رائے کی اہلیت اور بحث ومباحثہ کی آزادی
مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی ہمارے فاضل دوست ہیں اور مخدومنا المکرم حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاندانی تعلق کے باعث وہ ہمارے لیے قابل احترام بھی ہیں۔ ہمارے ایک اور فاضل دوست مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی کی زیر ادارت شائع ہونے والے جریدہ ماہنامہ ’’فقاہت‘‘ لاہور کے دسمبر ۲۰۱۱ء کے شمارے میں، جو احناف کی ترجمانی کرنے والا ایک سنجیدہ فکری وعلمی جریدہ ہے، مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی نے اپنے ایک مضمون میں ’’الشریعہ‘‘ کی کھلے علمی مباحثہ کی پالیسی کوموضوع بنایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آزادانہ بحث ومباحثہ اور ماہنامہ الشریعہ کی پالیسی
محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب ہمارے قابل احترام دوست ہیں، تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے ایک عرصے سے سرگرم عمل ہیں، ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی تشکیل میں ان کا اہم کردار ہے اور دینی حمیت کو بیدار رکھنے کے لیے مسلسل تگ ودو کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے موقر جریدہ ’’البرہان‘‘ کا اکتوبر ۲۰۱۱ء کا شمارہ جناب جاوید احمد غامدی کے افکار وخیالات پر نقد وجرح کے لیے مخصوص کیا ہے اور اس ضمن میں راقم الحروف، ماہنامہ ’الشریعہ‘ اور عزیزم عمار خان ناصر سلمہ پر بھی کرم فرمائی کی ہے جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مشترکہ دینی تحریکات اور حضرت امام اہل سنتؒ
تحریک ختم نبوت، تحریک تحفظ ناموس رسالت اور تحریک نفاذ شریعت کے لیے مشترکہ دینی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت پر ہمارے بعض دوستوں کو اعتراض ہے۔ یہ اعتراض ان کا حق ہے اور اس کے لیے کسی بھی سطح پر کام کرنا بھی ان کا حق ہے۔ اسی طرح اعتراض کو قبول نہ کرنا ہمارا بھی حق ہے جس کے بارے میں ہم نے مختلف مواقع پر اپنے موقف کا تفصیل کے ساتھ اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ اس سلسلے میں ہمارے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ کا نام کثرت سے استعمال کیا جا رہا ہے جو محل نظر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اکابر علماء دیوبند کی علمی دیانت اور فقہی توسع
علماء دیوبند کو بحمد اللہ تعالیٰ اہل سنت او رحنفیت کی علمی اور شعوری ترجمانی کا شرف حاصل ہے جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جاتا ہے اور ان کے علمی تعارف کی حیثیت رکھتا ہے۔ اکابر علماء دیوبند کو ایک طرف فقہ کی اہمیت وضرورت سے انکار کی صورت حال کا سامنا تھا اور دوسری طرف ان کا واسطہ اس فقہی جمود سے تھا جس میں جزئیات وفروعات کو بھی کفر واسلام کا مدار سمجھ لیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میری علمی ومطالعاتی زندگی ۔ ماہنامہ نوائے کسان کا سوالنامہ
ہمارا تعلق ضلع مانسہرہ، ہزارہ میں آباد سواتی خاندان سے ہے جس کے آبا و اجداد کسی زمانے میں سوات سے نقل مکانی کر کے ہزارہ میں آباد ہوگئے تھے۔ ہمارے دادا نور احمد خان مرحوم شنکیاری سے آگے کڑمنگ بالا کے قریب چیڑاں ڈھکی میں رہتے تھے اور زمینداری کرتے تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کی نو عمری میں ان کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ والدہ کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ یہ دونوں حضرات دینی تعلیم کی طرف آگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہینِ رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ ۔ چند گزارشات
توہین رسالت پر موت کی سزا کے بارے میں امت میں عمومی طور پر یہ اتفاق تو پایا جاتا ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے لعین وشقی شخص کی سزاموت ہی ہے۔ مگر اس کی فقہی اور عملی صورتوں پر فقہائے امت میں اختلاف ہر دور میں موجود رہا ہے کہ مسلمان کہلانے والے گستاخ رسول کو موت کی یہ سزا مستقل حد کی صورت میں دی جائے گی یا ارتداد کے جرم میں اسے یہ سزا ملے گی۔ اور اس کے لیے توبہ کی سہولت وگنجائش موجود ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات
عقیدۂ ختم نبوت کے لیے جدوجہد کرنا عبادت ہے اور قادیانیوں کا ہر محاذ پر تعاقب کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہر جدوجہد اور محاذ کی کچھ اخلاقیات بھی ہوتی ہیں۔ پھر ہمارا دین تو ’’دین اخلاق‘‘ کہلاتا ہے اور ہم ساری دنیا کے سامنے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اخلاق عالیہ کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ کیا خود ہمارے لیے ان اخلاقیات کا لحاظ کرنا ضروری نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شریعت کے متعلق معذرت خواہانہ رویہ
امریکہ سمیت بہت سے سیکولر ممالک کی پالیسیوں کے تسلسل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس ’’مذہبی آزادی‘‘ اور ’’ریاست کی عدم مداخلت‘‘ کے پیچھے اصل مقصد اسلامی ثقافت و روایات کے عالمی سطح پر دوبارہ اظہار کو روکنا ہے۔ اس لیے یہ عدم مداخلت دھیرے دھیرے اسلامی روایات کے خلاف مداخلت کا رخ اختیار کرتی جا رہی ہے، اور امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ’’اسلامی شرعی قوانین‘‘ کے حوالے سے جس منفی مہم کا خدشہ ڈاکٹر طارق رمضان نے ظاہر کیا ہے، وہ بھی اسی پس منظر میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امیر عبد القادر الجزائریؒ
انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی کے دوران مسلم ممالک پر یورپ کے مختلف ممالک کی استعماری یلغار کے خلاف ان مسلم ممالک میں جن لوگوں نے مزاحمت کا پرچم بلند کیا اور ایک عرصہ تک جہاد آزادی کے عنوان سے داد شجاعت دیتے رہے، ان میں الجزائر کے امیر عبد القادر الجزائریؒ کا نام صف اول کے مجاہدین آزادی میں شمار ہوتا ہے جن کی جرات واستقلال، عزیمت واستقامت اور حوصلہ وتدبر کو ان کے دشمنوں نے بھی سراہا اور ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسامہ بن لادن اور ان کی جدوجہد ۔ ایک سوالنامہ
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن میں پنٹاگون کی عمارت سے جہاز ٹکرانے کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کے بارے میں حتمی طور پرکچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کس نے کیے ہیں اور خود مغربی ایجنسیاں بھی اس سلسلے میں مختلف امکانات کا اظہار کر رہی ہیں لیکن چونکہ امریکہ ایک عرصہ سے معروف عرب مجاہد اسامہ بن لادن اور عالم اسلام کی مسلح جہادی تحریکات کے خلاف کارروائی کا پروگرام بنا رہا تھا اور خود اسامہ بن لادن کی تنظیم ’’القاعدہ‘‘ کی طرف سے امریکی مراکز اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اعلانات بھی موجود تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 440
- 441
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »