تعارف و تبصرہ

’’معالم العرفان فی دروس القرآن (سورۃ الانفال و سورۃ التوبۃ)‘‘: حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مدظلہ کے دروسِ قرآن مرتب اور شائع ہو کر علماء اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے استفادہ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ قرآنی علوم و معارف اور احکام و مسائل کو بیان کرنے میں حضرت صوفی صاحب کا انداز انتہائی سہل ہے اور امام ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و فلسفہ کی روشنی میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۱ء

جناب وزیر اعظم! زخموں پر نمک پاشی نہ کیجئے!

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز پرائم منسٹر سیکرٹریٹ اسلام آباد میں پندرہویں قومی سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’نفاذِ اسلام ہمارا مشترکہ خواب ہے اور اس کی عملی تعبیر ہماری مشترکہ آرزو ہے۔ اس کے لیے ہمیں مشترکہ جدوجہد کرنی ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۱ء

تعارف و تبصرہ

’’آثار السنن (اردو ترجمہ)‘‘: گزشتہ صدی کے نامور محدث حضرت علامہ محمد بن علی النیمویؒ المتوفی ۱۳۲۲ھ نے آثار السنن کے نام سے احادیث و آثار کے اس ذخیرہ کو مرتب کرنا شروع کیا تھا جو فقہ حنفی کی فروع و جزئیات کی بنیاد ہیں۔ یہ ایک وقیع علمی خدمت تھی جس سے بعض حضرات کے پھیلائے ہوئے ان شکوک و شبہات کا ازالہ بھی مقصود تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۱ء

بھٹو صاحب! قوم کے راستہ سے ہٹ جائیں!

پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ مولانا مفتی محمود کے پرائیویٹ سیکرٹری چوہدری محمد شریف ایڈووکیٹ نے ۱۵ اپریل کو سنٹرل جیل ہری پور میں ان سے ملاقات کی اور بعد ازاں ایک بیان میں کہا کہ مولانا مفتی محمود نے ایک پیغام میں قوم کے مختلف طبقات کو قومی تحریک میں جرأت و استقامت کے ساتھ حصہ لینے پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۱۹۷۷ء

’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ (۱۰)

اجارہ داری کی کمپنیاں: معدنیات سے متعلق اجارہ داری کا معاملہ عموماً کمپنی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ اور ملک کا وہ بہترین سرمایہ جو زیادہ سے زیادہ انسانوں بلکہ حکومت کی تمام آبادی کے لیے مفید اور نفع بخش ہو سکتا ہے، اس طرح افراد کے اندر محدود ہو جاتا اور آخر کار عام بدحالی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ اسلام ایسی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مئی ۱۹۶۹ء

’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ (۸)

(۵) وہ معاملہ جس میں دھوکا اور فریب مضمر ہو۔ مثلاً ایک شے کی خرید یا فروخت منظور ہے مگر خاص غرض کے ماتحت معاملہ میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا اور ایک دوسری شے کے ضمن میں اس کو لے لیا گیا ہے۔ اس طرح اگر ضمنی شے جو بہت ناقص ہے یا سب سے بہتر ہے اس معاملہ کے اندر شامل ہو گئی تو معاملہ کر لیا، ورنہ معاملہ کی تمام شرائط مکمل ہو جانے کے بعد معاملہ سے انکار کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۱۹۶۹ء

مسلم خواتین کی شاندار علمی خدمات

گزشتہ ماہ ملک کے مختلف شہروں کے دینی مدارس میں ختم بخاری شریف کے آخری سبق کے حوالہ سے منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت اور آخری حدیث پر گفتگو کا موقع ملا۔ عام طور پر تو بخاری شریف کی آخری حدیث کے بارے میں معروضات پیش کیں، البتہ طالبات کے مدارس میں ان کے نصاب کی آخری حدیث، جو کتاب النکاح کی آخری روایت ہے، کے حوالہ سے گفتگو ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر تا ۱۵ ستمبر ۲۰۰۸ء

پاکستان شریعت کونسل کی ارکان پارلیمنٹ سے چند گزارشات

معزز ارکان پارلیمنٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ملک بھر کے محب وطن اور اسلام دوست عوام بالخصوص علمائے کرام اور دینی حلقوں کے لیے یہ بات باعثِ مسرت و اطمینان ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندے ملک کی موجودہ نازک، سنگین اور حساس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمع ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ و ۱۱ اکتوبر ۲۰۰۸ء

متحدہ مجلس عمل کے قائدین کی خدمت میں

مولانا فضل الرحمٰن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ دینی جماعتوں کے متحدہ سیاسی محاذ ایم ایم اے کو قائم رکھنے اور دوبارہ متحرک بنانے کے لیے تمام جماعتوں سے رابطے کریں گے اور متحدہ مجلس عمل کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی جائے گی، جبکہ قاضی حسین احمد صاحب ابھی گومگو کی کیفیت میں نظر آتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۸ء

دینی تعلیمات پر اعتراضات اور ہماری ذمہ داری

الحمد للہ عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے بعد مدارس میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، اکثر پورے ملک میں طلباء و اساتذہ گھروں سے واپس آگئے ہیں اور تعلیم کا نظام جاری ہو گیا ہے۔ طلباء کے لیے ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کل عام طور پر آپ سوشل میڈیا پہ جاتے ہیں، بلکہ جانے کی ضرورت نہیں ہے سوشل میڈیا ہر وقت جیب میں پڑا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۲۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter