کابل میں ’’اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کا قیام

اپنے میزبان کے ساتھ کابل کے ایک روڈ پر گزرتے ہوئے ’’دعلومو اکادمی‘‘ کے بورڈ پر نظر پڑی تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ علوم کی تحقیق و ریسرچ کا ادارہ ہے جو طالبان کی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی اور میں نے اپنے میزبان سے عرض کیا کہ یہ تو میرے اپنے ذوق اور شعبہ کا کام ہے جس کا کابل کے حوالہ سے ایک عرصہ سے خواب دیکھ رہا ہوں۔ اس لیے اس ادارہ کو ضرور دیکھنا ہے اور اس کے ذمہ دار حضرات سے بات کرنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۲۰۰۰ء

افغان نائب صدر ملا محمد حسن سے ملاقات

افغان نائب صدر نے کہا کہ ہمارا یہ عزم اور فیصلہ ہے کہ افغانستان کی حدود میں اسلام اور صرف اسلام کا نفاذ ہوگا لیکن ہم دوسرے کسی ملک کے معاملہ میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ہماری خواہش ضرور ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک اپنے اپنے ممالک میں اسلام نافذ کریں اور اگر کوئی مسلم ملک اس مقصد کے لیے آگے بڑھتا ہے تو ہم اس سے بھی تعاون کریں گے۔ لیکن اپنی طرف سے کسی ملک پر انقلاب مسلط کرنے اور مسلم ملکوں کے معاملات میں مداخلت کا کوئی پروگرام ہم نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی کو ایسا خطرہ محسوس کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۰۰ء

دو دن کابل کی آزاد فضا میں

اب مجھے تیسری بار کابل جانے اور دو روز قیام کرنے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اگرچہ مسائل و مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے مگر طالبان اہلکاروں نے جس ہمت اور محنت کے ساتھ اپنی ناتجربہ کاری پر قابو پایا ہے اور ایثار و استقامت کے ساتھ معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے اس کے اثرات کابل میں نمایاں طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ کابل کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں، بازاروں کی چہل پہل میں اضافہ ہوا ہے، چھ بجے سرشام کابل کے راستے بند ہو جانے کی بجائے اس کی مدت رات دس بجے تک بڑھا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اگست ۲۰۰۰ء

ملائیت اور تھیاکریسی

یہ بزرگ اگر تھیاکریسی کی بنیاد رکھنے والے ہوتے تو آسانی کے ساتھ کہہ سکتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں اور ہماری بات حرف آخر ہے، اس لیے ہمارے کسی فیصلہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ لیکن انہوں نے قرآن و سنت کو اپنی رائے کے تابع کرنے کی بجائے خود کو اصولوں کے سامنے کھڑا کر کے یہ بتا دیا کہ اسلام میں تھیاکریسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ روایت اور طریق کار صرف حضرات خلفاء راشدینؓ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ آج بھی اسلام کے اصول یہی ہیں اور ان کی پابندی سے کوئی طبقہ یا شخصیت مستثنیٰ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۰۰ء

جدید تعلیم یافتہ دانش وروں کا المیہ

ہمارے جدید تعلیم یافتہ دانشوروں کی ایک مجبوری یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات و احکام اور اسلامی تاریخ تک ان کی رسائی براہ راست نہیں بلکہ انگلش لٹریچر کے ذریعہ ہے۔ اور انگلش لٹریچر بھی وہ جو مسیحی اور یہودی مستشرقین کے گروہ نے اپنے مخصوص ذہنی ماحول اور تاریخی پس منظر میں پیش کیا ہے۔ مستشرقین کی تحقیقی کاوشوں اور جانگسل محنت سے انکار نہیں مگر اس کے اعتراف کے باوجود ان کے پیش کردہ لٹریچر کو ان کے ذہنی رجحانات اور فکری پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۰۰ء

قیام پاکستان کی پہلی اینٹ کس نے رکھی؟

ڈاکٹر خٹک صاحب کے مراسلہ سے اندازہ ہوا کہ عام طور پر پائی جانے والی اس غلط فہمی کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا ضروری ہے کہ قیام پاکستان کی پہلی اینٹ سر سید احمد خان مرحوم نے رکھی تھی۔ یہ بات اتنے تواتر کے ساتھ کہی جانے لگی ہے بلکہ ہمارے سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جا رہی ہے کہ اس سے اختلاف کو ابتدا میں بہت عجیب سمجھا جائے گا مگر تاریخی تناظر پر منصفانہ نظر ڈالی جائے تو اس کی حقیقت ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس حوالہ سے سب سے پہلے ہمیں اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جولائی ۲۰۰۰ء

معاشرتی حقوق اور اسلامی تعلیمات

اس واقعہ کے راوی حضرت سہل بن ساعدؓ کہتے ہیں کہ یہ جواب سن کر آنحضرتؐ نے وہ پیالہ اس بچے کے ہاتھ میں اس طرح تھمایا کہ اس میں ناگواری کے اثرات محسوس ہو رہے تھے۔اس سے اندازہ کر لیجیے کہ جناب نبی اکرمؐ کی نظر میں باہمی حقوق کی کیا اہمیت تھی کہ خود حضورؐ وہ پیالہ دوسری طرف دینا چاہتے تھے لیکن حق والا اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوا جس پر آپؐ کو ناگواری ہوئی مگر اس کے باوجود پیالہ اسی کے ہاتھ میں دیا جس کا حق تھا۔ ایسا کر کے جناب رسول اللہؐ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ باہمی حقوق کی ادائیگی کا کس درجہ اہتمام ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جولائی ۲۰۰۰ء

’’اسلام کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں‘‘

محترمہ سرفراز اقبال صاحبہ کو اس بات پر بہت کوفت ہوئی ہے کہ وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے اپنے حالیہ متنازعہ انٹرویو کے بارے میں مولویوں کی بیان بازی سے متاثر ہو کر صفائی دینے کی طرز اختیار کی ہے۔ محترمہ کا خیال ہے کہ مولوی کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیے اور حکمرانوں کو جو بات ان کی سمجھ میں آئے کر گزرنی چاہیے۔ ان کا یہ بھی ارشاد ہے، بلکہ ارشادات کا عنوان ہے کہ ’’اسلام کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے‘‘ اس لیے کسی کو اسلام کے غم میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جون ۲۰۰۰ء

خلافتِ عثمانیہ اور مولانا احمد رضا خانؒ

مجھے عباسی صاحب موصوف کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ سلطنت اور خلافت میں فرق کرتے تھے اور ترکی کے عثمانی حکمرانوں کو مسلم سلاطین کے طور پر تسلیم کرتے تھے مگر انہیں خلیفہ اور امیر المومنین نہیں سمجھتے تھے۔ اور مولانا احمد رضا خانؒ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرنے والے شریف مکہ حسین بن علی کی حمایت کی تھی۔ مگر عباسی صاحب کی اس بات سے مجھے اتفاق نہیں ہے کہ خود عثمانی حکمرانوں نے بھی خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کا سب سے بڑا امتیاز و اختصاص یہ تھا کہ وہ قومی صحافت کے اتنے بڑے نقار خانے میں اہل حق کی نمائندگی کرنے والی ایک مضبوط اور توانا آواز کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا یہی امتیاز مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ جیسے عظیم محدث کے نزدیک انہیں ماموں کانجن سے اٹھا کر کراچی میں لا بٹھانے کا باعث بنا تھا۔ اور یہی امتیاز میرے جیسے کارکن کے لیے ان کے مرثیہ کا سب سے بڑا عنوان ہے۔ وہ آج کی صحافتی زبان کو سمجھتے تھے، اس کی کاٹ کو محسوس کرتے تھے، اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۰۰ء

عقائد اور نظریات میں بنیادی فرق

(۱) عقائد: جن کی بنیاد وحی الٰہی اور نص قطعی پر ہے اور ان میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (۲) عقائد کی تعبیر و تشریح: جن کی بنیاد میسر معلومات اور دائرہ تحقیق پر ہے اور اس معاملہ میں اہل علم کی رائے آپس میں مختلف ہو سکتی ہے۔ (۳) افکار و نظریات: جن کی بنیاد انسان کی فکر و نظر پر ہے اور ان میں ہر وقت حرکت قائم رہتی ہے۔ کسی بھی شخص کی فکر یا نظریہ کبھی حرف آخر نہیں ہوتا اور شعور و آگہی کے دائرہ میں وسعت کے ساتھ افکار و نظریات میں ارتقاء کا سلسلہ بھی کسی تعطل کے بغیر جاری رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۰۰ء

غیرت کا جذبہ اور اس کی شرعی حدود

ان دنوں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتیں بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کا خاص موضوع ہیں اور قتل کی ان وارداتوں کے حوالہ سے غیرت کا لفظ اور اس کا مفہوم بھی مسلسل زیر بحث ہے۔ ’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں اہل زبان دو باتوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا، اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۰۰ء

قانون اور سیرتِ حضرت علیؓ

حضرت علیؓ کا یہ ارشاد ہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ جب ملعون ابن ملجم نے قاتلانہ حملہ میں انہیں زخمی کر دیا تو وہ موت و حیات کی کشمکش میں تھے۔ جبکہ ابن ملجم پکڑا جا چکا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس حال میں بھی اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کو تلقین کی کہ اسے کچھ کہنا نہیں اور نہ ہی کوئی اذیت دینی ہے اس لیے کہ میں ابھی زندہ ہوں۔ اگر میں زندہ رہا تو یہ فیصلہ میں خود کروں گا کہ اسے معاف کرنا ہے یا سزا دینی ہے۔ لیکن اگر میں ان زخموں میں شہید ہوگیا تو پھر تمہیں اس سے قصاص لینے کا حق حاصل ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۱۶ء

امیر و غریب کا فرق اور اسلامی تعلیمات

اسلام کا ایک اصول یہ ہے کہ یہ دنیا ضروریات پوری کرنے کی حد تک ہے، خواہشات کا پورا کرنا اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔ آج تک کسی انسان کی خواہشات اس دنیا میں پوری ہوئی ہیں اور نہ پوری ہو سکتی ہیں۔ اس لیے تمام انسان ضروریات کے دائرہ میں رہیں گے تو اس دنیا کے موجودہ وسائل سے سب کا گزارہ ہوتا رہے گا۔ لیکن جونہی کچھ لوگ ضروریات کا دائرہ توڑ کر خواہشات کی تکمیل کے خیال سے وسائل ذخیرہ کرنا شروع کر دیں گے تو ان چند لوگوں کی یہ ادھوری خواہشات بہت سے لوگوں کی حقیقی ضروریات کا خون کر دیں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اپریل ۲۰۰۰ء

خلافت راشدہ کا نظام اور ہماری موجودہ حالت

نعت خواں نے نظم پڑھی جس میں امیر المومنین حضرت عمرؓ کے مناقب ذکر کرتے ہوئے یہ دعا کی گئی کہ یا اللہ! حضرت عمرؓ کو ایک بار پھر ہم میں بھیج دے۔ میں نے اپنے خطاب میں نعت خواں سے کہا کہ بھئی ہم اس قابل نہیں ہیں، اس لیے کہ حضرت عمرؓ بالفرض ہم میں دوبارہ آ جائیں تو ہم میں سے کوئی ان کے نزدیک نہ مسلمان قرار پا سکے گا اور نہ ہی ان کے کوڑے سے بچے گا۔ اس لیے اتنا اونچا ہاتھ مت مارو۔ بس سلطان شمس الدین التمشؒ، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ، سلطان اورنگ زیب عالمگیرؒ، اور سلطان محمد فاتحؒ جیسے حکمرانوں کے ساتھ گزارہ کر لو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۱۹۹۹ء

محترم راجہ انور کی چند غلط فہمیاں

جہاں تک اختلاف رائے کا تعلق ہے میں اس کا حق ہر صاحب الرائے کے لیے تسلیم کرتا ہوں، پھر وہی حق اپنے لیے کسی رو رعایت کے بغیر مانگتا ہوں اور اسے بے جھجھک استعمال بھی کرتا ہوں۔ راجہ صاحب محترم کو یہ غلط فہمی ہے کہ اہل دین کج بحث ہوتے ہیں اور کسی منطق اور استدلال کے بغیر محض تقدس اور احترام کے زور پر اپنی بات منوانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے ان کا واسطہ کبھی کسی کج بحث سے پڑ گیا ہو، ورنہ جہاں تک دین کے اصولوں کا تعلق ہے ان کی بنیاد ہمیشہ استدلال اور جائز حدود میں اختلاف رائے کے احترام پر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۰۰ء

قائد اعظم محمد علی جناح اور مصطفٰی کمال اتاترک

مصطفی کمال اتاترک نے اسلامی نظام کو جدید دور کے تقاضوں کے لیے ناکام اور ناکافی قرار دیتے ہوئے ترکی میں شرعی قوانین اور شرعی عدالتوں کا خاتمہ کر دیا اور مغربی قوانین اور نظام مختلف شعبوں میں نافذ کیے۔ جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مغربی نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے اسلامی نظام کو پاکستان کی منزل قرار دیا اور اس کے لیے مسلمانوں کو منظم کیا۔ اور اس طرز فکر و نظریہ اور ہدف و مقصد کے لحاظ سے دونوں لیڈروں کا رخ ایک دوسرے سے بالکل الٹ دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ نومبر ۱۹۹۹ء

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ

مغربی ثقافت اور جدید کلچر کی نقاب کشائی اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے تعارف کے حوالہ سے ان کی تحریریں میرے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث تھیں۔ اور کئی جلدوں پر محیط ان کی ضخیم تصنیف ’’کاروان دعوت و عزیمت‘‘ نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا جس میں انہوں نے امت مسلمہ کے ان ارباب عزیمت و استقامت کی جدوجہد سے نئی نسل کو متعارف کرایا ہے جو ہر دور میں ارباب اقتدار کی ناراضگی اور غیظ و غضب کی پروا کیے بغیر حق اور اہل حق کی نمائندگی کرتے رہے ہیں، اور حق گوئی کی پاداش میں انہیں بے پناہ مصائب اور مشکلات کا شکار ہونا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۲۰۰۰ء

سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

تاریخ کا وہ حصہ میری خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے جس کا تعلق اب سے دو صدیاں پہلے کی دو عظیم مسلم سلطنتوں خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خلاف یورپی ملکوں کی سازشوں سے ہے۔ اور اس حوالہ سے وقتاً فوقتاً ان کالموں میں کچھ لکھتا بھی رہتا ہوں۔ اسی مناسبت سے مجھے ایک معاہدہ کی تفصیلات کی تلاش تھی جو برطانوی حکومت اور آل سعود کے درمیان ہوا تھا اور جس پر اب تک بدستور عمل ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ یہ معاہدہ قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں مگر پہلے اس کا تھوڑا سا پس منظر واضح کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۱۹۹۹ء

فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

عالمی یہودی تحریک کے نمائندہ لارنس اولیفینٹ نے پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی سہولت فراہم کر دی جائے تو اس کے عوض یہودی سرمایہ کار سلطنت عثمانیہ کی تمام مشکلات میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے کہا کہ یورپی ملکوں سے نکالے جانے والے یہودیوں کو سلطنت عثمانیہ کے کسی بھی حصہ میں آباد ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں، مگر فلسطین میں چونکہ یہودی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ ان کے ذہنوں میں ہے اس لیے اس خطہ میں کسی یہودی کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء

خدیو مصر اور خدیو پنجاب

ہم میاں شہباز شریف سے با ادب یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ جو کردار ادا کرنا چاہیں بڑے شوق سے کریں، انہیں ہر رول ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن تاریخ میں ہر کردار کے لیے ایک مخصوص باب ہوتا ہے، اس کا مطالعہ بھی کر لیں۔ اور بطور خاص ’’خدیو مصر‘‘ اسماعیل پاشا کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں ۔ ۔ ۔ خدیو مصر کی پالیسیوں کے نتیجہ میں تو برطانیہ کی فوجیں مصر پر قابض ہوئی تھیں، لیکن خدیو پنجاب کے منصوبوں میں یہ کردار کس ملک کی فوج کے لیے تجویز کیا گیا ہے؟ میاں صاحب خود ہی وضاحت فرمادیں تو ان کا بے حد کرم ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۱۹۹۹ء

قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

نہر سویز کی کھدائی فرانسیسی ماہرین نے کی تھی لیکن حکومت برطانیہ پہل کر گئی اور اس نے یہ حصص خرید لیے۔ مگر نہر سویز کے یہ حصص فروخت کر کے بھی قرضوں کی ادائیگی نہ ہو سکی جس کے نتیجہ میں اسماعیل پاشا نے ۱۸۷۶ء میں سرکاری ہنڈیوں پر لوگوں کو رقوم کی ادائیگی روک دی اور ملک میں خلفشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ قرض دینے والے یورپی ملکوں نے قرض خواہوں کے مفادات کے تحفظ کے عنوان سے مشترکہ طور پر ایک نگران کمیشن قائم کر لیا جس نے مصر کے مالی معاملات میں مداخلت کر کے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۳)

سلطان مرحوم کے بقول جب وہ کھانے کی دعوت پر برطانوی ماہرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ بتا رہے تھے کہ برطانوی حکومت نے سلطنت عثمانیہ کے مختلف علاقوں میں آثار قدیمہ کی دریافت اور تاریخی نوادرات کی تلاش کے لیے اپنے خرچہ پر کھدائی کی پیشکش کی ہے جو انہوں نے قبول کر لی ہے، تو محفل میں موجود روسی سفیر کے لبوں پر انہیں عجیب سی مسکراہٹ کھیلتی دکھائی دی۔ حالانکہ اس سے قبل روسی سفیر گہری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ ان کی گفتگو سن رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ ستمبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۲)

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانی مرحوم کی یادداشتوں کا گزشتہ ایک کالم میں ذکر کیا تھا، ان میں سے کچھ اہم امور کا دو تین کالموں میں تذکرہ کرنے کو جی چاہتا ہے تاکہ قارئین یہ جان سکیں کہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کن حالات میں اور کن لوگوں کے ہاتھوں ہوا۔ یہ یادداشتیں سلطان عبد الحمید کی ذاتی ڈائری کے ان صفحات پر مشتمل ہیں جو خلافت سے معزولی کے بعد نظر بندی کے دوران انہوں نے قلمبند کیے۔ یہ پہلے ترکی زبان میں مختلف جرائد میں شائع ہو چکی ہیں اور عربی میں ان کا ترجمہ و ایڈیٹ کا کام عین شمس یونیورسٹی کے استاد پروفیسر محمد حرب نے کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ ستمبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۱)

سلطان عبد الحمید مرحوم نے لکھا ہے کہ مدحت پاشا کی مغرب نوازی ان کے علم میں آچکی تھی اور وہ جانتے تھے کہ انگریزوں کے ساتھ مدحت پاشا کے خفیہ روابط ہیں۔ حتیٰ کہ سفارتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ مدحت پاشا کے رفیق کار جنرل عونی پاشا نے انگریزوں سے بھاری مقدار میں رقوم وصول کی ہیں۔ لیکن چونکہ رائے عامہ مدحت پاشا کے ساتھ تھی اور اسے قومی ہیرو کی حیثیت دے دی گئی تھی اس لیے ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ اسے صدر اعظم کا منصب عطا کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اگست ۱۹۹۹ء

مذہب اور وحی کی طرف واپسی کا سفر

موجودہ صدی کو عام طور پر مذہب کی طرف واپسی کی صدی کہا جاتا ہے کہ گزشتہ دو صدیاں انسانی سوسائٹی نے وحی اور آسمانی تعلیمات سے انحراف میں گزاری ہیں اور اس کے تلخ معاشرتی نتائج و ثمرات کا سامنا کرتے ہوئے اب اہل دانش سوسائٹی میں مذہبی اقدار و روایات کی واپسی کے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ دو ماہ قبل امریکہ کی ہنٹنگٹن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر پاکستان تشریف لائے، وہ اہل سنت کے معروف متکلم اور عقائد کے امام ابومنصور ماتریدیؒ پر تحقیقی کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۱۶ء

غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

جاوید احمد غامدی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں، صاحب علم ہیں، عربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، وسیع المطالعہ دانشور ہیں، اور قرآن فہمی میں حضرت مولانا حمید الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کے مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دنوں قومی اخبارات میں غامدی صاحب اور ان کے شاگرد رشید جناب خورشید احمد ندیم کے بعض مضامین اور بیانات کے حوالے سے ان کے کچھ تفردات سامنے آرہے ہیں جن سے مختلف حلقوں میں الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ اور بعض دوستوں نے اس سلسلہ میں ہم سے اظہار رائے کے لیے رابطہ بھی کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴، ۱۶، ۱۷ جنوری ۲۰۰۱ء

نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم

نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم نہ صرف نماز روزہ کے پابند تھے اور حلال و حرام کا اہتمام کے ساتھ فرق کرنے والے تھے بلکہ میں ان کی شب زندہ داری اور تہجد گزاری کا بھی شاہد ہوں۔ انہوں نے دینی تحریکات کی ہمیشہ سرپرستی کی ہے اور ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد میں تو ان کا کردار ہمیشہ قائدانہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ وہ معروف معنوں میں خالصتاً ایک سیاسی رہنما تھے۔ ان کا شمار دینی رہنماؤں میں نہیں ہوتا تھا لیکن میں نے متعدد دینی تحریکات کے رہنماؤں کو اپنی جدوجہد کے حوالہ سے ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اکتوبر ۲۰۰۳ء

الحاج سید امین گیلانی ؒ

مجھے آج ان بھولے بھالے دانشوروں اور قلمکاروں پر ہنسی آتی ہے جو بڑی آسانی کے ساتھ یہ لکھ اور کہہ دیتے ہیں کہ برصغیر کی آزادی اور قیام پاکستان کے لیے ایک قرارداد منظور ہوئی اور اس پر چھ سات سال کی بیان بازی، خط و کتابت، عوامی اجتماعات اور مظاہروں کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آگیا۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس کے پیچھے ان جانبازوں اور سر فروشوں کے مقدس خون اور قربانیوں کی کتنی قوت کارفرما تھی جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنے جسموں کو چھلنی کروا لیا، پھانسی کے پھندوں کو چوما، جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اگست ۲۰۰۵ء

پیر آف پگارا سید مردان علی شاہ مرحوم

پیر صاحب آف پگارا اپنے ماضی کے حوالے سے بہت شاندار تاریخ رکھتے ہیں مگر وہ خود چونکہ مغربی ماحول کے تربیت یافتہ تھے اس لیے ان پر ان کے ماضی کا رنگ غالب نہ آسکا ۔ ۔ ۔ مگر پاکستان کے استحکام اور سندھ میں قوم پرستوں کے علیحدگی پسندانہ رجحانات کا مقابلہ کرنے میں وہ ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ سندھ میں جب بھی لسانی حوالے سے یا قوم پرستی کے عنوان سے کوئی مسئلہ کھڑا ہوا پیر صاحب آف پگارا پاکستان اور وفاق کی علامت کے طور پر سامنے آئے۔ ملک کی وحدت و سالمیت کے لیے وہ ہمیشہ محب وطن پاکستانیوں کی ڈھارس ثابت ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جنوری ۲۰۱۲ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter