٹیلی فون پر ان سے تعزیت کی اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ دارالعلوم کراچی پر چھاپہ
جامعہ دارالعلوم کراچی پر رینجرز اور پولیس کے چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی خبر سن کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے خطاب کے لیے منبر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ چلتے چلتے ایک دوست نے خبر دی کہ دارالعلوم کراچی اس وقت رینجرز کے محاصرہ میں ہے اور کچھ پتا نہیں چل رہا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ ذہن اچانک سناٹے کی زد میں آگیا اور جذبات کے سمندر میں تلاطم انگڑائیاں لینے لگا مگر کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برما کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے!
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ میانمار (برما) کے صوبہ اراکان میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، ہنگامی حالت کے باوجود بودھ راہبوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری ملکی سکیورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہے۔ رواں سال مئی کے آخر میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا برادری کو اپنے ملک کا شہری تسلیم کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام کی شہادت، استعمار کی سازش!
گزشتہ دو روز سے مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی المناک شہادتؒ پر تعزیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ نصرۃ العلوم میں طلبہ کے اجتماع میں راقم الحروف نے مولانا شہیدؒ کی دینی و تعلیمی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا، انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی ہوئی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ ۱۵ مئی کو دارالعلوم گجرات میں جمعیۃ علماء اہل السنۃ کے زیر اہتمام ایک تعزیتی نشست ہوئی جس میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جناب ایس ایم ظفر کی قانونی موشگافی
ایس ایم ظفر ملک کے نامور قانون دان ہیں، وفاقی وزیر قانون رہے ہیں، ممتاز ماہرین دستور و قانون میں ان کا شمار ہوتا ہے اور دستوری و قانونی معاملات میں ان کی رائے کو وقعت اور اہمیت دی جاتی ہے۔ پاکستان قومی اتحاد میں ان کے ساتھ میری رفاقت رہی ہے اور آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کی دستوری کمیٹی اور منشور میں مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ سنجیدہ اور باوقار شخصیت ہیں اور جچی تلی بات کرنے کے عادی ہیں مگر گزشتہ روز ایک دوست نے ان کے ایک حالیہ بیان کی طرف توجہ دلائی تو تعجب سا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فتنوں سے آگاہی کا میدان اور علماء حق
گزشتہ دنوں چنیوٹ کے دورے کے موقع پر استاذ محترم حضرت مولانا محمد نافع دامت برکاتہم کی زیارت و مجلس نصیب ہوگئی۔ چند سال قبل مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے ہمراہ حضرت شیخ مدظلہ کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی، اس موقع پر بخاری شریف کی ایک روایت کی قراءت کے بعد انہوں نے اپنی سند کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت دی تھی اور ان سے شرفِ تلمذ حاصل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد متعدد بار ان کے پاس حاضر ہو کر دعائیں اور شفقتیں سمیٹ چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 226
- 227
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »