پاکستان شریعت کونسل کے عزائم
پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کو واچ کرنے اور اسلام اور پاکستان کے خلاف ان سرگرمیوں کے تعاقب کے لیے تمام دینی جماعتوں سے رابطہ قائم کرنے اور جدوجہد کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کیا گیا جو گزشتہ دنوں جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق کے جواب میں
محترم جاوید احمد غامدی کے بعض ارشادات کے حوالے سے جو گفتگو کچھ عرصے سے چل رہی ہے اس کے ضمن میں ان کے دو شاگردوں جناب معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق خان نے ماہنامہ اشراق لاہور کے مئی ۲۰۰۱ء کے شمارے میں کچھ مزید خیالات کا اظہار کیا ہے جن کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ معز امجد صاحب نے حسب سابق (۱) کسی مسلم ریاست پر کافروں کے تسلط کے خلاف علماء کے اعلان جہاد کے استحقاق (۲) زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی ممانعت (۳) اور علماء کے فتویٰ کے آزادانہ حق کے بارے میں اپنے موقف کی مزید وضاحت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورت ۔ ثقافتی جنگ میں مغرب کا ہتھیار
اس وقت عالم اسلام اور مغرب میں فلسفۂ حیات اور کلچر و ثقافت کی جو کشمکش جاری ہے اور جسے خود مغرب کے دانشور ’’سولائزیشن وار‘‘ قرار دے رہے ہیں اس میں مغرب کا دعویٰ ہے کہ وہ جس کلچر اور ثقافت کا علمبردار ہے وہ ترقی یافتہ اور جدید ہے اس لیے ساری دنیا کو اسے قبول کر لینا چاہیے۔ لیکن مغرب کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کیونکہ جدید تہذیب کی اقدار و روایات میں کوئی ایک بات بھی ایسی شامل نہیں ہے جسے نئی قرار دیا جا سکے بلکہ یہ سب کی سب اقدار و روایات وہی ہیں جو ’’جاہلیت قدیمہ‘‘ کا حصہ رہ چکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شادی اور اس کے سماجی اثرات
شادی کو عام طور پر ایک سماجی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک طبعی ضرورت ہے اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اسلام نے اسے صرف ضرورت کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے مقاصد میں شمار کیا ہے اور نیکی اور عبادت قرار دیا ہے جس سے شادی کے بارے میں اسلام کے فلسفہ اور باقی دنیا کی سوچ میں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ کیونکہ اگر شادی کو محض ایک ضرورت اور مجبوری سمجھا جائے تو پھر یہ ضرورت جہاں پوری ہو اور جس حد تک پوری ہو بس اسی کی کوشش کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسانی حقوق اور اسوۂ نبویؐ
سب سے پہلے محکمہ اوقاف پنجاب کا شکر گزار ہوں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور حیات مبارکہ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس تقریب میں شرکت اور آپ حضرات سے گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ سیرت نبویؐ پر گفتگو کرنے والا اپنی بات شروع کرنے سے پہلے اس الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس وسیع و عریض چمنستان کے سدا بہار پھولوں میں سے کس کا انتخاب کرے اور کسے چھوڑے کیونکہ اس باغ کے ہر پھول کی خوشبو نرالی ہے اور کسی ایک کو چھوڑ کر آگے نکل جانے کا حوصلہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حزب التحریر کے نوجوانوں سے ایک گزارش
۲۱ فروری ۲۰۰۱ء کو فیلیٹیز ہوٹل لاہور میں پاکستان شریعت کونسل کا سیمینار تھا جس میں جمعیۃ علماء اسلام، جمعیۃ علماء پاکستان، جماعت اسلامی، مجلس احرار اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں مولانا عبد المالک خان، علامہ شبیر احمد ہاشمی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبد الرشید انصاری، قاری زوار بہادر، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، چوہدری ظفر اقبال ایڈووکیٹ اور دیگر رہنماؤں کے علاوہ راقم الحروف نے بھی مختصر اظہار خیال کیا جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی نے سیمینار کی صدارت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور دورِ جدید کے مسائل و تقاضے
اس دفعہ دارالعلوم جمیکا نیویارک کے مہتمم مولانا محمد یامین اور ان کے رفقاء کار بھائی برکت اللہ اور مولانا حافظ اعجاز احمد کی دعوت پر میں نے عید الاضحٰی کی تعطیلات دارالعلوم نیویارک میں گزاریں۔ عید کے دوسرے روز اسلام آباد سے کویت ایئرویز کے ذریعے سفر کرتا ہوا شام کو نیویارک پہنچا اور ۱۹ نومبر کو واپسی کے سفر کا آغاز کر کے ان سطور کی اشاعت تک گوجرانوالہ پہنچ جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ہمارے مخلص ساتھیوں بھائی برکت اللہ اور مولانا محمد یامین نے اپنے دیگر رفقاء کے تعاون سے اب سے کوئی چودہ برس قبل یہ ادارہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان کے سیاسی طبقات
گزشتہ ایک کالم میں میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کی سعودی عرب جلاوطنی پر تبصرہ کرتے ہوئے طاقت اور دولت کی کشمکش کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کا وعدہ کیا تھا اس لیے آج اسی سلسلہ میں کچھ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد ملک کی باگ ڈور جن طبقات کے ہاتھوں میں چلی گئی وہ تین تھے: (۱) جاگیردار اور زمیندار (۲) بیوروکریٹس (۳) اور جرنیل صاحبان۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی آمد تک ملک کی اسٹیبلشمنٹ انہی تین طبقات سے عبارت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آسمانی تعلیمات کے حوالے سے ایک مستقل آزمائش
سورۃ المائدہ آیت ۴۴ تا آیت ۵۰ میں اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد اور تسلسل بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تورات نازل کی جس کے مطابق حضرات انبیاء کرامؑ لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے، پھر انجیل نازل کی اور اس کے ماننے والوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اس کتاب کے مطابق کیا کریں، اس دوران زبور نازل ہوئی اور حضرت داؤدؑ کو بھی اللہ رب العزت نے یہی حکم دیا کہ وہ لوگوں کے معاملات اور تنازعات کا کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملک کی بربادی کا سبب ۔ علامہ ابن خلدونؒ کی نظر میں
علامہ ابن خلدونؒ آٹھویں صدی ہجری کے وہ نامور مؤرخ ہیں جنہوں نے نہ صرف تاریخ پر قلم اٹھایا ہے اور انسانی معاشرہ کی تاریخ کے مختلف ادوار کے حالات و واقعات کو قلمبند کیا ہے بلکہ قوموں کی نفسیات، انسانی تاریخ کے مد و جزر اور اتار چڑھاؤ کے پس منظر اور اقوام کے عروج و زوال کے اسباب و عوامل پر فلسفیانہ گفتگو بھی کی ہے اور انہیں تاریخ کی فلسفہ نگاری کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی مرتب کردہ تاریخ اور اس کے مقدمہ میں قوموں کے عروج و زوال اور حکومتوں کی کامیابی و ناکامی کے معاشی اسباب پر بحث کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 255
- 256
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »