مشرق وسطیٰ کی سیاسی ومذہبی کشمکش

جنرل (ر) غلام جیلانی خان صاحب کو یہ شکایت ہے کہ آج کی نسل کو اپنے ماضی بلکہ ماضی قریب کی بھی خبر نہیں ہے، اور وہ خلافت عثمانیہ کے زوال میں عرب دنیا کے کردار، آل سعود کے سیاسی و تاریخی پس منظر، جنگ عظیم اول کے بعد نئی عرب ریاستوں کے ساتھ برطانیہ و امریکہ کے معاہدات، اور موجودہ عالمی نیٹ ورک میں عرب ریاستوں کی حیثیت و مقام سے بالکل بے خبر ہیں، جس کی وجہ سے ہم نہ صرف یہ کہ معروضی حالات کے اصل تناظر اور زمینی حقائق سے آگاہی حاصل نہیں کر پاتے بلکہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۳ء

مغربی ایجنڈا اور جمہوریت

بعض دوستوں کو اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ مصر میں صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اس قدر جلدی کیوں کی گئی ہے اور اسے ایک سال تک بھی برداشت نہیں کیا گیا جبکہ ہمیں حیرت ہے کہ ایک سال تک اسے برداشت کیسے کر لیا گیا ہے؟ ربع صدی قبل الجزائر کے عوام نے ’’اسلامک سالویشن فرنٹ‘‘ کو انتخابات کے پہلے مرحلہ میں اَسّی فی صد ووٹوں کا اعتماد دیا تھا تو اسے دوسرے مرحلہ کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور فوجی مداخلت کے ذریعہ نہ صرف انتخابات کے دوسرے مرحلہ کو منسوخ کر دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

ڈاکٹر امین صاحب کے خیالات

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب نے ’’البرہان‘‘ کے حالیہ شمارے میں ’’الشریعہ‘‘ اور ’’ضرب مومن‘‘ کے مباحثے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ’’ہم سے ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ عبد القادر الجزائری کے حوالے سے جو بحث ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ اور ’ضرب مومن‘ میں جاری ہے، ا س کے بارے میں ہماری رائے کیا ہے؟ مختصراً عرض ہے کہ مفتی ابولبابہ صاحب کا موقف صحیح ہے، لیکن ان کا اسلوبِ اظہار روایتی اور جذباتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

اختلاف رائے کے دائرے، حدود اور آداب

ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ کسی اختلاف کی اصل سطح اور دائرہ کو پیش نظر رکھے بغیر ہر اختلاف میں ایک ہی طرح کا طرز عمل اختیار کر لیا جاتا ہے جس سے اختلافات اکثر اوقات تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے میں مذہبی اختلافات کی مختلف سطحوں اور دائروں کے بارے میں اپنے طالب علمانہ مطالعہ کی روشنی میں کچھ امور کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۱۳ء

بعض مسائل کے حوالے سے امام اہل سنتؒ کا موقف

برادر عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن سلمہ نے ایک خط میں، جو ’الشریعہ‘ کے اسی شمارے میں شامل اشاعت ہے، اس طرف توجہ دلائی ہے کہ گزشتہ شمارے کے ’کلمہ حق‘ میں عید کی نماز سے پہلے تقریر، ہوائی جہاز میں نماز اور نمازِ تراویح کے بعد اجتماعی دعا کے حوالے حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ کے موقف کی درست ترجمانی نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں: مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۳ء

مولانا قاضی مقبول الرحمنؒ

دوسرے بزرگ میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ ہیں جو گزشتہ عشرہ کے دوران اپنے رب کو پیارے ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا آبائی تعلق آزاد کشمیر کے علاقہ باغ سے تھا۔ مدرسہ رحمانیہ ہری پور اور مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ سمیت مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۹۶۶ء میں دورۂ حدیث کر کے فراغت حاصل کی اور وہیں تدریس کے فرائض سر انجام دینے لگے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۳ء

مولانا شاہ حکیم محمد اختر ؒ

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ تعالیٰ ملک کے بزرگ صوفیاء کرام میں سے تھے جن کی ساری زندگی سلوک و تصوف کے ماحول میں گزری اور ایک دنیا کو اللہ اللہ کے ذکر کی تلقین کرتے ہوئے طویل علالت کے بعد گزشتہ ہفتے کراچی میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا روحانی تعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے حلقہ کے تین بڑے بزرگوں حضرت مولانا محمد احمد پرتاب گڑھیؒ ، حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھول پوریؒ اور حضرت مولانا شاہ ابرار الحق آف ہر دوئیؒ سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۳ء

اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار

ایک برس سے جاری بودھ مسلمان فسادات کے باعث تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہ خطہ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر بٹ چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت مندوں کو اب روزانہ کی بنیاد پر خوراک تقسیم ہوتی ہے اور اکہتر ہزار سے زائد افراد کو پناہ دینے کے لیے عارضی خیمے قائم ہیں۔ عالمی ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ تناؤ کی بنیادی وجوہات ختم کیے بغیر دیرپا امن اور ہم آہنگی قائم نہیں ہو سکتی۔ رپورٹ میں کم و بیش آٹھ لاکھ مسلمانوں کی شہریت کے تعین کے معاملے کو حل کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۳ء

دینی مدارس اور نظامِ تعلیم کا اجتماعی دھارا

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورہ کے دوران قاہرہ میں پاکستانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس کے بارے میں بھی کچھ باتیں کی ہیں اور فرمایا ہے کہ ان کی حکومت دینی مدارس کے نظام میں اصلاح کا ارادہ رکھتی ہے اور ان کا پروگرام ہے کہ دینی مدارس کو ملک کے اجتماعی نظام تعلیم کے دھارے میں لایا جائے۔ دینی مدارس اور انہیں اجتماعی نظام تعلیم کے دھارے میں لانے کی خواہش کا ایک عرصہ سے قومی حلقوں میں اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۰۰ء

الشریعہ بنام ضرب مومن

مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے کچھ عرصہ سے ’’ضرب مومن‘‘ اور ’’اسلام‘‘ میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے خلاف باقاعدہ مورچہ قائم کر رکھا ہے اور وہ خوب ’’داد شجاعت‘‘ پا رہے ہیں۔ ہم نے دینی وعلمی مسائل پر اختلافات کی حدود کے اندر باہمی مکالمہ کی ضرورت کا ایک عرصے سے احساس دلانا شروع کر رکھا ہے اور اس میں بحمد اللہ تعالیٰ ہمیں اس حد تک کامیابی ضرور حاصل ہوئی ہے کہ باہمی بحث ومباحثہ کا دائرہ وسیع ہونے لگا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۳ء

عمار خان ناصر اور اس کے ناقدین

ہمارے ہاں بد قسمتی سے یہ مزاج پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ رائے کا اختلاف، تحقیق سے پیدا ہونے والا اختلاف اور علمی مسائل میں تحقیق وتجزیہ کا معاملہ ذاتی پسند و ناپسند اور مخالفت و عناد کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اور ہم جس سے کسی مسئلہ پر اختلاف کرتے ہیں، اسے کسی نہ کسی دشمن کا ایجنٹ اور گماشتہ قرار دیے بغیر خود اپنے موقف کی سچائی پر ہمارا اعتماد قائم نہیں ہوتا۔ تحریک پاکستان میں قیام پاکستان کی حمایت ومخالفت میں دونوں طرف ہمارے بزرگ تھے اور ارباب علم وفضل تھے، مگر اس دور کا لٹریچر ایسے الزامات سے بھرا پڑا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۳ء

نسل انسانی کو درپیش اجتماعی مسائل ۔ خوش آمدید جناب بل کلنٹن!

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر جناب بل کلنٹن کے جنوبی ایشیا کے دورے کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ اس دورے کے اختتام پر چند گھنٹوں کے لیے پاکستان بھی تشریف لانے والے ہیں۔ ان کے اس مختصر دورۂ پاکستان اور پاکستانی لیڈروں کے ساتھ گفت و شنید میں ان کے ایجنڈے اور ترجیحات کے حوالے سے قومی پریس میں مثبت اور منفی پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور دورۂ کے بعد بھی بہت کچھ لکھا جائے گا۔ لیکن اس ساری بحث سے قطع نظر ایک محترم مہمان کے طور پر جنوبی ایشیا اور پاکستان میں تشریف آوری پر ہم جناب بل کلنٹن کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۰ء

شاہ ولی اللہؒ کی تعلیمات اور فکرِ اقبالؒ میں فرق

حضرت شاہ ولی اللہؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے درمیان دو صدیوں کا فاصلہ ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کا دور وہ ہے جب اورنگزیب عالمگیرؒ کی نصف صدی کی حکمرانی کے بعد مغل اقتدار کے دورِ زوال کا آغاز ہوگیا تھا اور شاہ ولی اللہؒ کو دکھائی دے رہا تھا کہ ایک طرف برطانوی استعمار اس خطہ میں پیش قدمی کر رہا ہے اور دوسری طرف جنوبی ہند کی مرہٹہ قوت دہلی کے تخت کی طرف بڑھنے لگی ہے۔ جبکہ علامہ اقبالؒ کو اس دور کا سامنا تھا جب انگریزوں کی غلامی کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد برصغیر کے باشندے اس سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۱۲ء

علم الکلام اور اس کے جدید مباحث

علم العقائد اور علم الکلام کے حوالے سے اس وقت جو مواد ہمارے ہاں درس نظامی کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے، وہ اس بحث و مباحثہ کی ایک ارتقائی صورت ہے جس کا صحابہ کرامؓ کے ہاں عمومی طور پر کوئی وجود نہیں تھا اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام کا دائرہ مختلف جہات میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ ایرانی، یونانی، قبطی اور ہندی فلسفوں سے مسلمانوں کا تعارف شروع ہوا اور ان فلسفوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک و سوالات نے مسلمان علماء کو معقولات کی طرف متوجہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ و ۲۲ مئی ۲۰۰۸ء

مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ

حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں اور اپنے ہزاروں سامعین، دوستوں اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحب محترمؒ اپنے وقت کے ایک بڑے خطیب حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے چھوٹے بھائی تھے اور خود بھی ایک بڑے خطیب تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان میں اپنی خطابت کا سکہ جمایا ہے اور صرف سامعین میں اپنا وسیع حلقہ قائم نہیں کیا بلکہ خطیب گر کے طور پر بیسیوں خطباء کو بھی اپنی لائن پر چلایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ فروری ۲۰۱۳ء

جہادی تحریکات، سی ٹی بی ٹی اور قرآن کا حکم

ایک قومی اخبار کے لاہور ایڈیشن کی رپورٹ کے مطابق چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کے ساتھ ملاقات کے دوران ان پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان جہادی تنظیموں پر پابندی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی مسلمانوں کو جہاد سے روکا جا سکتا ہے جیسے روس کے خلاف جہاد کو نہیں روکا جا سکا تھا۔ مذکورہ رپورٹ میں اعلیٰ عسکری ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کو بتا دیا ہے کہ جہاد مسلمانوں کا مذہبی فریضہ اور اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور دنیا میں مسلمان جہاں بھی جہاد کرتے ہیں وہ دراصل اپنا مذہبی فریضہ نبھاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۰۰ء

دینی مدارس میں عصری علوم

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں عصری علوم کو شامل کرنے کے حوالہ سے مختلف اصحابِ دانش نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس مفید مباحثہ کے نتیجے میں بہت سے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں جن پر غور و خوض یقیناً اس بحث کو مثبت طور پر آگے بڑھانے کا باعث ہوگا۔ اس سلسلہ میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک طالب علم محمد افضل کاسی آف کوئٹہ کا خط پیش خدمت ہے، راقم الحروف کے نام اس خط میں انہوں نے اس مسئلہ پر ایک طالب علم کے طور پر اپنے جذبات و تاثرات پیش کیے ہیں جو یقیناًقابل توجہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

افغان طالبان اور پاکستانی طالبان ۔ مقاصد و اہداف

افغان طالبان نے جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کے حصول اور افغانستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے میدان میں قدم رکھا اور کامیابی حاصل کی جسے القاعدہ کی آڑ میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں نے عسکری یلغار کے ذریعہ ختم کر دیا ۔ ۔ ۔ مگر پاکستانی طالبان کا دائرہ اس سے مختلف ہے، انہوں نے پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھائے اور ان کا آغاز حکومت پاکستان کے ساتھ نفاذ شریعت کے ایسے معاہدات سے ہوا تھا جو ملک کے دستوری فریم ورک کے اندر تھے، مگر ان سے کیے گئے وعدوں کو عمدًا توڑ دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

میڈیا کا محاذ اور اسوۂ نبویؐ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ احزاب سے فارغ ہوئے تو آپ نے مسجد نبویؐ میں ایک اعلان فرمایا کہ اب قریشیوں کو ہمارے خلاف جنگ کے لیے یہاں آنے کی ہمت نہیں ہوگی، اب جب بھی جائیں گے ہم ہی جائیں گے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اب یہ لوگ ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے اور خطابت و شاعری کا محاذ گرم کریں گے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کریں گے، پروپیگنڈہ کریں گے، کردار کشی کریں گے اور عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء

اسلامی نظام کی جدوجہد اور اس کی حکمتِ عملی

ہمارے ہاں پاکستان کی معروضی صورت حال میں نفاذِ اسلام کے حوالہ سے دو ذہن پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ سیاسی عمل اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ اسلام نافذ ہو جائے گا، اور دوسرا یہ کہ ہتھیار اٹھائے بغیر اور مقتدر قوتوں سے جنگ لڑے بغیر اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ ایک طرف صرف پارلیمانی قوت پر انحصار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہتھیار اٹھا کر عسکری قوت کے ذریعہ مقتدر قوتوں سے جنگ لڑنے کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ دونوں طریقے ٹھیک نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

مولانا محمد اشرف ہمدانی ؒ

۱۶ جنوری کو صبح نماز فجر کے بعد درس سے فارغ ہوا تھا کہ ڈاکٹر حامد اشرف ہمدانی نے فون پر بتایا کہ ان کے والد محترم مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا فیصل آباد میں انتقال ہوگیا ہے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور ڈاکٹر صاحب موصوف سے تعزیت و تسلی کے چند کلمات کہے، مگر جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔ مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کے ساتھ میرا پرانا تعلق تھا، وہ اس زمانے میں گوجرانوالہ کی پل لکڑ والا کی مسجد میں خطیب و امام تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

مولانا عبد الستار تونسویؒ

حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ بھی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی دو ہفتے قبل وہ گوجرانوالہ تشریف لائے تھے۔ ایک پروگرام میں شریک ہونے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم میں آرام فرمایا۔ میں صبح اسباق کے لیے مدرسہ میں پہنچا تو طلبہ نے بتایا کہ حضرت تونسویؒ صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں اور مہمان خانے میں آرام فرما رہے ہیں۔ اسباق سے فارغ ہو کر میں مہمان خانے میں گیا تو وہ لحاف اوڑھے لیٹے ہوئے تھے مگر جاگ رہے تھے۔ میں نے سلام عرض کیا، مصافحہ کیا اور دعا کی درخواست کر کے واپس پلٹ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

مولانا فضل الرحمان اور پاکستان میں مسیحی ریاست

مولانا فضل الرحمان سے کافی عرصہ کے بعد گزشتہ جمعرات کو اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ بدھ کی رات ٹیکسلا میں حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ آف اٹک کے حلقہ مریدین کا اجتماع تھا جس میں مجھے بھی شرکت اور کچھ معروضات پیش کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا صلاح الدین فاروقی اس اجتماع کے منتظم تھے جو حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ کے خصوصی تربیت یافتہ حضرات میں سے ہیں اور انہی کے رنگ میں علاقہ میں دینی و روحانی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مئی ۲۰۰۰ء

پارلیمانی محاذ پر پروفیسر غفور احمدؒ کی خدمات

پروفیسر غفور احمد اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اخبارات میں ان کی وفات کی خبر پڑھ کر ماضی کے بہت سے اوراق ذہن کی یادداشت میں کھلتے چلے گئے۔ ان کا نام پہلی بار ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد سنا جب وہ کراچی سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ میرا تعلق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سے تھا اور اس دور میں جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی میں مخاصمت دینی اور سیاسی دونوں محاذوں پر عروج پر تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۱۳ء

دینی مدارس کا نصاب و نظام ۔ والد محترمؒ اور عم مکرمؒ کے رجحانات

دینی مدارس کے نصاب و نظام کے بارے میں بہت سے دوست مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اس حوالے سے آپ کے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا موقف اور طرز عمل کیا تھا؟ یہ سوال بہت سے ذہنوں میں آیا ہوگا، اس لیے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کے تعلیمی رجحانات اور طریق کار کی بابت کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۳ء

دینی مدارس کے نصاب ونظام میں اصلاح

دینی مدارس کے نظام تعلیم اور نصاب میں ضروریاتِ زمانہ کے تناظر میں رد و بدل اور حک و اضافہ کے بارے میں ایک عرصہ سے بحث جاری ہے جو اس لحاظ سے بہت مفید اور ضروری ہے کہ جہاں موجودہ نصاب کی اہمیت و افادیت کے بہت سے نئے پہلو اجاگر ہو رہے ہیں، وہاں عصر حاضر کی ضروریات کی طرف بھی توجہ مبذول ہونے لگی ہے۔ اور صرف توجہ نہیں بلکہ بہت سے اداروں میں عصری تقاضوں کو دینی مدارس کے نصاب و نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا کام بھی خوش اسلوبی سے جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۳ء

نفاذِ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ

ڈاکٹر محمد الظواہری نے ایک ہی سانس میں اتنی باتیں کہہ دی ہیں کہ ان سب کو ایک دوسرے سے الگ کرنا اور ہر ایک پر تبصرہ کرنا مشکل سا ہو گیا ہے، لیکن اس سے اتنی بات ضرور واضح ہو جاتی ہے کہ نفاذ اسلام، جہاد اور جمہوریت کے حوالے سے اس طرح کی کنفیوژن کم وبیش پورے عالم اسلام میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے او رنفاذ اسلام کے خواہاں دینی حلقے ہر مسلم ملک میں اسی قسم کی ذہنی وفکری کشمکش سے دوچار ہیں جو ڈاکٹر محمد الظواہری کے مذکورہ بالا بیان کے بین السطور جھلک رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

چند دینی کارکنان کی وفات

ہمارا عام طور پر مزاج بن گیا ہے کہ وفات پانے والے بڑے بزرگوں کو تو کسی نہ کسی طرح یاد کر لیتے ہیں لیکن کارکنوں کا تذکرہ نہیں ہوتا۔ تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت کے بزرگ تحریکی شاعر سائیں محمد حیات پسروریؒ نے اپنی ایک پنجابی نظم میں اس صورت حال کو اس طرح تعبیر کیا تھا کہ مکان کی خوبصورتی اور مضبوطی میں دیواروں اور چھت کو تو ہر شخص دیکھتا ہے لیکن جو اینٹیں روڑے بن کر بنیادوں میں کوٹ دی جاتی ہیں ان کا کوئی نام تک نہیں لیتا، حالانکہ عمارت کی اصل مضبوطی انہی سے ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

مولانا مفتی محمد اویسؒ

گزشتہ روز گوجرانوالہ کے ایک بزرگ عالم دین اور دار العلوم گوجرانوالہ کے بانی و مہتمم مولانا مفتی محمد اویس انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کافی دنوں سے علیل اور صاحب فراش تھے، دو چار روز سے گفتگو بھی نہیں کر پا رہے تھے، منگل کو صبح نماز کے بعد موبائل فون کے میسج چیک کیے تو ان میں غم کی یہ خبر بھی تھی کہ مولانا مفتی محمد اویس صاحب رات دو بجے انتقال کر گئے ہیں۔ مفتی محمد اویس کا خاندان تقسیم ہند کے موقع پر کرنال سے ہجرت کر کے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں کوٹ بسّی کے مقام پر آبسا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

مولانا سعید احمد رائے پوریؒ

مولانا سعید احمد رائے پوریؒ کے ساتھ میرا رابطہ سب سے پہلے ۱۹۶۷ء میں ہوا جب دینی مدارس اور کالجوں کے طلبہ پر مشتمل ایک مشترکہ طالب علم تنظیم ’’جمعیت طلباء اسلام پاکستان‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ سرگودھا اور لاہور کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ بھی اس تنظیم کی سرگرمیوں کے ابتدائی مراکز میں سے تھا۔ گوجرانوالہ میں ہمارے ایک استاذ محترم مولانا عزیز الرحمنؒ ، میاں محمد عارف اور راقم الحروف اس کے لیے متحرک تھے جبکہ مولانا سعید احمد رائے پوریؒ جمعیۃ طلباء اسلام کی تنظیم و توسیع کے لیے مسلسل سرگرم عمل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۱۲ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter