جہاد افغانستان میں امریکہ کا کردار

جنوبی ایشیا کے دینی حلقوں نے روس کے خلاف جو جنگ لڑی ہے وہ دراصل کمیونزم کے خلاف نہیں بلکہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم اور پروگرام کے خلاف تھی، اور اپنے عقائد و روایات اور ملی تشخص کے تحفظ کے لیے تھی۔ اب اس خطہ کے دینی حلقوں کو یہی خطرہ امریکہ کی طرف سے درپیش ہے کہ وہ نیو ورلڈ آرڈر کے نام پر اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کی آڑ میں مسلمانوں کو اسلام کے معاشرتی کردار اور اسلامی عقائد و احکام کے عملی نفاذ کے حق سے محروم کر دینا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۰۱ء

مسلم ممالک کا اقتصادی بلاک

ایٹمی شعبہ میں جزوی پیش رفت کو چھوڑ کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں مسلمان اپنی معاصر اقوام سے بہت پیچھے اور بہت ہی پیچھے ہیں۔ ورلڈ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی عالمی دوڑ اور مسابقت میں مسلمانوں کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں۔ حتیٰ کہ ہم ابھی تک عالمی سطح پر ڈھنگ کی کوئی خبر رساں ایجنسی قائم نہیں کر سکے۔ اور تو اور ہم ابھی تک ریڈ کراس طرز کا کوئی ایسا بین الاقوامی رفاہی ادارہ نہیں بنا سکے جو مطلوبہ معیار پر پورا اترتا ہو اور رفاہی شعبوں میں اعتماد کے ساتھ خدمات سر انجام دینے کی پوزیشن میں ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جنوری ۲۰۰۱ء

عید الفطر اور قرآنِ حکیم کا پیغام

اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت ہمیں عطا فرمائی مگر نصف صدی میں اس کی جو ناقدری ہم نے کی ہے اس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین اور اس کے نظام کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ملک کے وسائل میں غریب شہریوں کے لیے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھے ہیں وہ گنتی کے چند افراد نے سلب کر لیے ہیں۔ عام آدمی زندگی کے بنیادی اور ضروری اسباب کو ترس رہا ہے مگر مراعات یافتہ طبقے اربوں، کھربوں روپے کی مالیت کے وسائل پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور ملک کی دولت کا بہت بڑا حصہ باہر بھجوا دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ دسمبر ۲۰۰۰ء

کرسمس اور آسمانی تعلیمات

ہم کرسمس کے موقع پر دنیا بھر کے مسیحی دوستوں کو بالعموم اور پاکستانی مسیحیوں کو ’’بڑے دن‘‘ کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان آسمانی تعلیمات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں جو نسل انسانی کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ اور دیگر حضرات انبیاء کرامؑ کے ذریعہ ہمیں عطا فرمائی ہیں۔ وہ آسمانی تعلیمات جنہیں پس پشت ڈال کر آج ہم دنیا بھر کے انسان افراتفری، خلفشار اور بے سکونی کا شکار ہوگئے ہیں اور جن آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی ہی انسانی معاشرہ کے لیے نجات و فلاح اور امن و خوشحالی کی طرف واحد راستہ باقی رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ دسمبر ۲۰۰۰ء

مکہ کا سردار قیصرِ روم کے دربار میں

رسول اکرمؐ نے اس وقت کی ایک بڑی بلکہ سب سے بڑی سلطنت رومن ایمپائر کے حکمران ہرقل کو بھی، جو قیصر روم کہلاتا تھا، دعوت اسلام کا خط بھجوایا۔ یہ خط حضرت دحیہ کلبیؓ لے کر گئے۔ شام اس دور میں رومی سلطنت کا حصہ تھا اور قیصر روم شام کے دورے پر ایلیا میں آیا ہوا تھا۔ جبکہ جناب ابو سفیان بھی ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ وہیں قیام پذیر تھے۔ آنحضرتؐ کا ہرقل کے نام خط لے کر حضرت دحیہ کلبیؓ وہاں پہنچے۔ ہرقل کو اطلاع دی گئی کہ حجاز سے ایک قاصد آیا ہوا ہے جو نئے نبی حضرت محمدؐ کا خط اسے پیش کرنا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ و ۱۸ دسمبر ۲۰۰۰ء

اقوامِ متحدہ کی کارکردگی اور ظالم چودھری

کہا جاتا ہے کہ دنیا ایک گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر گئی ہے اور فاصلے سمٹ جانے کی وجہ سے مشترک اور مربوط عالمی سوسائٹی کا ماحول بنتا جا رہا ہے۔ یہ بات اس حوالہ سے بالکل درست ہے کہ ساری دنیا ایک ایسے گاؤں کی طرح دکھائی دیتی ہے جس پر ایک طاقتور جاگیردار نے قبضہ جما لیا ہے اور قوت و طاقت کے بل پر اس نے گاؤں کی پوری آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے، کسی کو اس کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہے، اس کے لٹھ بردار چاروں طرف گھوم رہے ہیں جن (کی نگرانی) سے کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی چار دیواری بچی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جنوری ۲۰۰۳ء

حضرت عمرؓ کا نظامِ حکومت اور اسفند یار ولی

اسفند یار خان ولی صاحب کے ارشاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم ان سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا نظام حکومت نافذ کرنے میں اس وقت دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اور یہ دونوں رکاوٹیں اس قدر بڑی ہیں کہ انہیں متحدہ مجلس عمل صوبائی اسمبلی میں واضح اکثریت رکھنے کے باوجود شاید اکیلی عبور نہ کر سکے۔ اور اس سلسلہ میں قومی اتفاق رائے کے حصول کے لیے ایم ایم اے کو شاید نہیں بلکہ یقیناً اے این پی کے 10 ووٹوں کی حمایت کی ضرورت بھی ایک مرحلہ پر لازماً پیش آسکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۰۲ء

دینی تحریکات کی ناکامی کا ایک سبب

میں نے دوستوں کے ساتھ اہم نکات پر گفتگو میں عرض کیا کہ خاندانی نظام کی شرعی بنیادوں کے تحفظ کی جدوجہد میں ہم مرحلہ وار پسپائی اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اس پسپائی کو روکنے کی مجھے اب بھی کوئی عملی صورت دکھائی نہیں دے رہی ۔ ۔ ۔ کسی عوامی تحریک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی ’’پن‘‘ نکال دینے کا یہ نسخہ اس قدر کارگر ثابت ہوا کہ اس کے بعد بھی مختلف مراحل میں اسے کامیابی کے ساتھ دہرایا جا چکا ہے۔ جبکہ ایک غریب و بے نوا کارکن کے طور پر مجھے اب بھی اسی کا خطرہ دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مئی ۲۰۱۶ء

مولانا مطیع الرحمان نظامیؒ شہید

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر مولانا مطیع الرحمان نظامی کو گزشتہ روز پھانسی دے دی گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا قصور یہ دکھائی دے رہا تھا کہ متحدہ پاکستان کے دور میں انہوں نے قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد کی تکمیل کی جدوجہد میں حصہ لیا اور وطن عزیز میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری کا مطالبہ کرتے رہے۔ پاکستان کی سالمیت و وحدت کے خلاف بھارتی دخل اندازی سامنے آئی تو وہ اپنے ملک اور اس کے دستور کی حمایت و دفاع اور وحدت و خود مختاری کے تحفظ کی جدوجہد کا حصہ بنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مئی ۲۰۱۶ء

مولانا مفتی محمودؒ اور اکرم درانی

ایک عرب دانشور کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کے وزراء کو عوام کے روز مرہ مسائل کے حل میں زیادہ دلچسپی لینی چاہئے۔ ذاتی کردار کے حوالہ سے دیانت، خدمت اور سادگی کی روایات کو زندہ کرنا چاہئے۔ حکمرانوں اور عوام کے درمیان قائم کئے گئے مصنوعی فاصلوں کو کم کرنا چاہئے۔ اور ایک ایسی دیانت دار، کفایت شعار، خدمت گزار اور با اصول حکومت کا نقشہ پیش کرنا چاہئے جو دوسری حکومتوں سے واقعتا مختلف دکھائی دے۔ اور پھر آئندہ الیکشن میں ملک کے دوسرے صوبوں کے عوام بھی صوبہ سرحد کے عوام کی پیروی کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۰۲ء

حفاظتِ قرآن کا تکوینی نظام

کسی کتاب کی بقا اور حفاظت کے ظاہری اسباب چمڑا، تختی، کاغذ،قلم، ڈسک، سی ڈی اور کیسٹ وغیرہ ہیں۔ یہ اسباب موجود ہوں تو کتاب کا وجود بھی ہے اور اگر خدانخواستہ ان اسباب کا وجود باقی نہ رہے تو کسی کتاب کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ لیکن قرآن کریم ان تمام اسباب سے بے نیاز ہے کہ ان میں سے ایک سبب بھی باقی نہ رہے تب بھی قرآن کریم پر اس کا رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ وہ لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے اور اتنی بار پڑھا و سنا جاتا ہے کہ کتاب کے وجود اور بقاء کے ظاہری اسباب کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کے لیے ایک جیسی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۰۲ء

شہدائے آزادی کی روحوں کا سوال

اب ہم اس مقام پر بھی کھڑے نظر نہیں آتے جہاں سے 14 اگست 1947ء کو یہ سفر شروع کیا تھا۔ دینی و اخلاقی اقدار دھیرے دھیرے دم توڑتی جا رہی ہیں، غیرت و حمیت کا جنازہ نکل گیا ہے، ہندو ثقافت اور مغربی تہذیب کے ملغوبے نے آکاس بیل کی طرح ہماری قومی اور معاشرتی زندگی کا احاطہ کر رکھا ہے، اسلام کے ساتھ دوٹوک کمٹمنٹ اور دین و عقیدہ کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ نہ صرف اجنبی ہوتا جا رہا ہے بلکہ اس پر بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے لیبل لگا کر نئی نسل کو اس سے دور رکھنے کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۲۰۰۲ء

غیر شرعی رسم و رواج

ہمارے ہاں لڑکی کی پیدائش کو باعث عار سمجھا جاتا ہے اور کئی مائیں اس جرم میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں یا کم از کم طلاق کی مستحق قرار پاتی ہیں کہ ان کی کوکھ سے بیٹے کی بجائے بیٹی نے جنم لیا ہے۔ یہاں عورت کو وراثت کے جائز حق سے جان بوجھ کر محروم کر دیا جاتا ہے، باپ یا خاوند کی وراثت سے اپنا حق وصول کرنے والی خواتین خاندان میں ’’نکو ‘‘ بن کر رہ جاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں وراثت اور جائیداد تک عورت کی رسائی کا امکان ختم کرنے کیلئے اسے شادی کے فطری اور جائز حق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۰۲ء

مسئلہ کشمیر اور برطانوی وزیرخارجہ کا عذرِ لنگ

جب تقسیم پنجاب کے وقت برطانوی حکمرانوں کا مفاد اس میں تھا تو قادیانیوں نے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی اور اسی کے نتیجے میں کشمیر کے خوفناک تنازع نے جنم لیا تھا جو آج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کشمیر کا تنازع کھڑا کرنے میں برطانوی کردار کو تسلیم کریں یا نہیں اور اس پر معذرت کی ضرورت محسوس کریں یا نہیں، لیکن وہ خود کو بچہ قرار دے کر تاریخی حقائق لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۰۲ء

مغرب کے تین دعووں کی حقیقت

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے نسل انسانی کو ایک ایسی تہذیب سے روشناس کرایا ہے جو جدید ترین تہذیب ہے، انسانی سوسائٹی کی خواہشات و ضروریات کو پورا کرتی ہے، اور یہ تہذیب انسانی تمدن کے ارتقاء کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ یہ نسل انسانی کے اب تک کے تجربات کا نچوڑ ہے اور اس سے بہتر تہذیب اور کلچر کا اب کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ اس لیے یہ انسانی تاریخ کی آخری تہذیب اور فائنل کلچر ہے، اس کے بعد اور کوئی تہذیب نہیں آئے گی اور دنیا کے خاتمے تک اسی تہذیب نے حکمرانی کرنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۰۲ء

پاکستان میں مسیحی ریاست کے قیام کا منصوبہ

ہمارے پاس اس کی ایک عملی مثال موجود ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے انگریز گورنر سر موڈی نے چنیوٹ کے ساتھ دریائے چناب کے کنارے پر قادیانیوں کو زمین لیز پر دی تھی جہاں انہوں نے ربوہ کے نام سے شہر آباد کیا۔ اور اب تحریک ختم نبوت کے مسلسل مطالبہ پر اس کا نام تبدیل کر کے ’’چناب نگر‘‘رکھ دیا گیا ہے۔ یہ زمین اب بھی سرکاری کاغذات میں ’’صدر انجمن احمدیہ‘‘کے نام لیز پر ہے لیکن عملاً اس سے کوئی فرق رونما نہیں ہوا کہ وہاں لیز والی زمین پر اب بھی خالصتاً قادیانی کالونی ہے جہاں کسی مسلمان کو رہنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جون ۲۰۰۲ء

اسلام کے خلاف عالمی میڈیا کی یلغار اور ہماری ذمہ داریاں

غزوۂ احزاب میں مشرکین کا محاصرہ ناکام ہوا تو اس پر جناب سرور کائناتؐ نے صحابہ کرامؓ کو یہ بشارت دی کہ یہ مکہ والوں کی آخری یلغار تھی، اس کے بعد مشرکین عرب کو مدینہ منورہ کا رخ کرنے کی جرأت نہیں ہوگی، اب جب بھی موقع ملا ہم ادھر جائیں گے۔ البتہ ہتھیاروں کی جنگ میں ناکامی کے بعد اب مشرکین ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے، عرب قبائل ہمارے خلاف شعر و ادب کی زبان میں منافرت پھیلائیں گے اور خطابت و شعر کے ہتھیاروں کو استعمال میں لائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جون ۲۰۰۲ء

نظام کی ناکامی کا فطری ردعمل

حاجی محمد سرور نے خود اپنی جان اور عزت دونوں کو خطرے میں ڈال کر ہماری غفلت اور کوتاہیوں کو بے نقاب کیا ہے اور مروجہ سسٹم کی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ حاجی محمد سرور اپنے اعتراف کے مطابق چار قتلوں کا مجرم ہے اور اسے قانون ہاتھ میں لینے کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن اس کے ساتھ وہ مروجہ نظام کی فرسودگی اور ناکامی کا عنوان بن کر سامنے آیا ہے اور حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے اس سسٹم کے ذمہ داروں اور شریک طبقات کا منہ چڑا رہا ہے۔ کیا اس کے اس چیلنج کا سامنا کرنے کا ہم میں سے کسی طبقہ یا شخص میں حوصلہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر مراد ولفرڈ ہوف مین کے خیالات

ڈاکٹر مراد ہوف مین جرمنی کے دفتر خارجہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے، نیز مراکش اور الجزائر میں سفیر کے منصب پر فائز رہنے کے علاوہ برسلز میں نیٹو کے ڈائریکٹر انفرمیشن کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے مختلف مضامین و مقالات میں اسلام اور مغرب کی تہذیبی کشمکش کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور اس ثقافتی جنگ کے اسباب و علل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ مستقبل کے امکانات کا نقشہ بھی پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ دسمبر ۲۰۰۰ء

جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی روایت

خلیفہ ہارون الرشید کو ایک دفعہ مسجد نبویؐ میں حضرت امام مالکؒ کی مجلس میں حدیث رسولؐ پڑھنے کا شوق ہوا تو وہ اپنے صاحبزادوں سمیت حاضر ہوا۔ امام مالکؒ کی مجلس عروج پر تھی۔ خلیفۂ وقت نے گزارش کی کہ وہ آپ کی خدمت میں چند احادیث پڑھنا چاہتا ہے مگر دوسرے لوگوں کو تھوڑی دیر کے لیے یہاں سے اٹھا دیا جائے۔ امام مالکؒ نے جواب دیا کہ ’’اگر خواص کی خاطر عوام کو محروم کر دیا جائے گا تو پھر خود خواص کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔‘‘ یہ کہہ کر امام مالکؒ نے مجلس میں حدیث رسولؐ کی قرأت کرنے کے لیے شاگرد کو پڑھنے کی ہدایت دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۰۰ء

ڈاکٹر عبید اللہ غازی سے ملاقات

دوسرا مسئلہ آج کے عالمی ماحول اور ضروریات کے لیے علماء کرام اور اسکالرز تیار کرنے کا ہے جس کا ہمارے ہاں بہت بڑا خلاء ہے اور بدقسمتی سے اس خلاء کو پر کرنے یا کم کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی جا رہی۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو آج کے فکری چیلنجز اور معاصر افکار و نظریات کو سمجھتے ہوں، ان کا تقابلی مطالعہ رکھتے ہوں، دنیا میں مروج مذاہب سے واقفیت رکھتے ہوں، انگلش و دیگر عالمی زبانوں میں گفتگو اور تحریر کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور ابلاغ عامہ کے جدید ترین ذرائع کے استعمال کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۲۰۰۰ء

تذکرہ عمر فاروقؓ اور حسنین کریمینؓ

حضرت عمرؓ کے بارے میں تو ہمارے چیف جسٹس صاحب بھی فرماتے ہیں کہ اگر ملک میں کرپشن کو ختم کرنا ہے اور گڈ گورننس کا قیام عمل میں لانا ہے تو ہمیں حضرت عمر فاروقؓ کے طرز حکومت کو اپنانا ہوگا۔ جبکہ حضرت حسنؓ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ امت کی وحدت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور مسلمانوں میں اتحاد کے لیے ہر وقت محنت کرنی چاہیے۔ اسی طرح سیدنا حضرت حسینؓ کی قربانی اور شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ظلم و جبر کے خاتمہ اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے ٹوٹ جانا ہی اہل حق کی نشانی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۲۰۱۱ء

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی

شیخ صفدرؒ بھی ہم سے جدا ہو گئے۔ علم و دین پر وہ آخر فدا ہو گئے۔ علم تھا ان کا سب سے بڑا مشغلہ۔ ذوق و نسبت میں اس کی فنا ہو گئے۔ وہ جو توحید و سنت کے منّاد تھے۔ شرک و بدعت پہ رب کی قضا ہو گئے۔ خواب میں ملنے آئے مسیح ناصریؐ۔ شرف ان کو یہ رب سے عطا ہو گئے۔ بو حنیفہؒ سے ان کو عقیدت رہی۔ اور بخاریؒ کے فن میں سَوا ہو گئے۔ شیخ مدنی ؒ سے پایا لقب صفدری۔ اور اس کی علمی نہج کی ادا ہو گئے۔ میانوالی کا اک بطل توحید تھا۔ جس کی صحبت میں وہ با صفا ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۹ء

۱۰ اکتوبر کے ’’الاہرام‘‘ پر ایک نظر

مرکزی سرخی مصر کے صدر حسنی مبارک اور فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی ملاقات کے بارے میں ہے جس میں اسرائیل کی تازہ صورتحال، نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے حالیہ وحشیانہ تشدد، اور چند روز میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے کے اہم نکات زیر بحث آئے۔ اس کے ساتھ ہی صفحۂ اول پر خبر ہے کہ عرب سربراہ کانفرنس میں کم و بیش ستر بادشاہوں اور حکومتی سربراہوں کی شرکت متوقع ہے۔ اور مصری صدر کی اہلیہ سوزان مبارک کی سربراہی میں فلسطینی شہداء کے خاندانوں کی امداد کے لیے فنڈ کے قیام کا اعلان ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۰ء

قرآنی اصول اور جناب معین قریشی

حسب منشاء نئے احکام و قوانین وضع کرنے کی یہی خواہش فقہائے اربعہ حضرت امام ابوحنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ ، اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے فقہی اجتہادات کے حوالہ سے تعامل امت سے انحراف کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی خواہش کی کوکھ سے اجماع صحابہؓ کی اہمیت سے انکار جنم لیتا ہے۔ یہی خواہش سنت نبویؐ کو غیر ضروری قرار دینے پر اکساتی ہے۔ اور یہی تقاضا قرآن کریم کے ظاہری احکام کو چودہ سو سالہ پرانے دور کی ضرورت قرار دینے اور اس کی روح کے مطابق نئے احکام و قوانین تشکیل دینے پر آمادہ کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اکتوبر ۲۰۰۰ء

مولوی اور وکیل

زمینی حقیقت یہ ہے کہ مولوی دینی علوم اور شریعت کے قوانین کا علم تو رکھتا ہے مگر مروجہ قوانین اور قانونی نظام کا علم اس کے پاس نہیں ہے۔ جبکہ وکیل مروجہ قوانین اور قانونی نظام کا علم و تجربہ تو رکھتا ہے مگر شریعت کے قوانین و احکام اس کے علم کے دائرہ میں شامل نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ مولوی اور وکیل دونوں مل کر اس ذمہ داری کو قبول کریں اور اس کے لیے کام کریں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے ملک میں دستور اور قانون و شریعت میں سے کسی کی حکمرانی ابھی تک عملاً قائم نہیں ہو سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مئی ۲۰۱۶ء

محبت کی شادیاں اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

ہمارے فاضل جج صاحبان اس پورے پراسیس سے آنکھیں بند کرتے ہوئے محبت اور رضامندی کی شادیوں کو جواز کا سرٹیفکیٹ مہیا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لیے بڑے ادب کے ساتھ ہائی کورٹس کے جج صاحبان سے یہ سوال کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ محبت اور رضامندی دونوں کی اہمیت مسلم ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس محبت اور رضامندی تک پہنچنے کے جو مراحل مروج ہیں، کیا قرآن و سنت نے ان مراحل کے بارے میں بھی کوئی حکم دیا ہے یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ ستمبر ۲۰۰۰ء

افغانستان کے اخبارات پر ایک نظر

اخبار انیس کا 12 اگست کا شمارہ میرے سامنے ہے اور چونکہ یہ دن افغانستان میں ’’یوم استقلال‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے اس لیے زیادہ تر مضامین اور کچھ خبریں اسی حوالہ سے ہیں۔ ’’یوم استقلال‘‘ برطانوی استعمار کے خلاف افغانستان کی جنگ آزادی میں کامیابی اور برطانیہ کی طرف سے افغانستان کی آزادی کو تسلیم کرنے کی خوشی میں منایا جاتا ہے جو اگست 1919ء میں ’’معاہدہ راولپنڈی‘‘ کی صورت میں تسلیم کی گئی تھی۔ اس سے قبل افغانستان پر برطانوی فوجوں کی یلغار رہتی تھی اور متعدد بار کابل، قندھار اور جلال آباد پر برطانوی فوجوں کا قبضہ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۰۰ء

افغانستان میں این جی اوز کا کردار

دوسری شکایت یہ کہ این جی اوز میں بین الاقوامی اداروں کے انتظامی اور غیر ترقیاتی اخراجات کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ یعنی ان کے فراہم کردہ فنڈز میں سے افغان عوام کی ضروریات پر رقم کم خرچ ہوتی ہے اور ان اداروں کے اپنے دفاتر، عملہ کی تنخواہوں، آمد و رفت اور دیگر ضروریات پر اس سے کہیں زیادہ رقوم خرچ ہو جاتی ہیں۔ مثلاً جناب سہیل فاروقی نے بتایا کہ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کا سالانہ فنڈ 200 ملین ڈالر ہے مگر اس کا 80 فیصد انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے اور صرف 20 فیصد رقم افغان عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو پاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اگست ۲۰۰۰ء

افغانستان کے عدالتی اور تعلیمی نظام پر ایک نظر

مولانا پیر محمد روحانی نے بتایا کہ ہم انٹرمیڈیٹ تک ضروریات دین اور ضروری عصری علوم کا مشترکہ نصاب مرتب کر رہے ہیں جو سب طلبہ اور طالبات کے لیے لازمی ہوگا اور اس کے بعد طلبہ کے ذوق و صلاحیت اور ملکی ضروریات کے پیش نظر الگ الگ شعبوں کی تعلیم کا نظام وضع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ہم نے زیرو پوائنٹ سے کام شروع کیا ہے اور دھیرے دھیرے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں اس لیے بہت سا خلاء دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن جب ہم آگے بڑھیں گے اور یہ نظام تکمیل تک پہنچے گا تو سب لوگ مطمئن ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۰۰ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter