اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اسے عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور تیسری دنیا میں اپنی ہم نوا لابیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ جبکہ اس نظریاتی و فکری یلغار میں ملت اسلامیہ کے عقائد و احکام اور روایات و اقدار سب سے زیادہ مغربی دانشوروں، لابیوں اور ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۱۹۹۵ء

احتساب کا عمل اور خلافتِ راشدہ

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے قومی دولت لوٹنے والوں کے بے لاگ احتساب کا اعلان کیا ہے۔ قومی دولت کی قومی خزانے میں واپسی اور لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کا احتساب ایک دیرینہ عوامی مطالبہ ہے جس پر پہلے بھی کئی حکومتوں نے توجہ دینے کا اعلان کیا مگر انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ اسی لیے جنرل پرویز مشرف کے اس اعلان پر بھی ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ دبے لفظوں میں اس خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۱۹۹۹ء

’’ریاست مدینہ‘‘ کا سماجی و تاریخی پس منظر

یہاں ایک تاریخی سوال سامنے آتا ہے کہ جناب رسول اکرمؐ تو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ کے قریشیوں کے بے پناہ مظالم سے تنگ آکر پناہ لینے کے لیے یثرب کی طرف آئے تھے، یہ آتے ہی ریاست و حکومت کی صورت کیسے بن گئی؟ اس سوال کا جائزہ لینے کے لیے ہجرت نبویؐ کے مقاصد اور اس کے ساتھ اس دور کے سماجی تناظر پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اس وقت کے آثار و روایات کا ترتیب کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہجرت کا مقصد صرف کفار مکہ کے مظالم سے نجات اور پناہ کی جگہ حاصل کرنا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۱۷ء

پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شورٰی کا تاسیسی اجلاس

پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ، عورت کی حکمرانی سے نجات اور اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لیے دینی حلقوں کے تعاون کے ساتھ عوامی تحریک منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مولانا فداء الرحمان درخواستی کو کونسل کا امیر اور مولانا زاہد الراشدی کو سیکرٹری جنرل منتخب کر کے مارچ ۱۹۹۷ء کے دوران لاہور میں ملک گیر سطح پر ’’نظام شریعت کنونشن ‘‘ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلے پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے تاسیسی اجلاس میں کیے گئے جو ۱۳ و ۱۴ اگست ۱۹۹۶ء کو مدنی مسجد لنگر کسی بھوربن مری میں منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۶ء

قصہ ۱۹۵۶ء کے دستور کا

جمعیۃ علماء اسلام اور اس کے حق پرست اکابر شروع سے ہی اس دستور کو غیر اسلامی سمجھتے اور قرار دیتے چلے آرہے ہیں اور ان کا جو آج موقف ہے وہی ۱۹۵۸ء کے مارشل لاء سے قبل تھا۔ چنانچہ جمعیۃ کے آرگن سہ روزہ ترجمان اسلام کے مارشل لاء ۱۹۵۸ء سے قبل کے چند پرچوں سے بعض اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام نہ صرف یہ کہ ۱۹۵۶ء کے دستور کو غیر اسلامی سمجھتی تھی بلکہ جمعیۃ کی جدوجہد کا محور ہی اس دستور کو تبدیل کر کے خالص شرعی آئین نافذ کرنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء

اشک آباد کے مذاکرات اور مولانا سمیع الحق کی پیشکش

آج صبح دو اچھی خبریں پڑھنے کو ملیں اور ذہن کی اسکرین پر خوشی کی کرنیں جھلملانے لگیں۔ ایک خبر اشک آباد میں طالبان اور شمالی اتحاد کے مذاکرات کی کامیابی کی ہے جو کم و بیش سبھی اخبارات نے شائع کی ہے جبکہ دوسری خبر مولانا سمیع الحق کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد کی پیشکش ہے۔ ایک مضمون میں راقم الحروف نے عرض کیا تھا کہ استعماری قوتوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ افغانستان شمال اور جنوب میں تقسیم ہو جائے اور شمال میں ایک ایسی ریاست قائم ہو جو کابل کی نظریاتی اسلامی حکومت اور وسطی ایشیا کی نو آزاد مسلم ریاستوں کے درمیان ’’بفر اسٹیٹ‘‘ کا کام دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۱۹۹۹ء

کلہ بہ زئی (واپس کب جاؤ گے؟)

محترم میجر (ر) سہیل پرویز نے گزشتہ روز اپنے کالم میں افغان مہاجرین کے حوالہ سے ایک خوبصورت سوال اٹھایا ہے کہ ’’کلہ بہ زئی؟‘‘ (یعنی واپس کب جاؤ گے؟)۔ میجر صاحب کا ارشاد ہے کہ افغان مہاجرین جب روسی جارحیت کا شکار ہونے کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آئے تو پاکستانی عوام نے ان کا خیرمقدم کیا تھا لیکن ان مہاجرین میں ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں آگئے جنہوں نے پاکستان میں جائیدادیں خریدنے اور کاروبار بڑھانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ اور اب یہ لوگ پاکستانی قوم کے لیے وبال جان بنتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم فروری ۲۰۰۰ء

دینی شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘

میں تبلیغی جماعت کو مسجد و مدرسہ اور دین کے دیگر شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘ کہا کرتا ہوں جو عام مسلمانوں کے گھروں میں جا کر اور ایک ایک دروازے پر دستک دے کر انہیں دین کے کام کے لیے بھرتی کرتی ہے اور گھیر گھار کر مسجد میں لے آتی ہے۔ اس کے بعد دین کے مختلف شعبوں کے ذمہ دار حضرات کا کام ہے کہ وہ انہیں سنبھالیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کر کے دینی محنت کے کسی نہ کسی کام میں کھپائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۱۹۹۹ء

قرآن کریم اور نو مسلم خواتین

’’نومسلم خواتین کی آپ بیتیاں‘‘ محترمہ نگہت عائشہ نے ترتیب دی ہے اور اس میں مختلف ممالک کی ستر نو مسلم خواتین کی آپ بیتیاں شامل کی گئی ہیں۔ پونے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتاب ندوۃ المعارف ۱۳ کبیر اسٹریٹ اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے اور اس میں جسٹس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے ایک سفرنامے کو بطور دیباچہ شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے لندن کے معروف روزنامہ لندن ٹائمز کی ۹ نومبر ۱۹۹۳ء کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر ماضی قریب میں مسلمان ہونے والی بعض نومسلم خواتین کے تاثرات بیان کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء

اکیسویں صدی کا آغاز اور اس کے تقاضے

برطانیہ والوں کے بقول اکیسویں صدی عیسوی کا آغاز ہوگیا ہے اور میں نے بھی نئی صدی کا آغاز برطانیہ میں ہی کیا ہے۔ اگرچہ اکیسویں صدی کے آغاز میں اختلاف ہے کہ ۲۰۰۰ء سے نئی صدی شروع ہوگئی ہے یا ۲۰۰۱ء میں شروع ہوگی۔ چین اور اس کے ساتھ بعض اور حلقوں کا خیال ہے کہ بیسویں صدی ۲۰۰۰ء کا سال مکمل ہونے پر ختم ہوگی اور اس کے بعد ۲۰۰۱ء سے اکیسویں صدی کا آغاز ہوگا اس لیے وہ نئی صدی کی تقریبات اگلے سال منائیں گے۔ مگر برطانیہ نے نئی صدی کا آغاز گزشتہ روز کر دیا ہے اور پورے جوش و خروش کے ساتھ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جنوری ۲۰۰۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter