امریکی مفادات اور اسلام آباد کی کمٹمنٹ

   
۲۸ فروری ۲۰۰۶ء

’’آن لائن‘‘ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں امریکی مفادات کے حوالے سے اسلام آباد کی کمٹمنٹ کو بعض معاملات میں مشکوک قرار دیا اور اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نائن الیون کے بعد انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی بنا، تاہم بعض اہم امریکی مفادات کے بارے میں اسلام آباد کی کمٹمنٹ میں کچھ شکوک موجود ہیں۔ رپورٹ میں مستحکم پاکستان کو براعظم ایشیا میں امریکہ کے مفاد میں بتایا گیا ہے مگر دہشت گردی، افغان تعلقات، ہتھیاروں کا پھیلاؤ، مسئلہ کشمیر، پاک بھارت کشیدگی، انسانی حقوق کا تحفظ اور اقتصادی ترقی پر رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی ریسرچ سروس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کافی تعداد میں امریکہ مخالف جذبات موجود ہیں جو صرف اسلامی گروپوں تک محدود نہیں ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی ۲۶ جون ۲۰۰۶ء کی پریس کانفرنس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فوجی حکومت ملک میں سیکولر جمہوری قوتوں کو سائیڈ لائن کر رہی ہے اور اس اقدام سے پیدا ہونے والے خلاء کو انتہا پسند پر کر رہے ہیں۔

امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کی رپورٹ کے اس خلاصے کو سامنے رکھا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے اپنی پالیسیوں کے حوالے سے جو یوٹرن لیا تھا اس سے امریکی حکمران مطمئن نہیں ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو اپنا اتحادی قرار دیتے وقت ان کے ذہنوں میں جو ایجنڈا تھا وہ پوری طرح آگے نہیں بڑھا اور بعض معاملات میں امریکی مفادات کے ساتھ کمٹمنٹ کے حوالے سے شکوک و شبہات کی فضا ابھی تک موجود ہے۔

سب سے پہلے تو امریکی مفادات کے ساتھ اسلام آباد کی کمٹمنٹ کا تصور ہی توجہ طلب ہے کہ اسلام آباد بہرحال ایک آزاد اور خودمختار ملک کا دارالحکومت ہے جو عالمی اور علاقائی سطح پر اپنے مسائل اور اپنی ترجیحات رکھتا ہے، اس کا ایک نظریاتی اور تہذیبی تشخص ہے اور بین الاقوامی تعلقات و معاملات میں خود اس کے اپنے مفادات کی ایک فہرست موجود ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار ملک کا دارالحکومت ہونے کے ناطے اسلام آباد کی کمٹمنٹ اپنے ملک کے نظریے، تہذیب، مفادات و خودمختاری اور ترقی و استحکام کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے۔ یہ ’’کمٹمنٹ‘‘ کے درجہ کا تعلق ایک آزاد ملک کے دارالحکومت کا کسی اور ملک کے ساتھ عجیب سا لگتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ اور اصطلاحات کے معنی بدل گئے ہیں اور نوآبادی کی جگہ ’’اتحادی‘‘ اور غلامی اور وفاداری کی جگہ ’’کمٹمنٹ‘‘ نے لے لی ہے۔

امریکہ نے نائن الیون کے بعد بلکہ اس سے بھی بہت پہلے سوویت یونین کے بکھرنے پر واحد عالمی طاقت کے دعوے کے ساتھ جس نیو ورلڈ آرڈر کا اعلان کیا تھا اس کا اصل مقصد ’’واحد عالمی حکومت‘‘ تھا۔ امریکہ تب سے عالمی طاقت کے طور پر نہیں بلکہ عالمی حکومت کے طور پر اپنے کردار کو آگے بڑھا رہا ہے اور اسی وجہ سے اسے مختلف دارالحکومتوں سے یہ شکایات پیدا ہو رہی ہیں کہ وہ اس کے مفادات کا پوری طرح تحفظ نہیں کر رہیں اور بعض معاملات میں ان کی کمٹمنٹ مشکوک ہوتی جا رہی ہے۔ بات صرف اسلام آباد تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے دوسرے دارالحکومت بھی شکوک و شبہات کی اسی دھند کا شکار ہیں۔

اسلام آباد کی حالت اس حوالے سے سب سے زیادہ قابل رحم ہے کہ ’’اسلام‘‘ اس کے نام کا حصہ ہے اور وہ جس ملک کا دارالحکومت ہے اس کے نام کا آغاز بھی ’’اسلامی‘‘ سے ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے لیے امریکہ کو اپنی وفاداری کا اعتماد دلانا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ پھر اس نے ایٹمی ہونے کا ’’روگ‘‘ بھی پال رکھا ہے جو آج کی عالمی حکومت اور دیگر عالمی قوتوں کے نزدیک ان کے علاوہ کسی اور کے لیے ایک روگ ہی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور جب ایٹم بم کے ساتھ اسلام کا لفظ بھی شامل ہو جائے تو اسلام آباد کا ایٹم بم بہت سے لوگوں کے پیٹوں میں مروڑ کا باعث بن جاتا ہے۔

اسلام آباد کی حالت اس پہلو سے بھی قابل رحم ہے کہ ایک طرف اس ملک کے عوام، سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ ملک کے عوام کو اسلام آباد سے شکوہ ہے کہ

  • اس نے اپنے ملک کے عوام کے جذبات و احساسات اور ملک کے دستوری اور نظریاتی تشخص کی قربانی دیتے ہوئے افغانستان پر امریکی حملے کے لیے لاجسٹک سپورٹ مہیا کی جسے بعض زندہ دل بندوق چلانے کے لیے اپنا کندھا فراہم کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔
  • اسلام آباد نے افغانستان کے بعد کشمیر کے مسئلے پر بھی یوٹرن لے لیا ہے اور اس کی نئی پالیسیوں کے باعث کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی سبوتاژ ہوتی نظر آرہی ہے۔
  • اسلام آباد نے ملک میں اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے ملک کی تہذیبی پیش رفت اور ثقافتی پیش قدمی کا رخ مغرب کی طرف موڑتے ہوئے ملک و قوم کے تمام ذرائع و وسائل اس کے لیے وقف کر دیے ہیں۔
  • ملک کے دینی حلقے شکایت کر رہے ہیں کہ ان کی بہترین نوجوان قوت کو سوویت یونین کے خلاف امریکہ کے مفاد میں استعمال کرلینے کے بعد اسلام آباد اس قوت کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کے لیے امریکہ کے دست و بازو کا کردار ادا کر رہا ہے۔

مگر دوسری طرف امریکہ بھی اسلام آباد سے خوش نہیں ہے اور اسے یہ شکوہ ہے کہ اس نے پاکستان کو ’’اتحادی‘‘ ہونے کے صلے میں جو خدمات سونپی تھیں اور جو ایجنڈا اسلام آباد کے سپرد کیا تھا وہ پورا نہیں ہو رہا۔ اسے جن باتوں پر تشویش ہے ان میں دہشت گردی، پاک افغان تعلقات، ہتھیاروں کا پھیلاؤ، مسئلہ کشمیر، پاک بھارت کشیدگی، انسانی حقوق اور اقتصادی ترقی جیسے مسائل شامل ہیں۔

  • دہشت گردی کے خاتمے میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعاون کی سطح یہ ہے کہ پاکستان کی قومی خودمختاری اور بین الاقوامی سرحدوں کے احترام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی فضائیہ پاکستان کی سرزمین پر بمباری کرتی ہے اور اسلام آباد پوری قوم کے سراپا احتجاج ہونے کے باوجود نیازمندی کے ساتھ واشنگٹن کے آگے سر جھکائے کھڑا ہے۔
  • پاک افغان تعلقات کی صورتحال یہ ہے کہ افغانستان میں پاکستان کی حمایتی اور نیازمند طالبان حکومت کے خاتمے میں اسلام آباد برابر کا شریک ہےتھا۔ اس کے بعد سے کابل کے اسلام آباد اور دہلی کے درمیان معاملات میں جھکاؤ کا رخ ساری دنیا پر واضح ہے۔ مغربی سرحدوں پر پاک فوج کا پہلے جیسا اطمینان اور بے فکری بھی باقی نہیں رہی۔اسلام آباد کی اتنی بڑی قربانی کے باوجود امریکہ کو پاک افغان تعلقات کے حوالے سے تشویش ہے اور اسے شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
  • ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس معاملے میں مغرب کو مطمئن رکھنے کے لیے اسلام آباد نے پاکستان کے قومی ہیرو ڈاکٹر عبد القدیر کو نظربندی کی اذیت سے دوچار کر رکھا ہے اور پوری قوم اپنے ہیرو کی اس تذلیل پر بے چین اور مضطرب ہے۔ مگر امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کو شبہ ہے کہ اسلام آباد اس بارے میں بھی واشنگٹن کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔
  • مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت کشیدگی کے مسئلے پر اسلام آباد وہاں تک آگے جا رہا ہے جہاں کوئی پاکستانی حکومت اب تک سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ آزادی کشمیر کی خاطر لڑنے والوں کی بے وقعتی اور بھارت کے ساتھ اعتماد سازی کے یکطرفہ اقدامات پر پوری پاکستانی قوم سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ مگر واشنگٹن ابھی تک مطمئن نہیں ہے۔
  • انسانی حقوق کا مسئلہ تو ایسا ہے کہ جب تک ملک میں اسلامی اقدار کا نام لیا جاتا ہے، قرآن و سنت کے احکام کی بات کی جاتی ہے، پردہ حیا اور شرم کی حدود کا ذکر ہوتا ہے اور مغربی ثقافت کی کسی بھی بات کو اسلامی اقدار کے منافی قرار دینے کی بات ہوتی ہے، واشنگٹن کا انسانی حقوق کا ہدف پاکستان میں پورا نہیں کیا جا سکتا۔

ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کو اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر امریکہ کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں اور یہ جذبات صرف اسلامی گروپوں تک محدود نہیں ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ کو اصرار ہے کہ اسلام آباد اپنے ملک کے عوام کے جذبات کا احترام کرنے کی بجائے صرف امریکہ کے مفادات کے لیے کام کرے۔ اور پاکستان کے عوام کچھ بھی رائے رکھتے ہوں، اسلام آباد امریکہ کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ پکی رکھے۔ امریکہ کے نزدیک اسی کا نام جمہوریت ہے اور یہی اس کا انسانی حقوق کا معیار ہے۔

باقی رہی بات محترمہ بے نظیر بھٹو کی تو انہیں بہت دیر سے یاد آیا ہے کہ وہ سیکولر جمہوری قوت کی نمائندگی کر رہی ہیں اور انہیں صرف اس وجہ سے سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے۔ وہ یہ بات بھول گئی ہیں کہ اس ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دینے، اسلام کو ملک کے سرکاری دین کا درجہ دینے، دستوری طور پر ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی ضمانت دینے، اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا سہرا اب تک ان کے والد محترم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے سر باندھا جاتا رہا ہے۔ ہمیں ان کے اس اعزاز سے انکار نہیں ہے بلکہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی تدوین میں دستور ساز اسمبلی کی قیادت کرنے کے حوالے سے ہم نہ صرف بھٹو مرحوم کے اس اعزاز کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ بھٹو مرحوم نے جمعہ کی سرکاری تعطیل کا اعلان کیا تھا اور شراب اور جوئے پر پابندی کا حکم صادر کیا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اسی دستور کے تحت دو بار ملک کی وزیراعظم رہ چکی ہیں۔ مگر اب نائن الیون کے بعد ان کی یادداشت نے کام کرنا شروع کیا ہے اور انہیں یاد آیا ہے کہ وہ کسی سیکولر جمہوری قوت کی نمائندہ ہیں۔ ہم اس موقع پر محترمہ بے نظیر بھٹو سے صرف یہی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو امریکی خواہشات کے مطابق ڈھالنے میں اس حد تک آگے نہیں جا سکتیں جہاں تک موجودہ حکومت جا چکی ہے، اس کے باوجود امریکہ اسلام آباد سے مطمئن نہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter