۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے دساتیر

اس کے بعد ایک نئی کشمکش شروع ہو گئی۔ جب قراردادِ مقاصد منظور ہوئی تو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین خان مرحوم تھے جو مشرقی پاکستان سے دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر آئے تھے اور فرید پور کے ضلع سے تھے۔ مجلس کے صدر تھے اور بہت سنجیدہ، فاضل اور دانشور آدمی تھے۔ قرارداد مقاصد کو منظور کروانے میں ان کا بہت کردار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

قادیانی مسئلہ

اس کے بعد ایک تیسرا مرحلہ درپیش آگیا۔ دیکھیں آج کے دور میں اسلام نافذ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ بڑے مراحل طے کرنا پڑتے ہیں اور بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد تیسرا مسئلہ قادیانیوں کے حوالے سے پیش آگیا جو بڑا زبردست مسئلہ تھا۔ قادیانی ختمِ نبوت کے واضح منکر تھے اور اب بھی منکر ہیں اور مرزا غلام احمد کی نبوت کے قائل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

مذہب اور ریاست کا باہمی تعلق

آج کی دنیا میں تین ملک ہیں جہاں اپنے اپنے طور پر مذہب کو حکومت کی اساس قرار دیا گیا ہے۔ پہلا ملک سعودی عرب ہے جس کا آئین یہ ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق نظام چلے گا ،لیکن فیصلے کی فائنل اتھارٹی بادشاہ ہے۔ سعودیہ میں آخری اتھارٹی امرِ مَلکی ہے، نہ کسی کو اسے چیلنج کرنے کا اختیار ہے اور نہ اختلاف کا حق حاصل ہے۔ سعودی عرب میں قرآن و سنت کے مطابق نظام چلتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

قیامِ پاکستان اور دستور سازی

پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان ہندوستان کو تقسیم کر کے بنا ہے۔ جب انگریز برصغیر میں آئے تھے تو متحدہ ہندوستان اورنگزیب کے زمانے سے ایک ملک چلا آ رہا تھا جو اَب چار ملکوں میں تقسیم ہو گیا ہے یعنی بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور برما۔ جب انگریزوں نے یہاں قبضہ کیا تو پہلے انہوں نے برما کو الگ کیا۔ اس کے بعد ہندوستان کی آزادی کے وقت یہاں کی سیاسی پارٹیوں میں دو نقطۂ نظر سامنے آ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

خلافت کے ادوار

خلافت کا تاریخی پس منظر، نظریہ امامت و خلافت، خلافت کے مختلف معیارات، خلافت کے نظام کا ابتدائی تعارف، اور اسلام کے رفاہی ریاست کا تصور ذکر کرنے کے بعد خلافت کے جو مختلف ادوار گزرے ہیں ان کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ خلافتِ راشدہ کے بعد جو تاریخی طور پر خلافت کا دور گنا جاتا ہے وہ خلافتِ بنو امیہ کا دور ہے۔ مؤرخین خلافتِ بنو امیہ کا آغاز سیدنا حضرت امیر معاویہؓ سے کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

خلافت کا رِفاہی تصور اور نظم

ریاست اور رفاہی ریاست میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کسی بھی ملک کی حکومت اور ریاست کے چار پانچ بنیادی کام سمجھے جاتے ہیں: سرحدوں کی حفاظت، ملک میں امن قائم کرنا، لوگوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکنا، انصاف فراہم کرنا ، اور لوگوں کو زندگی کی سہولتیں زیادہ سے زیادہ فراہم کرنا۔ یعنی کسی ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کرے تاکہ کوئی باہر سے حملہ نہ کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

خلافت کے معیارات

خلافت کا تاریخی تناظر کہ کیسے خلافت کا آغاز ہوا، خلافت کن کن ادوار سے گزری، اور خلافت کے مختلف معیارات جو تاریخ میں تقریبا بارہ تیرہ سو سال چلتے رہے، وہ کیا تھے؟ اس حوالے سے یہ کہنا چاہوں گا کہ خلافت کے ادوار جو تاریخی اعتبار سے کہلاتے ہیں، ان میں خلافتِ راشدہ، خلافتِ امویہ، خلافتِ عباسیہ اور خلافتِ عثمانیہ کے ادوار ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کے ہاں خلافتِ راشدہ کا دور اصطلاحاً تیس سال کا دور کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

خلافت کا سیاسی نظام

فقہاء کرام لکھتے ہیں کہ خلیفہ کا انتخاب اور خلافت کا قیام امت کے اجتماعی فرائض میں سے ہے ۔ خلافت کے قیام کے فرض ہونے کے دلائل میں دو بڑی دلیلیں حضرت شاہ ولی اللہؒ نے بیان فرمائی ہیں: ایک دلیل یہ دی ہے کہ قرآن کریم کے بہت سے احکامات حکومت کی موجودگی پر موقوف ہیں۔ مثلاً حدود کا نفاذ، جہاد، بیت المال کا قیام، عدالتوں کا قیام اور انصاف کی فراہمی وغیرہ، یہ سارے معاملات حکومت کا وجود چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

خلافت اور پاپائیت

یہ بات ایک اور تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں جو آج کی فکری اور سماجی دنیا کا بہت بڑا مسئلہ اور بہت بڑا مغالطہ ہے۔ مغرب کے پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے مارٹن لوتھر کی تحریک کے نتیجے میں پاپائیت کو مسترد کر دیا تھا۔ جبکہ رومن کیتھولک آج بھی پاپائے روم کے تابع ہیں۔ لیکن ایک زمانہ گزرا ہے جب رومن کیتھولک پاپائے روم حکمرانوں کے سرپرست ہوتے تھے، ان کا فیصلہ آخری ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

خلافت اور امامت

سیاسی نظام پر اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کا بنیادی اختلاف ہے۔ اہلِ تشیع امامت کی اصطلاح کے ساتھ بات کرتے ہیں اور اہلِ سنت خلافت کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ امامت اور خلافت ، یا امام اور خلیفہ میں کیا فرق ہے؟ اہلِ تشیع امام کو خدا کا نمائندہ اور معصوم عن الخطا کہتے ہیں، اور پیغمبر کی طرح اتھارٹی اور اختلاف سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ امامت میں اللہ کی نیابت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter