حضرت حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ

دوران سفر میری طبیعت ذکر و اذکار کی بجائے مسائل پر غور و خوض اور فکر و تدبیر کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے، اور سفر کا بیشتر حصہ دینی و قومی مسائل پر سوچتے ہوئے گزرتا ہے۔ مگر ایک بار حضرت حافظ صاحبؒ کی علالت کے دوران بیمار پرسی کے لیے چکوال حاضر ہوا اور کچھ دیر ان کی خدمت میں بیٹھا تو واپسی پر بس میں بیٹھتے ہی زبان پر بے ساختہ قرآن کریم کی مختلف سورتوں کی تلاوت جاری ہوگئی اور راولپنڈی پہنچنے تک مسلسل تلاوت کرتا رہا جو میری زندگی کا منفرد تجربہ تھا۔ اور میرے ذہن میں یہی تاثر ابھر رہا تھا کہ یہ حضرت حافظ صاحبؒ کی صحبت کا اثر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۲۰۰۳ء

اقلیتوں کے حقوق اور اسلامی روایات

جمیع بن حاضر الباجی نے تحقیقات کے بعد شکایت کو درست پایا تو فیصلہ صادر کر دیا کہ شہر پر قبضہ چونکہ اسلامی احکام کے مطابق نہیں ہوا اس لیے مسلم افواج سمرقند شہر خالی کر دیں۔ چنانچہ قاضی کا فیصلہ نافذ ہوگیا اور اسلامی فوج پندرہ سال قبل فتح کیا ہوا شہر خالی کر کے باہر کھلے میدان میں نکل آئی۔ یہ منظر دیکھ کر شہر کے باشندے حیران و ششدر رہ گئے اور اصول و احکام کی اس پاسداری کو دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ان کی دعوت پر اسلامی فوج نے پھر شہر میں داخل ہو کر سمرقند کا نظم و نسق سنبھال لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ نومبر ۲۰۰۲ء

سودی نظام کا خاتمہ، غیر روایتی اقدامات کی ضرورت

دہشت گردی کی لعنت کو عام دستوری اور قانونی ذرائع سے کنٹرول کرنے میں کامیابی نہ پا کر اس کے لیے ایمرجنسی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جسے بظاہر قومی سطح پر قبول کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اس طریقہ کار کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا بڑا حصہ عام قانونی اور عدالتی پراسیس سے بالاتر دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ سودی نظام بھی ’’معاشی دہشت گردی‘‘ سے کم نہیں ہے جس کے نقصانات اور تباہ کاریاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اس لیے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات اور طریق کار کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ

مولانا شاہ احمد نورانیؒ مسلکاً‌ بریلوی تھے اور ڈھیلے ڈھالے نہیں بلکہ متصلب اور پختہ کار بریلوی تھے۔ اور میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ جہاں بھی مسلک کی بات آئی ہے ان میں کوئی لچک دیکھنے میں نہیں آئی۔ لیکن اس کے باوجود مشترکہ دینی معاملات میں انہوں نے مشترکہ جدوجہد اور رابطہ و معاونت سے کبھی گریز نہیں کیا۔ سیاسی معاملات ہوں یا دینی، ملک کی مختلف الخیال جماعتوں اور حلقوں کے درمیان رابطہ و مفاہمت کے فروغ اور اتحاد و اشتراک کے اہتمام میں ان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۲۰۰۳ء

بغداد کی تاریخ پر ایک نظر

دجلہ کے کنارے بغداد نامی بستی کافی عرصہ سے آباد تھی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ’’بغ‘‘ نامی ایک بت سے منسوب تھی جبکہ ’’داد‘‘ فارسی کا لفظ ہے جس کا معنی ’’عطیہ‘‘ ہے۔ اس طرح اس کا معنٰی بنتا ہے ’’بغ کا عطیہ‘‘۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ ’’بغ‘‘ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی بولا جانے لگا تھا اس لیے یہ ’’اللہ تعالیٰ کا عطیہ‘‘ کے معنی میں ہے۔ اور بعض مؤرخین کی نکتہ رسی نے اسے ’’باغ داد‘‘ کی صورت میں پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ نوشیرواں عادل اس جگہ باغ میں بیٹھ کر داد انصاف دیا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۰۳ء

حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچویؒ

حضرت مولانا قاضی عبد الکریمؒ نکتہ رس مدرس اور نکتہ شناس دانشور تھے۔ زندگی بھر درس و تدریس، افتاء و ارشاد اور تربیت و سلوک کے ماحول میں گزری۔ لیکن ملکی و قومی معاملات اور دینی تحریکات کے متنوع تقاضوں پر اظہار خیال کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ صاحب مطالعہ اور تجزیہ و تبصرہ کے عمدہ ذوق سے بہرہ ور تھے ۔ ۔ ۔ قاضی صاحب مرحوم کو بعض امور میں اختلاف بھی تھا۔ خاص طور پر وہ پاکستان کی اسمبلیوں میں غیر مسلموں کی نمائندگی کے حق میں نہیں تھے اور اس پر مستقل موقف اور دلائل رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۲۰۱۶ء

میڈیا سے متعلق چند لطائف

جہاں میڈیا کے افراد اپنے قارئین کے ذہنوں کو کنفیوژ کرنے کا رول ادا کرتے ہیں، وہاں سیاسی رہنما اور کارکن بھی میڈیا کو استعمال کرنے میں محتاط نہیں ہوتے۔ اس کا تعلق ہمارے عمومی کلچر سے ہے کہ ہم کسی بھی چیز کے صحیح اور ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کے عادی نہیں ہیں اور ہر چیز سے ذاتی اور وقتی فائدہ حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے لیے عمومی اصلاحی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی تحریک جو ہمیں ذاتی، گروہی، اور وقتی اغراض و مفادات سے بالاتر ہو کر قومی اور اجتماعی سوچ کے تحت اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی طرف متوجہ کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۱۱ء

رفاہ عامہ۔ نظریات کی ترویج کا سب سے مؤثر ذریعہ

یہ این جی اوز تعلیم، صحت اور رفاہ عامہ کے دیگر شعبوں میں سرگرم ہوتی ہیں اور اس کی آڑ میں اپنے فکری و تہذیبی ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ یہ اس وقت مسلم معاشروں میں شکوک و شبہات پھیلانے، ایمان و یقین کو کمزور کرنے، اور اسلامی احکام و قوانین کے حوالہ سے تذبذب کی فضا قائم کرنے کے لیے مغرب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس میں ہماری کوتاہی اور غفلت کا زیادہ دخل ہے کیونکہ ہم رفاہ عامہ کے محاذ پر، عوام کی تعلیم و صحت کی بہتری کے محاذ پر، اور ان کے حقوق و مفادات کے محاذ پر سرگرم نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۲ء

شیطان کا پچھتاوا

حافظ ابن حجر المکی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابلیس نے سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ملاقات کے موقع پر گزارش کی کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہتا ہوں، آپ اس کی قبولیت کی سفارش کر دیجیے۔ حضرت موسیٰؑ نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سفارش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابلیس سے کہہ دیجیے کہ اگر وہ آدمؑ کی قبر کو سجدہ کر دے تو اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے ابلیس کو یہ بات بتائی تو وہ غصے میں آگیا اور کہا کہ میں نے زندہ آدم کو سجدہ نہیں کیا تھا تو اب اس کی قبر کے سامنے کیسے سجدہ ریز ہو سکتا ہوں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷نومبر ۲۰۱۱ء

خیر القرون میں خواتین کے علم و فضل کا اعتراف

حضرت سعید بن الحسیبؒ معروف بزرگ ہیں جنہیں ’’افقہ التابعین‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے شاگردوں میں سے ایک ذہین شخص سے کر دیا۔ شادی کے بعد شب عروسی گزار کر صبح جب وہ صاحب گھر سے نکلنے لگے تو نئی نویلی دلہن نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہیں؟ جواب دیا کہ استاد محترم حضرت سعید بن الحسیبؒ کی مجلس میں حصول علم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے جا رہا ہوں۔ اس پر خاتون نے کہا کہ اس کے لیے وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے، ابا جان کا سارا علم میرے پاس ہے اور وہ میں ہی آپ کو سنا دوں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۱۹۹۹ء

اقوام متحدہ، بی بی سی اور عالم اسلام

اب اگر وہی باتیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل سر جان برٹ کی زبانوں پر بھی آرہی ہیں تو ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ مسلمانوں کا موقف کسی حد تک تو سنا اور سمجھا جانے لگا ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں اصل کام ابھی باقی ہے کہ درج ذیل امور کے اہتمام کے لیے مسلمان حکومتیں منظم اور مربوط لائحہ عمل کی راہ ہموار کریں۔ کیونکہ مغرب اگر فی الواقع مسلمانوں کی ناراضگی کو محسوس کر رہا ہے اور اسے کم کرنے کا خواہشمند ہے تو اس کا کم سے کم درجہ یہی ہو سکتا ہے، ورنہ اس کے علاوہ تو صرف زبانی جمع خرچ ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۱۹۹۹ء

خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ اور حضرت ابو حازمؒ کے درمیان مکالمہ

اہل دنیا اور اصحاب اقتدار کے لیے علم کی عظمت کو ملحوظ رکھنے کا راستہ یہ ہے کہ وہ علم کی ضرورت کو محسوس کریں، اہل علم کو تلاش کر کے ان سے رابطہ رکھیں، ان سے استفادہ کریں، ان کی دعائیں لیں، ان کا احترام کریں اور ان کی نصیحتوں کو غور سے سنیں۔ جبکہ خود اہل علم کے لیے علم کی عظمت کو ملحوظ رکھنے کی صورت یہ ہے کہ وہ علم کے وقار کو قائم رکھیں، اسے اہل دنیا اور اصحاب اقتدار تک رسائی کا ذریعہ نہ بنائیں، استغنا اور بے نیازی کا دامن نہ چھوڑیں، علم کے بدلے دنیا حاصل کرنے کا راستہ اختیار نہ کریں، اور ہر حال میں حق گوئی کو اپنا شعار بنائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جولائی ۱۹۹۹ء

علم و تحقیق اور ہمارا موجودہ تعلیمی نظام

یہ ادراک اور شعور ابھی تک ہمارے قومی مزاج کا حصہ نہیں بن پایا کہ یہ دونوں کام یعنی اسلامی فلاحی معاشرہ کی تشکیل اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر دسترس علم اور تحقیق کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ ان کی بنیاد ہی علم و مطالعہ اور تحقیق و تربیت پر ہے۔ اس کے لیے جہاں اسلامی علوم کی گہرائی تک پہنچنا اور ملت اسلامیہ کی چودہ سو سالہ تاریخ کے اتار چڑھاؤ سے واقفیت ضروری ہے، وہاں ٹیکنالوجی اور صلاحیت و استعداد کے جدید ترین معیار کو قابو میں لانا بھی ناگزیر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جون ۱۹۹۹ء

متعہ اور پاکستان لاء کمیشن

آج کی صحبت میں پاکستان لاء کمیشن کی ایک اور تجویز کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے جو ’’متعہ‘‘ کے بارے میں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ طلاق یافتہ عورت کو متعہ کا حق دینے کے سلسلہ میں مختلف فقہی مکاتب فکر کی آرا کا جائزہ لیا جائے اور اس کو عملی شکل دینے کے بارے میں غور کیا جائے۔ ’’متعہ‘‘ کا لفظی معنٰی فائدہ اٹھانے کے ہیں اور قرآن کریم میں احکام کے باب میں یہ لفظ جن الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے انہیں فقہاء کرام نے متعۃ الحج، متعۃ النکاح اور متعۃ الطلاق کی تین اصطلاحات کی صورت میں پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۱۹۹۹ء

لاہور سے ہیتھرو کا سفر اور مغرب کے خاندانی نظام کی ایک جھلک

دوحہ سے لندن کی فلائٹ میں قطر کا عربی روزنامہ ’’الشرق‘‘ مل گیا۔ یہ بین الاقوامی معیار کا روزنامہ ہے جس میں ہر ذوق کے قاری کو کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ کوئی نیا اخبار سامنے آتا ہے تو میں اس پر مجموعی طور پر ایک نظر ڈالنے کے علاوہ مراسلات کا صفحہ توجہ سے دیکھتا ہوں۔ اس سے اس اخبار کے قارئین کی ذہنی سطح اور اس ملک کی رائے عامہ کے رجحانات کا کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس خیال سے مراسلات کے صفحہ کی چھان بین کی تو اپنے ذوق کے دو مراسلے سامنے آگئے، دونوں کا تعلق خاندانی نظام کے حوالہ سے درپیش مشکلات سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۱۹۹۹ء

چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں اور دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ مغربی ممالک میں بچوں سے محنت مزدوری کا کام لینا ممنوع ہے۔ لیکن یہ دکھائی نہیں دیتا کہ مغرب کی ویلفیئر ریاستیں اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات زندگی کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھاتی ہیں۔ یہ اصل میں اسلام کا اصول ہے اور خلافت راشدہ کے دور میں بیت المال یعنی قومی خزانے سے ہر شہری کی ضروریات زندگی کی لازمی کفالت کا عملی نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۱۹۹۹ء

توہین رسالتؐ قانون ۔ نفاذ کے طریق کار میں تبدیلی

اس سارے عمل کا اصل مقصد توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کو عملاً غیر مؤثر بنانا ہے تاکہ اگر کہیں اس جرم کا ارتکاب ہو تو کوئی شخص الٹا خود پھنس جانے کے خوف سے ایف آئی آر درج کرانے کی جرأت نہ کرے۔ اور اگر کوئی آدمی جرأت کر کے پیش قدمی کر ہی لے تو کمیٹیوں کے چکر میں معاملہ اس قدر الجھ جائے کہ مقدمہ کی باضابطہ کاروائی کی نوبت ہی نہ آئے۔ ورنہ ہمارے ہاں اس کے علاوہ دیگر بعض جرائم پر بھی موت کی سزا کا قانون نافذ ہے ااور ان قوانین کا بھی بسا اوقات غلط استعمال ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جون ۱۹۹۹ء

’’پاکستان بنانے کا گناہ‘‘ اور مولانا مفتی محمودؒ

مولانا مفتی محمودؒ نے جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ میں ان مذاکرات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور خان عبد الولی خان دونوں شیخ مجیب سے ملے اور ان سے دیگر بہت سی باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ’’شیخ صاحب! یہ بات یاد رکھیں کہ آپ مسلم لیگی ہیں اور ہم کانگرسی۔ کل آپ پاکستان بنا رہے تھے تو ہم نے کہا تھا کہ نہ بنائیں اس سے مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ اور آج آپ پاکستان توڑ رہے ہیں تو ہم آپ سے یہ کہنے آئے ہیں کہ اسے نہ توڑیں مسلمانوں کو نقصان ہوگا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۱۹۹۹ء

بھارت کی عظمت اور نجم سیٹھی کا خطاب

نجم سیٹھی کو یہ بھی پریشانی ہے کہ اسلام کی تعبیر میں جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء اسلام اور سپاہ صحابہ میں کس کی اجارہ داری ہوگی؟ مگر وہ اس حقیقت سے جان بوجھ کر لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام کی دستوری تعبیر اور قانون سازی کے حوالہ سے نہ صرف ان مذکورہ جماعتوں میں بلکہ پاکستان کے کم و بیش سبھی دینی حلقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور وہ اپنے اتفاق رائے کا اظہار علماء کے 22 دستوری نکات، 1973ء کے دستور، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، اور وفاقی شرعی عدالتوں کے فیصلوں کی صورت میں کئی بار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۱۹۹۹ء

دینی مدارس اور جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال

عکاظ کا میلہ کوئی مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ اس کی حیثیت ایک کلچرل فیسٹیول کی ہوتی تھی جس میں ناچ گانا بھی ہوتا تھا، شراب نوشی بھی ہوتی تھی، دنگل بھی ہوتے تھے، شعر و خطابت کے مقابلے بھی ہوتے تھے، خرید و فروخت بھی ہوتی تھی، اور عرب کی جاہلی معاشرت کا ہر اچھا اور برا پہلو اس میں نمایاں ہوتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی کا ایک ذریعہ بھی ہوتا تھا۔ اس لیے حضورؐ وہاں تشریف لے گئے اور ان سب سرگرمیوں کے باوجود وہاں آئے ہوئے مختلف قبائل کے لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۱۹۹۹ء

اجتہاد مطلق کا دروازہ کیوں بند ہے؟

سابقہ دو مضامین کے بارے میں ’’اوصاف‘‘ میں ایک دو مراسلے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے کے بارے میں جو کچھ عرض کیا تھا اس کی وضاحت ابھی پوری طرح نہیں ہو پائی اور کچھ ذہنوں میں شبہات موجود ہیں۔ اس لیے آگے بڑھنے سے پہلے اس ضمن میں کچھ مزید گزارشات پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ بعض دوستوں نے سوال کیا ہے کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہونے پر دلیل کیا ہے؟ اور اب اگر کوئی اس درجہ کا کوئی ’’مجتہد‘‘ سامنے آجائے تو اسے اجتہاد مطلق سے روکنے کا کیا جواز ہوگا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۱۹۹۹ء

مجلس احرار اسلام ۔ پس منظر اور جدوجہد

جب استنبول میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور مصطفی کمال اتاترک نے آخری عثمانی خلیفہ کو جلاوطن کر کے خلافت کا باب بند کر دیا تو خلافت کے تحفظ کے لیے متحدہ ہندوستان میں چلائی جانے والی تحریک بھی غیر مؤثر ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی قومی سطح پر تحریک آزادی کے حوالہ سے بعض مسائل پر مرکزی تحریک خلافت اور پنجاب کی تحریک خلافت میں اختلافات نمودار ہونے لگے۔ اس کے نتیجے میں پنجاب کی تحریک خلافت کے لیڈروں نے مرکز سے اپنا راستہ الگ کرتے ہوئے ’’مجلس احرار اسلام ہند‘‘ کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم قائم کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مئی ۱۹۹۹ء

’’طلوع اسلام‘‘ اور چوہدری غلام احمد پرویز

قرآن کریم میں آنحضرتؐ کے زندگی بھر کے تمام تر اعمال و افعال، ارشادات و اقوال اور فیصلوں میں سے صرف چار پانچ باتوں پر گرفت کی گئی۔ یہ ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمت کا تقاضا تھا تاکہ ان چند باتوں پر گرفت کے ساتھ حضورؐ کے باقی تمام ارشادات، اعمال اور فیصلوں کی توثیق ہو جائے۔ چنانچہ قرآن کریم کے آخر وقت تک نازل ہوتے رہنے اور چند باتوں کے علاوہ باقی تمام امور پر خاموش رہنے سے ان سب کی توثیق ہوگئی ہے۔ اس لیے لطیف چودھری صاحب سے گزارش ہے کہ حدیث و سنت کو جو ’’وحی حکمی‘‘ کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ و ۲۷ اپریل ۱۹۹۹ء

نظام مصطفٰیؐ، ایک قومی ضرورت

ملک میں اسلامی نظام کی عملداری خواہ نفاذ اسلام کے عنوان سے ہو، نفاذ شریعت کے نعرہ کے ساتھ ہو، یا نظام مصطفٰیؐ کے ٹائٹل سے ہو، یہ صرف دینی جماعتوں کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک اہم ترین قومی ضرورت ہے۔ اور اسے دینی جماعتوں کے کسی متفقہ مطالبہ سے زیادہ ایک قومی تقاضے اور ملی آواز کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ نفاذ اسلام کی بات ہمارے ہاں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کی زبان پر رہی ہے، لیاقت علی خان مرحوم اس کے علمبردار رہے ہیں، سردار عبد الرب نشتر مرحوم یہ بات کہتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۱۶ء

حضرت عثمان غنیؓ کے جلسے میں بھٹو مرحوم کا تذکرہ

حضرت عثمانؓ بلاشبہ اپنے دور کے مالدار ترین شخص تھے مگر ان کی دولت اسلام کے کام آئی، مسلمانوں کے کام آئی، جہاد میں صرف ہوئی، معاشرہ کے نادار افراد پر خرچ ہوئی، اور غرباء و مساکین کے حصے میں آئی۔ حتیٰ کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد ان کے ایک ساتھی نے کہا کہ میں یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ حضرت عثمانؓ کی زندگی (83 سال) کے دنوں کی تعداد زیادہ ہے یا ان غلاموں کی تعداد زیادہ ہے جنہیں انہوں نے اپنی گرہ سے خرید کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۱۹۹۹ء

ہمارا طرزِ افتاء اور خاموش ذہنی ارتداد

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین سے بالکل ناواقف پڑھے لکھے حضرات میں سے اکثر کی خاموش اور بند زبانوں کے پیچھے ان کے ذہنوں میں بے شمار سوالات اور شبہات قطار باندھے کھڑے ہیں۔ اور مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی باک نہیں کہ ایک محدود تعداد کے سوا کہ جن حضرات کو شخصی طور پر کسی نیک اور صالح بزرگ سے تعلق نصیب ہوگیا ہے، یا کسی پختہ کار اور صاحب دل عالم دین کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت مل رہی ہے، ان کے علاوہ باقی لوگوں کی غالب اکثریت ’’خاموش ذہنی ارتداد‘‘ یا کم از کم دین کے حوالہ سے ’’عدم اطمینان‘‘ کا شکار ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۱۹۹۹ء

مائیکل سکاٹ سے چند باتیں

مائیکل سکاٹ نے کہا کہ یہ بات بھی درست ہے کہ ابلاغ کے جو عالمی ذرائع درست ’’پکچر‘‘ اور ’’معروضی صورتحال‘‘ پیش کرنے کے دعوے دار ہیں وہ بھی حالات کی تصویر کو ایک خاص زاویے سے دکھاتے ہیں اور عالمی حالات کی منظر کشی میں ان کی اپنی ترجیحات کا خاصا دخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسلامی تحریکات کے بارے میں صحیح صورتحال اور ان کا اپنا موقف سامنے نہیں آپاتا۔ مائیکل نے کہا کہ وہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ عالمی ذرائع ابلاغ سے مسلمانوں اور اسلامی تحریکات کا موقف بھی خود ان کی اپنی زبان میں سامنے آنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ و ۹ اپریل ۱۹۹۹ء

کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟

آج کی صحبت میں ایک اہم سوال کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ’’کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟‘‘ یعنی آج اگر کوئی اجتہاد کرنا چاہے تو اس کی کس حد تک اجازت ہے؟ کیونکہ عام طور پر اجتہاد کا دروازہ بند ہوجانے کی بات اس قدر مشہور ہوگئی ہے کہ ’’اجتہاد‘‘ کا لفظ کسی کی زبان پر آتے ہی بہت سے حلقوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی اس حوالہ سے صحیح رخ پر بھی بات کرنا چاہتا ہے تو تذبذب اور ہچکچاہٹ کے کانٹوں سے دامن چھڑانا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اجتہاد کے دو حصے ہیں اور دونوں کی نوعیت اور احکام الگ الگ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اپریل ۱۹۹۹ء

اجتہاد اور اس کے راہنما اصول

حضرت عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت اگر قرآن و سنت سے کوئی حکم نہ ملتا تو حضرت ابوبکرٌ کا کوئی فیصلہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور اگر ان کا بھی متعلقہ مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہ ملتا تو پھر خود فیصلہ صادر کرتے تھے۔ امام بیہقیؒ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام امیر المومنین حضرت عمرؓ کا یہ خط بھی نقل کیا ہے کہ ’’جس معاملہ میں قرآن و سنت کا کوئی فیصلہ نہ ملے اور دل میں خلجان ہو تو اچھی طرح سوچ سمجھ سے کام لو اور اس جیسے فیصلے تلاش کر کے ان پر قیاس کرو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور صحیح بات تک پہنچنے کا عزم رکھو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۱۹۹۹ء

حق مہر اور عورت کی مظلومیت

تقریب میں ایسوسی ایشن کے صدر کوکب اقبال ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی شامل ہے کہ ’’عورت کی طلاق یا مرد کی دوسری شادی کو حق مہر کی ادائیگی کے ساتھ مشروط کیا جائے۔‘‘ یہ مطالبہ پڑھ کر بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہا کہ مہر کے بارے میں اس سطح کے پڑھے لکھے لوگوں کی معلومات کا یہ حال ہے تو ملک کے عام شہری بے چارے کس قطار میں ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مہر اس صورت میں واجب الادا ہوتا ہے جب خاوند فوت ہو جائے یا وہ عورت کو طلاق دے دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۱۹۹۹ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter