مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے حضرت درخواستی اور مفتی محمود کا خطاب

کل پاکستان جمعیۃ علماء اسلام کی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور جماعتی تنظیمی امور پر غور و خوض کی غرض سے ۲۸، ۲۹ اپریل کو مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں طلب کیا گیا۔ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر نہایت اہم اور نازک مسائل زیر بحث آئے اور دور رس نتائج کے حامل اہم فیصلے کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۱۹۷۵ء

صحابۂ رسولؓ پر سب و شتم کرنے والوں کا حکم

ذیل کا مضمون شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی معرکۃ الآراء کتاب ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ کے آخری باب ’’سب الصحابۃ‘‘ کا ترجمہ ہے۔ جس میں امام موصوفؒ نے صحابۂ رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ناجائز باتیں کہنے والوں اور ان پر سب و شتم کرنے والوں کا شرعی حکم بیان فرمایا ہے۔ زمانہ حال کی ضروریات کے پیش نظر اس باب کا ترجمہ قارئین ترجمانِ اسلام کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مارچ ۱۹۶۸ء

الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ: عقائد، دعوت اور علماء کی رائے

اس وقت ہمارے سامنے محکمہ شرعیہ قطر کے قاضی الشیخ احمد بن حجر آل ابو طامی کا کتابچہ ہے جس میں انہوں نے شیخ محمد بن عبد الوہابؒ کی زندگی، عقائد، دعوت اور ان کے بارے میں علماء کی آراء کا تذکرہ کیا ہے۔ کتابچہ کا عنوان ہے: ’’الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ: عقیدۃ السلفیہ و دعوۃ الاصلاحیۃ وثناء العلماء علیہ‘‘۔ کتابچہ کی تصحیح سعودی عرب کے مقتدر عالمِ دین فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن الباز نے کی ہے اور اس پر مقدمہ بھی لکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جنوری ۱۹۸۰ء

جماعتی قائدین اور کارکنوں کے ساتھ آٹھ دن

’’ترجمانِ اسلام‘‘ میں اعلان ہو چکا تھا اور احباب کو خطوط بھی لکھے جا چکے تھے۔ چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ۷ جنوری کو گکھڑ سے روانہ ہو کر عشاء کی نماز کے قریب ٹیکسلا پہنچا۔ انجمن شبان اسلام کے دفتر میں جماعتی احباب اور ترجمانِ اسلام کے ایجنٹ حضرات گرد و نواح سے جمع تھے ۔ جماعتی مسائل پر گفتگو کے علاوہ ترجمانِ اسلام کا معیار بلند کرنے اور اس کی اشاعت کو وسیع تر کر دینے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم فروری ۱۹۷۴ء

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور اقوامِ متحدہ کا امتحان

سلامتی کونسل نے روس اور امریکہ کی کوشش سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے تمام فریقوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ جنگ بند کر دیں اور اس کے بعد ۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر واپس چلے جائیں۔ مصر اور اسرائیل نے جنگ بندی قبول کر لی ہے اور سینائی کے محاذ پر جنگ بند ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۱۹۷۳ء

’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ (۷)

(۱) تالاب، کھیتیاں، جوہڑ، کنوئیں اور چشمے اگر شخصی ملکیت نہیں ہیں تو ان میں تمام پبلک کا یکساں حقِ انتفاع ہے اور وہ کسی بھی حال میں شخصی ملکیت نہیں بن سکتے۔ (۲) اگر یہ ’’پانی‘‘ شخصی ملکیت میں بھی ہو تب بھی عام حالات میں پینے اور استعمال کرنے کے لیے دوسروں کو اس سے یکساں فائدہ اٹھانے کا حق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۱۹۶۹ء

’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ (۵)

اسلام کے دستوری نظام میں خراج، جزیہ، عشر، زکوٰۃ، فئی، عشور خمس، وقف اور اس قسم کے محاصل اسی غرض سے مقرر کیے گئے ہیں کہ وہ ملک کی انفرادی اور اجتماعی ضروریات کے کام آئیں، اس لیے وہ عام طور پر مزید ٹیکس عائد کرنے کو جائز نہیں سمجھتا۔ البتہ اگر بیت المال کے یہ مسطورہ بالا محاصل ان ضروریات کو کافی نہ ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مارچ ۱۹۶۹ء

توراۃ اور انجیل میں آقائے نامدار ﷺ کا تذکرہ (۱)

یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ سابقہ کتبِ سماویہ خصوصاً تورات، انجیل اور زبور میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خوشخبری اور ان کا ذکرِ خیر موجود تھا۔ جیسا کہ قرآن مقدس کا فرمان ہے کہ ’’یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل‘‘ (الاعراف رکوع ۱۹) اہلِ کتاب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اپریل ۱۹۶۸ء

کُل پاکستان نظامِ شریعت کانفرنس اور مقامی و ضلعی جمعیتوں کی ذمہ داری

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ۴ مارچ ۱۹۸۸ء کو مینارِ پاکستان پارک لاہور میں کُل پاکستان نظامِ شریعت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں صوبائی جمعیتوں کی طرف سے سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے اور مرکزی و صوبائی راہنماؤں کے وفود ملک کے مختلف حصوں کے دورے کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۱۹۸۸ء

منبر و محراب کے محاذ کو فعال کرنے کی ضرورت

حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام پاکستان نے نئے حکمران اتحاد میں شمولیت کا جو فیصلہ کیا ہے وہ یقیناً سوچ سمجھ کر کیا ہو گا اور اس کے کچھ دینی و ملی مقاصد ان کے سامنے ہوں گے، جن میں سے بعض کا ہم اس کالم میں تذکرہ کر کے مقاصد و اہداف کی حد تک ان سے مکمل اتفاق کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۲۰۰۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter