عالمی کنونشنز پر پاکستان کے دستخط اور کچھ تحفظات

مختلف اخبارات میں ”آن لائن“ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے عالمی کنونشنز پر دستخط کر کے ان کی توثیق کر دی ہے۔ عالمی کنونشنز نے مراد انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے عالمی چارٹر اور اس کی تشریح و تعبیر میں مختلف اوقات میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے والی کانفرنسوں اور کنونشنز کے فیصلے ہیں ، جن میں عورتوں کے حقوق، بچوں کے حقوق، مزدوروں کے حقوق، قیدیوں کے حقوق ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جون ۲۰۱۰ء

محترمہ عاصمہ جہانگیر کی جیت: چند تحفظات

محترمہ عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہو گئی ہیں، اس سال وکلاء کے قافلے کی قیادت وہ کریں گی۔ چند ماہ قبل انہوں نے بار کی صدارت کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو ہمارے ذہن میں تحفظات نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا اور مختلف مجالس میں ہم نے ان کا اظہار بھی کیا۔ ملک میں وکلاء کے سب سے فورم کی سربراہی کے مسئلے سے ہمیں بظاہر کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ نومبر ۲۰۱۰ء

حادثہ یا سازش؟

گزشتہ جمعرات کو جس روز علماء کرام نے مولانا عبد الغفور حیدری کی قیام گاہ پر حلوہ نوش جان کیا، میں بھی اسلام آباد میں تھا، لیکن وزارت مذہبی امور کے طلب کردہ اجلاس میں نہیں، بلکہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوۃ اکیڈمی کے ایک تربیتی کورس میں لیکچر دینے کی غرض سے وہاں گیا تھا۔ دعوۃ اکیڈمی نے فیصل مسجد میں ائمہ مساجد اور خطباء کے لیے سہ ماہی تربیتی کورس کا اہتمام کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۱۰ء

تبلیغی جماعت کی دعوت کا بنیادی مقصد

تبلیغی جماعت کی برکت سے اس ہفتے مسلسل تین دن فیصل آباد میں رہنے کا موقع مل گیا۔ میرا ایک طرح سے معمول ہے کہ عید الاضحیٰ کی تعطیلات میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سالانہ سہ روزہ لگاتا ہوں، جس کا مقصد ایک کارِ خیر میں کسی بھی درجے کی شرکت اور اس کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے علاوہ چند دن عام روٹین سے ہٹ کر گزارنا بھی ہوتا ہے، اور سنن و مستحبات کے بہت سے اعمال جو عام دنوں میں رہ جاتے ہیں، دو تین دن میں وہ بھی کرنے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ نومبر ۲۰۱۰ء

پنجاب میں کراچی برانڈ فرقہ واریت کی سازش

حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی مرحوم کا مکان نذر آتش کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جو واقعات ۱۲ ربیع الاول کے روز پیش آئے ہیں ان پر ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود یقین نہیں آ رہا کہ پاکستان میں اور پھر فیصل آباد میں ایسا بھی ہو سکتا ہے اور اس دن ہو سکتا ہے جو ایسا کرنے والوں کے خیال میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کے حوالہ سے خوشی اور عید کے طور پر منایا جانا چاہیے اور وہ اپنے طور پر اس کی ہر ممکن کوشش بھی کرتے ہیں۔ خیر یہ ان کا مسئلہ ہے، لیکن کیا عید اس طرح بھی منائی جاتی ہے؟ یہ بات ذہن میں ابھی تک جگہ نہیں پکڑ رہی۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۱۰ء

دینی مدارس کی خود مختاری کے تحفظ کو اولیت دی جائے

اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اور وفاقی حکومت کے درمیان مبینہ طور پر ہونے والے معاہدے اور اس کے تحت ”وفاقی مدرسہ بورڈ“ کے قیام کے حوالے سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا مضمون اور جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے مولانا مفتی محمد زاہد کا تجزیہ و تبصرہ قارئین کی نظر سے گزر چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۱۰ء

قاری حنیف شاہدؒ کی المناک شہادت

ممتاز نعت گو اور نعت خواں قاری محمد حنیف شاہد کی المناک شہادت پر دنیا کے مختلف حصوں میں رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، انہیں گزشتہ دنوں ۱۸ دسمبر کو گوجرانوالہ میں غنڈوں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ روز انٹرنیٹ پر جنگ میں یورپ کی خبریں دیکھ رہا تھا کہ برمنگھم میں قاری محمد حنیف شاہد شہیدؒ کی تعزیت میں ہونے والے اجلاس کی خبر پڑھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۱۰ء

ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے ذوقِ قرآن فہمی کو فروغ دیا

صبح نمازِ فجر کے بعد مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں بیٹھا کچھ لکھنے پڑھنے میں مصروف تھا کہ مولانا عبد الرؤف ملک نے فون پر یہ خبر دی کہ محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا رات انتقال ہو گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بے حد صدمہ ہوا کہ پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد، جس کا میں خود بھی ایک کارکن ہوں، ایک باشعور اور حوصلہ مند رہنما سے محروم ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب سے اس جدوجہد کے حوالے سے طویل رفاقت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۰ء

ڈیرہ اسماعیل خان کا ایک سفر

کئی برسوں کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا۔ جمعیت علماء اسلام کے دو سرگرم راہ نماؤں مولانا قاضی عبد اللطیفؒ اور خواجہ محمد زاہد شہیدؒ کی وفات پر تعزیت کے لیے جانا تھا۔ مولانا عبد الرؤف فاروقی اور مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر کے ساتھ طے پایا کہ ۲۴ ستمبر کو نماز جمعہ سے فارغ ہو کر سفر شروع کیا جائے۔ عزیزم حافظ محمد زبیر جمیل بھی ہمراہ تھے۔ ہماری پہلی منزل خانقاہ سراجیہ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۱۰ء

صحابہ کرامؓ کے باہمی تنازعات کے بارے میں ائمہ اہل سنتؒ کے ارشادات

مشاجراتِ صحابہؓ کا موضوع اس قدر نازک اور پیچیدہ ہے کہ اسے زیر بحث لاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ ایک طرف صحابہ کرامؓ کا وہ مقدس گروہ ہے جس کی عدالت و دیانت، صداقت و امانت، اور شجاعت و استقامت بحث و تمحیص سے بالاتر ہے، اور بارگاہِ رسالتؐ سے اس قدوسی گروہ کا تعلق کچھ اس نوعیت کا ہے کہ مجموعی حیثیت سے پورے گروہ یا اس میں کسی خاص طبقہ کی، یا انفرادی طور پر کسی ایک فرد کی عدالت و دیانت اور صداقت و شجاعت کو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ و ۲۴ مئی ۱۹۶۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter