(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
منکرینِ ختمِ نبوت کے حوالے سے ہم پاکستانیوں کا براہ راست سابقہ قادیانیوں سے ہے۔ قادیانیوں کو ہمارے دستور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا، قادیانیوں کو اسلام کا نام استعمال کرنے سے، اسلامی اقدار کو اپنانے سے ضیاء الحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے روک دیا تھا۔ مرزا طاہر احمد گزشتہ اٹھارہ سال سے لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے دستور کے خلاف، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف، اور اسلامی شعائر کے استعمال سے منع کرنے والے صدارتی آرڈیننس کے خلاف ایک منظم مہم چلا رہا ہے۔ اب جو صورتحال درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے صدرِ مملکت یہ کہہ رہے ہیں کہ میں آئینی ترمیم کر رہا ہوں، جس پر ہمیں خدشہ ہے کہ ان آئینی ترامیم کی زد میں اسلامی دفعات بھی آئیں گی۔ اس لیے کہ جس دن صدر پرویز مشرف واشنگٹن میں تھے، اس دن امریکی کانگریس نے باقاعدہ قرارداد منظور کر کے یہ مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہینِ رسالت کی سزا کے قوانین منسوخ کیے جائیں۔
اس لیے اس پر ہمارے خدشات بجا ہیں، اسی غرض سے دینی جماعتیں منظم ہو رہی ہیں، کل لاہور میں کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی میٹنگ ہے جس میں ان شاء اللہ العزیز پروگرام اور لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ لیکن عملاً اس وقت بغیر کسی اعلان کے تین باتیں ہو چکی ہیں:
- ایک تو گزشتہ اٹھارہ سال سے جداگانہ انتخابات کا قادیانیوں نے بائیکاٹ کیا ہوا تھا، وہ ختم کر دیا گیا ہے۔
- دوسرا، شناختی کارڈ کے فارم پر مسلمان کی تعریف کے لیے عقیدۂ ختمِ نبوت کا حلف نامہ بھٹو مرحوم کے دور سے چلا آرہا تھا، وہ حلف نامہ بھی نکال دیا گیا ہے۔ شناختی کارڈ کے فارم پر جو شخص عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ کا خانہ پُر کرتا تھا وہ مسلمانوں میں شمار ہوتا تھا، اور جو نہیں پُر کرتا تھا وہ غیر مسلموں میں شمار ہوتا تھا۔ لیکن اس حلف نامے کو نکالنے سے قادیانی بھی مسلمان شمار ہوں گے کہ وہ اپنے آپ کو پہلے ہی مسلمان کہتے ہیں اور اب انہیں عقیدہ ختم نبوت کا حلف بھی نہیں اٹھانا پڑے گا۔
- تیسرا کام جو ہوا ہے کہ مسلمان ووٹرز کی فہرست الگ بنتی تھی اور غیر مسلم ووٹرز کی فہرست الگ بنتی تھی۔ اُن کے فارم میں بھی عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ تھا کہ جو حلف نامہ پُر کرے گا وہ مسلمان ووٹروں میں شمار ہوگا، اور جو نہیں پُر کرے گا وہ غیر مسلم ووٹروں میں شمار ہوگا۔ لیکن اب ووٹوں کے فارم سے بھی یہ حلف نامہ ختم کر دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے جو مطالبہ کیا تھا اُس پر زبانی اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن عملی اقدامات کر دیے گئے ہیں۔ اب پاکستان کے سرکاری کاغذات میں قادیانیوں اور مسلمانوں میں عملاً کوئی فرق نہیں رہا۔ کیا یہ صورتحال آپ حضرات کے لیے قابلِ قبول ہے؟ دعا کریں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ دینی جماعتوں کو — حسبِ سابق جیسے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے محنت کرتی ہیں — اللہ تعالیٰ انہیں پھر اس محنت کو منظم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کل تمام مکاتبِ فکر کا اجتماع لاہور میں ہو رہا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح رخ پر اور صحیح طریقے سے محنت کی توفیق عطا فرمائیں۔

